اہلِ مدینہ کا یزید کے خلاف خروج: اکابرین کا وفد، فکری اختلافات اور جمہور صحابہ کا موقف

اہل مدینہ کا یزید کے خلاف خروج

        سانحہٴ کربلا کے بعد عالمِ اسلام میں پھیلنے والی بے چینی کی لہر کا زیادہ زور حجاز میں تھا جہاں ایک طرف مکہ مکرمہ میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جیسے معرکہ آرا قائد اب تک یزید کی بیعت سے کنارہ کش تھے اور دوسری طرف اہل مدینہ جو خانوادہٴ رسول کے عاشق تھے، اس حادثے پر سکتے کے عالم میں تھے۔ ان لوگوں نے شروع ہی سے یزید کی خلافت کو دلی رغبت سے قبول نہیں کیا تھا، اور اب حادثہٴ کربلا نے ان کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ دیا تھا۔




        اگرچہ یزید نے حادثہٴ کربلا سے بچ جانے والے سادات سے اچھا سلوک کیا تھا اور خصوصاً حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے جانشین علی بن حسین زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ کی بڑی عزت کی تھی مگر اہل مدینہ قاتلینِ حسین کے بارے میں یزید کی خاموشی کو دیکھتے ہوئے یہ سمجھنے پر مجبور تھے کہ حکمران اس ظلم کے پشت پناہ ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ اہل مدینہ خانوادہٴ رسول کے بارے میں حکام سے اندیشے محسوس کرتے تھے، اسی لیے مِسوّر بن مَخْرَمَہ رضی اللہ عنہ نے علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے کہا تھا:

            ’’آپ کو میری کسی کام میں بھی ضرورت ہو تو فرمائیے۔‘‘ وہ بولے: ’’ایسی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘

        مسوّر رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار مجھے (امانتاً) دے دیں۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ (حکمران) لوگ اسے آپ سے چھین لیں گے۔ آپ مجھے دے دیں تو واللہ! جب تک میری جان باقی ہے کوئی اس تلوار تک نہیں پہنچ سکتا۔‘‘

اکابرینِ مدینہ کا وفد یزید کے پاس:

        محرم ۶۱ھ میں سانحہٴ کربلا پیش آیا۔ سادات کا قافلہ یزید کے پاس پہنچا۔ اس نے انہیں عزت و احترام سے مدینہ بھیج دیا۔ اس کے بعد ۶۱ھ کے بقیہ ایام اور ۶۲ھ کا پورا سال پُر امن گزرے۔ اس دوران کہیں کوئی شورش نہ تھی۔ افریقہ، خراسان اور بلوچستان کے محاذوں پر اموی جرنیلوں کی مہمات جاری رہیں۔ یزید کی طرف سے بعض گورنروں کے تبادلے بھی ہوئے اور مکہ میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ساتھ ملانے یا ان پر قابو پانے کی بھی کوشش کی گئی۔

        اس کے ساتھ یزید سانحہٴ کربلا سے اپنی متاثر شدہ ساکھ بحال کرنے کی سعی کر رہا تھا۔ اسی لیے اس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ علیہ کو جو سیاسی معاملات سے بالکل کنارہ کش تھے، شام آنے کی دعوت دی۔ ان کے بیٹے عبداللہ کو خدشہ تھا کہ یزید ان پر غلط اثر ڈالے گا اس لیے اس نے انہیں جانے سے منع کیا مگر وہ چلے گئے۔ یزید نے ان کا اعزاز و اکرام کیا، انہیں متاثر کرنے کے لیے کبھی ان سے فقہ اور کبھی قرآن کے مسائل پوچھتا رہا۔

