یہ حج و زیارت مبارک ہو تم کو | مولانا نازکی کیفی کی خوبصورت نظم

مبارک ہو تم کو


یہ حج و زیارت مبارک ہو تم کو
متاعِ سعادت مبارک ہو تم کو

وہ ہر سمت انوار، ہر سو تجلی
وہ نورِ ہدایت مبارک ہو تم کو

وہ احرام میں مست و سرشار رہنا
غموں سے فراغت مبارک ہو تم کو

اذانِ سحر کا حرم میں وہ منظر
وہ کیفِ سماعت مبارک ہو تم کو

مبارک ہوں وہ ملتزم پر دعائیں
وہ ذوقِ عبادت مبارک ہو تم کو

وہ میزابِ رحمت کے نیچے نمازیں
بشوقِ اطاعت مبارک ہو تم کو

مبارک ہوں وہ سنگِ اسود کے بوسے
لبوں کی حلاوت مبارک ہو تم کو

وہ رکنِ یمانی پہ ہر دم تجلی
وہ آثارِ رحمت مبارک ہو تم کو

وہ پی پی کے زمزم کو سیراب ہونا
وہ کوثر کی لذت مبارک ہو تم کو

منیٰ میں رمی کا وہ پر کیف منظر
وہ جلووں کی کثرت مبارک ہو تم کو

وہ عرفات میں خیمہ زن ہو کے رہنا
بزہد و قناعت مبارک ہو تم کو

مدینہ کی گلیوں کا دیدار کرنا
وہ دنیا کی جنت مبارک ہو تم کو

قبا و بقیع و احد کی زیارت
بحسنِ ارادت مبارک ہو تم کو

وہ فیضانِ انوارِ روضہ کے باہر
وہ لطف و عنایت مبارک ہو تم کو

مواجہ میں آ کر جلا دل کو دینا
وہ جلوت میں خلوت مبارک ہو تم کو

نکل پڑنا آنسو وہ ذکرِ نبیﷺ پر
یہ دل کی نزاکت مبارک ہو تم کو

وہ روضہ کی جالی پہ سر رکھ کر رونا
دعائے شفاعت مبارک ہو تم کو

دعا ہے یہ کیفی کے قلبِ حزیں کی
یہ حج و زیارت مبارک ہو تم کو

(مولانا نازکی کیفی)

مزید پڑھیں