روحِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم - روح پرور نعت باکلام مفتی رشید احمد لدھیانوی
روحِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم
نام ہے ان کا قریہ قریہ،ذکر ہے ان کا عالم عالم
یاد میں ان کی چشم ہے پر نم،صلی اللہ علیہ وسلم
دکھیا دلوں کا درماں وہ ہے، ہم جیسوں کا شافع وہ ہے
بعد خدا کے وہ ہیں ارحم، صلی اللہ علیہ وسلم
سب نبیوں میں افضل وہ ہیں، کیا رتبہ ہے اللہ اللہ
سب نبیوں میں وہ ہیں خاتم، صلی اللہ علیہ وسلم
فرش پہ بیٹھے عرش کی باتیں، ربّ کی ان پر خاص ہے رحمت
رحمتِ عالم، راحتِ عالم، صلی اللہ علیہ وسلم
حسن کا پیکر، میرا پیغمبر، ساری دنیا کا وہ رہبر
جلوے ان کے پیہم پیہم، صلی اللہ علیہ وسلم
نورِ ہدایت کا وہ مخزن، صاحبِ عرفاں، حاملِ قرآں
خلق میں یکتا، فخرِ دو عالم، صلی اللہ علیہ وسلم
زلفِ معطر، وجہِ منور، دوش پہ ان کے کملی کالی
میرا وہ دلبر، جانِ دو عالم، صلی اللہ علیہ وسلم
ساری خلق میں سندر سندر، رب نے ان کو خوب بنایا
حسنِ مجسم، حسنِ دو عالم، صلی اللہ علیہ وسلم
مظلوموں کا ماویٰ ملجا، کمزوروں کا حامی و ناصر
سب کا محسن، محسنِ اعظم، صلی اللہ علیہ وسلم
رشد و ہدایت ان سے ملی ہے، ان کے در سے سب کو ملی ہے
مرکزِ ایماں، ہادیِ عالم، صلی اللہ علیہ وسلم
شہرِ مدینہ میں مر جاؤں، ان کی غلامی میں مر جاؤں
میری سعادت وہ ہیں ہمدم، صلی اللہ علیہ وسلم
ان کا رشیدی فرقتِ غم میں، ڈوب رہا ہے، ڈوب رہا ہے
پھر سے بلالیں روحِ دو عالم، صلی اللہ علیہ وسلم
(حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب لدھیانوی رحمہ اللہ علیہ)