        سانحہٴ کربلا کے تقریباً دو سال بعد ۶۲ھ کے آغاز میں یزید نے مدینہ کے گورنر عثمان بن محمد کو حکم دیا کہ وہ مقامی شرفاء اور عمائد کا ایک وفد شام بھیج دے۔ حکم پر عمل ہوا اور اہل مدینہ کے کئی بزرگ شام پہنچ کر یزید کے مہمان بنے۔ ان میں عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ، مَعْقِلْ بن سنان رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن عَمرو بن حزم، منذر بن زبیر (بن عوام)، عباس بن سہل (بن سعد) اور عثمان بن عطاء رحمہم اللہ نمایاں تھے۔ یزید دس دن تک ملنے نہ آیا۔ جب ملاقات ہوئی تو اس نے وقت دینے میں تاخیر کا عذر بیان کرتے ہوئے اپنی بیماری کا ذکر کیا اور کہا:

        ’’پاؤں میں مسلسل درد ہے۔ کبھی مکھی بیٹھ جائے تو پہاڑ محسوس ہوتا ہے۔‘‘

        اس کے بعد یزید نے ان حضرات کی بڑی خاطر مدارات کی اور عطایا و ہدایات دے کر رخصت کیا۔

        یزید نے عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ایک لاکھ درہم پیش کیے۔ ان کے آٹھ بیٹوں کو دس دس ہزار درہم کا عطیہ دیا۔ منذر بن زبیر بن عوام کو ایک لاکھ درہم کا ہدیہ پیش کیا۔ وفد کے باقی ارکان میں سے بھی جس نے جو مانگا یزید نے فوراً دے دیا۔

        اس اعزاز و اکرام کے باوجود شام کے دورے کے بعد مدینہ کے اکابر یزید سے سخت متنفر ہوکر واپس آئے اور آتے ہی یزید کے خلاف خروج کا اعلان کردیا۔ یہ حضرات شام سے یہ معلومات لے کر واپس آئے تھے کہ یزید نماز ترک کرنے اور مے نوشی جیسے بعض کبیرہ گناہوں میں ملوث ہے۔

        ان حضرات کا یہ موقف جن روایات کے ذریعے ہم تک پہنچا ہے، وہ سنداً ضعیف ہونے کے باعث محلِ نظر ہوسکتی ہیں تاہم  یہ حقیقت صحیح روایات اور تواتر سے ثابت ہے کہ ان حضرات نے یزید کے خلاف خروج کیا اور اس کی حکومت گرانے کے لیے اپنی جان کی بازی لگا دی۔ اس سے یہ بات طے ہو جاتی ہے کہ خروج کرنے والے صحابہ اور تابعین کے نزدیک یزید کا بعض کبیرہ گناہوں میں ملوث ہونا یقینی تھا۔

اہل مدینہ نے خروج کیوں کیا اور اُمت کی اکثریت اس میں کیوں شریک نہ ہوئی؟

        مدینہ کے ان صحابہ اور تابعین کے نزدیک فاسق کی حکمرانی قبول کرنا جائز نہ تھا بلکہ اس کے خلاف مسلح جدوجہد ضروری تھی۔ ان کے  پیشِ نظر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد تھا:

مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ .
’’تم میں سے جو کوئی کسی گناہ کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ کی طاقت سے روک دے۔‘‘

        محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ علیہ کو ان الزامات پر یقین نہ تھا؛ کیوں کہ وہ شام جا کر یزید سے ملے تھے تو انہیں اس وقت یزید میں ایسی کوئی قابلِ اعتراض بات دکھائی نہ دی تھی۔ اس لیے جب عبداللہ بن مطیع رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا: ’’یزید شراب  پیتا ہے، نماز ترک کرتا ہے۔‘‘ تو محمد بن حنفیہ نے جواب دیا: ’’میں نے اس میں یہ باتیں نہیں دیکھیں جو آپ بیان کر رہے ہیں، میں اس کے پاس رہا تھا۔ میں نے اسے نماز کا پابند، نیک کاموں کا طلب گار اور شرعی مسائل کا طالب پایا ہے۔‘‘

        مگر تنہا  محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ علیہ کی یہ صفائی، اس تاثر کو زائل نہ کرسکی جو اکثر اہل مدینہ کا تھا۔

        دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ صحابہ اور تابعین کی بڑی تعداد یزید کے خلاف کسی تحریک میں شامل ہونے سے گریزاں رہی۔ ظاہر ہے اس کا سبب کوئی لالچ، خوف یا دباؤ نہ تھا۔ جو لوگ قیصر و کسریٰ سے نہ دبے وہ یزید سے بھلا کیا ڈرتے۔ ان کے خاموش رہنے کی وجہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دو ارشادات تھے جن میں حکمرانوں کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور بغاوت کرنے سے منع کیا گیا ہے چاہے حکمران نیک و صالح ہوں یا فاسق و فاجر اور ظالم۔

خروج کے بارے میں جمہور کا مسلک:

        ان ارشاداتِ نبویہ کی بناء پر جمہور امت کا مسلک شروع سے یہ رہا ہے کہ حکمران چاہے فاسق و فاجر ہو مگر جب تک کھلا کھلا کفر کا مرتکب نہ ہو، اس کی بیعت نہ توڑی جائے۔

        یزید کا فسق و فجور مشہور ہو جانے سے امت کی تاریخ میں ایسا پہلا موقع آیا جب مسلمانوں کو اس قضیے سے نبرد آزما ہونا پڑا۔ شاید اس میں بھی اللہ کی تکوینی حکمت تھی کہ اس مسئلے میں عظیم ہستیوں کا طرزِ عمل اسی دور میں سامنے آ جائے اور بعد والوں کے لیے تا قیامت رہنمائی کا کام دیتا رہے۔ پس یزید سے بیعت باقی رکھنے یا توڑنے میں صحابہ و تابعین کے دو طبقات بن گئے۔ اکثریت نے ان فرامینِ نبویہ کو پیشِ نظر رکھا جن میں نماز، جہاد اور معروف میں ہمیشہ امراء کی اقتداء کا حکم دیا گیا ہے، چاہے وہ حکمران اچھے ہوں یا برے۔ ان کے خلاف تلوار اٹھانے کی اجازت اس وقت تک نہیں دی گئی جب تک وہ کھلا کھلا کفر کے مرتکب نہ ہونے لگیں۔

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا موقف:

        اس طبقے کے سب سے سرکردہ فرد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تھے جو علمی و فقہی لحاظ سے بلا شبہ اس وقت پور ے عالمِ اسلام میں سب سے اونچا مرتبہ رکھتے تھے، ان کا طرزِ عمل دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک دلیل تھا، اس لیے اکثریت نے یزید کے فسق و فجور کی شہرت کو نظر انداز کر دینا ہی بہتر سمجھا۔

        عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس موقع پر یزید کے خلاف تحریک کے قائد عبداللہ بن مطیع رضی اللہ عنہ کو منع بھی کیا۔ ان کے پاس گئے اور کہا: ’’میں صرف ایک حدیث سنانے آیا ہوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص (حاکم کی) اطاعت سے دست کشی کرے گا قیامت کے دن اللہ تعالی سے اس حال میں ملے گا کہ اس کے پاس (اپنے بچاؤ کے لیے) کوئی دلیل نہ ہوگی اور جو اس حال میں مرے کہ اس کی گردن میں (حاکمِ وقت کی )  بیعت (کا پٹا) نہ ہو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔‘‘

        عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنے بیٹوں اور خادموں کو بھی جمع کر کے اس لڑائی سے الگ رہنے کی تلقین کی اور کہا:

        ’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ قیامت کے دن ہر عہد شکن کے لیے ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا۔ ہم نے اس شخص (یزید) کی بیعت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل میں کی ہے۔ میں نہیں جانتا کہ کوئی آدمی کسی حاکم سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم (کی بیعت) کے طور پر بیعت کرے اور پھر اس کے خلاف لڑنے کے لیے کھڑا ہو جائے۔ تم میں سے کسی نے یزید کی بیعت توڑی اور اس (نئی حکومت کے) معاملے میں بیعت کی تو میرے اور اس کے درمیان اتمامِ حجت ہوچکا ہے۔‘‘

