وہ تنہا تھے لیکن ہزاروں میں چمکے - خوبصورت نعتِ پاک | مولانا نسیم احمد غازی

 وہ تنہا تھے لیکن ہزاروں میں چمکے


حرم کے جو وہ کوہساروں میں چمکے
تو ہستی کی ساری بہاروں میں چمکے

جو تھے چارہ گر، وہ بیچاروں میں چمکے
جو غمخوار تھے، غم کے ماروں میں چمکے

زمین و فلک کے کناروں میں چمکے
وہ تنہا تھے لیکن ہزاروں میں چمکے


درِ آمنہ سے طلوع ہو کے جلوے
حلیمہ کے ٹوٹے ہوئے گھر میں پہنچے

تو رحمت کے بادل وہیں جا کے برسے
عیاں ہو گئیں برکتیں بام و در سے

غریبوں کے گھر، مالداروں میں چمکے
وہ تنہا تھے لیکن ہزاروں میں چمکے


ہمارے محمد نہ ہوتے جو پیدا
تو ہستی نہ ہوتی، عدم سے ہویدا

نہ ہوتا کوئی دلربا اور شیدا
نہ مجنوں، نہ ناقہ، نہ محمل، نہ لیلیٰ

وہ "لولاک لم" کے مناروں میں چمکے
وہ تنہا تھے لیکن ہزاروں میں چمکے


وہ ظلمت کدے میں جو تشریف لائے
ہدایت کے قندیل ہم سو جلائے

جہاں بھر سے باطل کے نقشے مٹائے
اور ایمان و عرفاں کے گلشن سجائے

گلستانِ حق کی بہاروں میں چمکے
وہ تنہا تھے لیکن ہزاروں میں چمکے


قرارِ جہاں بے قراروں میں چمکے
سہارا بنے بے سہاروں میں چمکے

وہ غمخوار، سب غمگساروں میں چمکے
ضعیفوں میں، صدموں کے ماروں میں چمکے

وہ خلقت کے خدمت گزاروں میں چمکے
وہ تنہا تھے لیکن ہزاروں میں چمکے


وہ امت کے مولیٰ، یتیموں کے والی
ضعیفوں کے حامی، غریبوں کے والی

درِ مصطفیٰ پہ جو آیا سوالی
نہ لوٹا درِ مصطفیٰ سے وہ خالی

وہ غمخواروں اور پاسداروں میں چمکے
وہ تنہا تھے لیکن ہزاروں میں چمکے


ہے جنگل، حرم جلوۂ مصطفیٰ میں
کبھی ہوگئے جلوہ فرما حرا میں

کبھی نور برسایا غارِ ثور میں
سجا غارِ ثور ان سے راہِ خدا میں

حرم میں، پہاڑوں میں، غاروں میں چمکے
وہ تنہا تھے لیکن ہزاروں میں چمکے


مٹائی جہاں سے جہالت، ضلالت
سکھائے زمانے کو علم اور حکمت

دیا درسِ الفت، محبت، اخوت
عطا کی غلاموں کو دولت، حکومت

غلام ان کے سب شانداروں میں چمکے
وہ تنہا تھے لیکن ہزاروں میں چمکے


جو ان کے ہوئے شانداروں میں چمکے
وہی رنگ و بو کی بہاروں میں چمکے

بنے دلربا جاں نثاروں میں چمکے
جہاں کے حسیں تر نظاروں میں چمکے

غلام ان کے اپنے مزاروں میں چمکے
وہ تنہا تھے لیکن ہزاروں میں چمکے


محمد ہمارے، پیارے دلارے
سبھی امتی ہیں محمد کے پیارے

صحابہ ہیں ان کے ہدایت کے تارے
اکابر ہمارے، منور منارے

محمد خدا کے دلاروں میں چمکے
وہ تنہا تھے لیکن ہزاروں میں چمکے


وہ صدرِ العلیٰ بن کے محشر میں آئے
وہ منصبِ شفاعت کا ساتھ اپنے لائے

وہ ابرِ کرم بن کے محشر پہ چھائے
تو بخشش کا مژدہ لیے آپ آئے

جہاں کے سبھی غمگساروں میں چمکے
وہ تنہا تھے لیکن ہزاروں میں چمکے


وہی آفتابِ رسالت محمدﷺ
وہی ماہتابِ نبوت محمدﷺ

وہی تاجدارِ شفاعت محمدﷺ
وہی تو سراپا ہیں رحمت محمدﷺ

اے غازی! وہ حق کے دلاروں میں چمکے
وہ تنہا تھے لیکن ہزاروں میں چمکے

(حضرت مولانا نسیم احمد صاحب غازی)

مزید پڑھیں