شواہدِ قدرت - مفتی محمود حسن گنگوہی کی روح پرور حمدیہ نظم

شواہد قدرت

قرآں کے سپاروں میں|احساں کے اشاروں میں

ایماں کے سنواروں میں | معصوم پیاروں میں

میں نے تمہیں دیکھا ہے،میں نے تمہیں دیکھا ہے

صدیقؓ کی شفقت میں|فاروقؓ کی سطوت میں
عثمانؓ کی عفت میں | کرارؓ کی ہیبت میں
میں نے تمہیں دیکھا ہے، میں نے تمہیں دیکھا ہے

احمدؒ کی روایت میں | مالکؒ کی درایت میں
سفیاںؒ کی ثقاہت میں | نعماںؒ کی فقاہت میں
میں نے تمہیں دیکھا ہے، میں نے تمہیں دیکھا ہے

ماثور دعاؤں میں | منشور ثناؤں میں
مامون ہواؤں میں | مسحور فضاؤں میں
میں نے تمہیں دیکھا ہے، میں نے تمہیں دیکھا ہے

خورشید کے تاروں میں|راتوں کے ستاروں میں
آنکھوں کے خماروں میں|یاروں کے نظاروں میں
میں نے تمہیں دیکھا ہے، میں نے تمہیں دیکھا ہے

برکھا کی پھواروں میں | ساون کی بہاروں میں
پودوں کی قطاروں میں | کوئل کی پکاروں میں
میں نے تمہیں دیکھا ہے، میں نے تمہیں دیکھا ہے

ہر قطرہٴ باراں میں | ہر ذرّہٴ تاباں میں
ہر برگِ گلستاں میں | ہر روئے درخشاں میں
میں نے تمہیں دیکھا ہے، میں نے تمہیں دیکھا ہے

گلزار میں خاروں میں | کہسار میں غاروں میں
گنبد میں مناروں میں | خلوت میں ہزاروں میں
میں نے تمہیں دیکھا ہے، میں نے تمہیں دیکھا ہے

محفل کے چراغوں میں| انگور کے باغوں میں
سرشار دماغوں میں | ہر قلب کے داغوں میں
میں نے تمہیں دیکھا ہے، میں نے تمہیں دیکھا ہے

سینا کے پہاڑوں میں | چینا کے اکھاڑوں میں
سفینہ کے بگاڑوں میں|نینا کے پچھاڑوں میں
میں نے تمہیں دیکھا ہے، میں نے تمہیں دیکھا ہے

پر جوش شرابوں میں | پُر سوز کبابوں میں
پر رنگ گلابوں میں | پُر کیف حبابوں میں
میں نے تمہیں دیکھا ہے، میں نے تمہیں دیکھا ہے

ہر لحنِ حجازی میں | ہر نقشِ مجازی میں
ہر حسنِ طرازی میں | ہر عشق نوازی میں
میں نے تمہیں دیکھا ہے، میں نے تمہیں دیکھا ہے

دل دوز نگاہوں میں | دل سوز کراہوں میں
بیتاب تباہوں میں | مہجور کی آہوں میں
میں نے تمہیں دیکھا ہے، میں نے تمہیں دیکھا ہے

صحرا کے غزالوں میں | دریا کے اَچھالوں میں
بطحا کے نرالوں میں | طیبہ کے اجالوں میں
میں نے تمہیں دیکھا ہے، میں نے تمہیں دیکھا ہے

(حضرت مولانا مفتی محمود حسن صاحب گنگوہی رحمتہ اللہ علیہ)

مزید پڑھیں