        یہی مسلک جمہور صحابہ کا تھا۔ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ بھی جو اہلِ مدینہ کے وفد کے ساتھ دمشق جانے کے بعد یزید ہی کے پاس قیام پذیر ہوگئے تھے، اسی وجہ سے خروج میں شریک نہ ہوئے۔

        نعمان بن بشیر، عبداللہ بن مسعدہ فزاری اور ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہم بھی اسی وجہ سے حکومتی عہدوں پر رہے۔

        اور یہی وجہ تھی کہ مختلف محاذوں پر جہاد میں مشغول درجنوں صحابہ اور سینکڑوں تابعین جو شجاعت، دینی حمیت اور تقویٰ میں مشہور تھے، کسی سیاسی کشمکش کا حصہ بنے بغیر اپنی اپنی مفوضہ مہمات میں مشغول رہے، ان حضرات میں مُنذر بن جارود، سنان بن سلمہ، عبدالرحمن بن یزید ہلالی، صلہ بن اشیم، عَمرو بن قتیبہ ، بُدیل بن نعیم، عثمان بن آدم اور عبداللہ بن اسد رحمۃ اللہ علیھم جیسے حضرات تھے۔

        سکوت کا راستہ اختیار کرنے والے اکثریتی طبقے میں خود حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے وارث زین العابدین رحمۃ اللہ علیہ بھی شامل تھے جو مدینہ میں رہتے ہوئے بھی خروج میں نہ شریک ہوئے۔

        تاہم مَعْقِلْ بن سنان رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن مطیع رضی اللہ عنہ اور دیگر اکابرِ مدینہ بھی اپنی جگہ دلائل رکھتے تھے۔ ان کے اجتہاد کے مطابق حکمران ذاتی فسق کی وجہ سے معزول کر دیے جانے کے لائق ہوتا تھا اور اس کے خلاف خروج واجب ہو جاتا تھا۔

        چونکہ یزید کے بارے میں اہلِ مدینہ کی یقینی معلومات یہی تھیں کہ وہ فسق و فجور کا عادی ہے، اس لیے یہ حضرات خروج پر مُصر تھے۔ اس اجتہاد میں یہ بالکل نیک نیت تھے اور ان کی یہ لڑائی خالص اللہ کے لیے تھی۔

خروج کا آغاز:

        اکابرِ مدینہ نے طے کیا کہ وہ حکومت کو خلافتِ راشدہ کے دور کی طرح مہاجرین و انصار کی رضامندی اور شورائیت کے اصول پر چلائیں گے نہ کہ موروثی نظام پر۔ اہل مدینہ نے ایک شہری حکومت ترتیب دی، جس میں عام مہاجرین کی کمان مَعْقِلْ بن سنان رضی اللہ عنہ کو سونپی گئی۔ قریش کے لیے عبداللہ بن مطیع رضی اللہ عنہ کو الگ امیر مقرر کیا گیا۔ انصار عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کے ماتحت آ گئے۔

        ان حضرات نے شہر کا انتظام سنبھال کر یزید کے گورنر عثمان بن محمد بن ابی سفیان اور بنو امیہ کے دیگر افراد کو مدینہ منورہ سے نکال دیا۔

        عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرح دوسرے شہروں میں مقیم اکابر صحابہ، اس تحریک کی کامیابی کے متعلق پُر امید نہ تھے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جو طائف میں مقیم تھے، اس تحریک سے متفق نہیں تھے۔ انہیں جب اس نئی حکومت کی اطلاع ملی تو فرمایا: ’’ان کے دو دو امیر ہیں۔ یہ لوگ مارے جائیں گے۔‘‘

        بہر کیف اہلِ مدینہ کے قائد عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ نے بڑی شدت کے ساتھ لوگوں کو اہلِ شام سے لڑائی پر ابھارا، موت پر بیعت لی کہ لڑتے لڑتے مر جائیں گے لیکن لڑائی سے فرار نہ ہوں گے۔ اس طرح گویا فنا و بقا کے معرکے کی تیاری کی گئی۔
☆☆☆

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic