
تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو نظم لیرکس - رازؔ | Tumhein Yaad Ho Ke Na Yaad Ho Lyrics
سفرِ حیات کی داستاں کرے عرض کیا یہ دلِ تپاں رمِ زندگی کا وہ کارواں جو سبک روی سے رہا رواں تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہووہ بشر کا چہرۂ شادماں وہ خوشی کا عرصہ جاوداں نہ خطر نہ خوف یہاں وہاں ہر ایک سمت سکوں، اماں تمہیں یاد ہو






