صدیق کے لیے ہے خدا کا رسول بس | علامہ اقبال کی منظوم حکایت

صدیقؓ کے لیے ہے خدا کا رسول بس


اک دن رسولِ پاک نے اصحاب سے کہا
دیں مال راہِ حق میں جو ہوں تم میں مالدار

ارشادِ سن کے فرطِ طرب سے عمرؓ اٹھے
اس روز ان کے پاس تھے درہم کئی ہزار

دل میں یہ کہہ رہے تھے کہ صدیقؓ سے ضرور
بڑھ کر رکھے گا آج قدم میرا راہوار

لائے غرض کہ مال رسولِ امیں کے پاس
ایثار کی ہے دستِ نگر ابتدائے کار

پوچھا حضورِ سرورِ عالم نے اے عمرؓ!
اے وہ کہ جوشِ حق سے ترے دل کو ہے قرار!

رکھا ہے کچھ عیال کی خاطر بھی تو نے کیا؟
مسلم ہے اپنے خویش و اقارب کا حق گزار

کی عرض نصف مال ہے فرزند و زن کا حق
باقی جو ہے وہ ملتِ بیضا پہ ہے نثار

اتنے میں وہ رفیقِ نبوت بھی آ گیا
جس سے بنائے عشق و محبت ہے استوار

لے آیا اپنے ساتھ وہ مردِ وفا سرشت
ہر چیز جس سے چشمِ جہاں میں ہو اعتبار

بولے حضور چاہیے فکرِ عیال بھی
کہنے لگا وہ عشق و محبت کا رازدار

اے تجھ سے دیدۂ مہ و انجم فروغ گیر
اے تیری ذات باعثِ تکوینِ روزگار

پروانے کو چراغ ہے، بلبل کو پھول بس
صدیقؓ کے لیے ہے خدا کا رسول بس

(شاعرِ مشرق علامہ اقبال)

مزید پڑھیں