شکرِ الٰہی اور معرفتِ رب: سکونِ قلب کا واحد راستہ
تمہید: بے قراری کا علاج
آج کا انسان مادی ترقی کے عروج پر ہونے کے باوجود قلبی اطمینان سے محروم ہے۔ پریشانی، اضطراب اور ناامیدی کے سائے ہر طرف منڈلا رہے ہیں۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اس بے چینی کی اصل وجہ کیا ہے؟ اس کی سب سے بڑی وجہ اپنے پاس موجود نعمتوں سے غفلت اور اپنے خالق سے دوری ہے۔ جب انسان کائنات کی وسعتوں اور اپنی ذات کے عجائبات میں غور کرتا ہے، تو اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ تو سر سے پاؤں تک اللہ کی رحمتوں میں ڈوبا ہوا ہے۔
اللہ: جب سب راستے بند ہوں
یا اللہ! جب سب راستے بند ہوں تو آخری پناہ گاہ کون ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو ہر ٹوٹا ہوا دل پکار اٹھتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس سے سوال کرتے ہیں سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔ ہر روز اس کی ایک نئی شان ہوتی ہے۔ جب سمندر میں ہل چل ہوتی ہے، پانی موجیں مارتا ہے اور تیز ہوائیں چلتی ہیں، تو کشتی والے تمام مادی سہاروں کو بھول کر صرف اسی سے فریاد کرتے اور یا اللہ، یا اللہ کہتے ہیں۔
جب مسافر صحراء کی تپتی ریت میں بھٹک جاتا ہے، قافلہ راستہ سے ہٹ جاتا ہے اور اس کی راہ گم ہو جاتی ہے، تو اس کی زبان پر صرف ایک ہی نام ہوتا ہے: یا اللہ!۔ جب دنیاوی طلب گاروں پر کامیابی کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں اور دنیا کے دروازوں سے انہیں دھتکار دیا جاتا ہے، تب ان کی آخری پکار ہوتی ہے: یا اللہ!۔ جب تمام انسانی تدبیریں ناکام ہو جائیں، امیدیں ساتھ چھوڑ جائیں، ذرائع مسدود اور راستے بند ہو جائیں، تو لوگ اللہ ہی سے فریاد کرتے ہیں۔
مصیبت میں پکار کا سلیقہ
جب زمین اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تم پر تنگ ہو جائے اور رنج و الم سے تمہارا دم گھٹنے لگے، تو کسی بندے کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اللہ کو پکارو۔ وہ جو شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ عربی کے ایک شاعر نے اس کیفیت کو کتنے خوبصورت الفاظ دیے ہیں:
تنگ و تاریک زمانہ اور مصیبتوں کے بادلوں میں میں نے دعائے نیم شبی میں تیرا نام لیا، تو ہر صبح روشن و تابناک ہوگئی۔
اللہ ہی کی طرف جاتے ہیں تمام اچھے کلمے، خالص دعائیں، سچی پکاریں، معصومانہ آنسو اور درد انگیز نالے! ضرورت مندی میں جب دنیا سو رہی ہوتی ہے، تب دعائے نیم شب میں اسی کی طرف ہاتھ اٹھتے ہیں۔ حادثات کی کڑی دھوپ میں آنکھیں اسی کی طرف دیکھتی ہیں اور اسی سے فریاد کی جاتی ہے۔
سکونِ قلب اور نامِ الٰہی کی تاثیر
فریاد، پکار اور سوال میں اسی کا نام زبانوں پر ہوتا ہے، جس سے قلب و روح کو وہ سکون ملتا ہے جو دنیا کی کسی دولت سے نہیں خریدا جا سکتا۔ اس نام کی برکت سے مضطرب احساسات اور بوجھل اعصاب ٹھنڈے پڑتے ہیں، بھٹکی ہوئی عقل ٹھکانے لوٹ آتی ہے اور یہ پختہ یقین پیدا ہوتا ہے کہ "اللہ اپنے بندوں سے رحم و کرم کا معاملہ کرتا ہے"۔
اللہ! کتنا پیارا نام ہے، کتنے خوبصورت حروف ہیں، کتنے قیمتی کلمے اور صحیح ترین تعبیر ہے! کیا کائنات میں اس کا کوئی اور ہم نام ہے؟ اللہ کہیے تو فوراً ہی ذہن میں غناء، بقا، قوت و نصرت، عزت و قدرت اور حکمت کا پورا سراپا گھوم جائے گا۔ قرآن پوچھتا ہے: "اس دن کس کی بادشاہی ہوگی؟" جواب آتا ہے: "اللہ واحد و قہار کی!"۔
لفظ اللہ کو اپنی زندگی سے نکال کر دیکھیے، پیچھے کیا بچے گا؟ اندھیرا اور محرومی! اس نام میں لطف و عنایت، مدد و فریاد رسی، محبت اور احسان کا جلوہ دکھائی دیتا ہے۔ تمہیں جو بھی نعمت ملتی ہے، وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ وہ جلال و عظمت والا ہے اور ہیبت و جبروت سے متصف ہے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا:
تیرے جلال و قدوسیت کے بیان کے لیے کتنے ہی الفاظ ڈھالے جائیں، الفاظ و معانی کے سارے ذخیرے تیرے جلال کی تعبیر سے قاصر ہیں.
سوچیں اور شکر بجا لائیں
جب ہم اللہ کو پکارتے ہیں، تو ہمیں اس کی نعمتوں کا اعتراف بھی کرنا چاہیے۔ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ غور کریں گے، تو آپ کو سر تا قدم نعمت ہی نعمت دکھائی دے گی۔ قرآنِ کریم کا واضح اعلان ہے: "اگر تم اللہ کی نعمت کو شمار کرنے لگو تو گن نہ پاؤ گے"۔
آپ کی جسمانی صحت، آپ کے وطن میں امن و امان، آپ کا سکون، کھانا، کپڑا، پانی اور یہ ہوا جس میں آپ سانس لے رہے ہیں—یہ سب اللہ کے تحفے ہیں۔ پوری دنیا آپ کے پاس ہے اور آپ کو احساس بھی نہیں! آپ زندگی کے مالک ہیں لیکن اس کا شعور نہیں۔ اس خالقِ کائنات نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر انڈیل دی ہیں۔ آپ کے پاس آنکھیں ہیں، زبان ہے، دو ہونٹ ہیں، دو ہاتھ اور دو پیر ہیں۔
"تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟" (سورۃ الرحمن)
جسمانی سلامت روی: ایک عظیم سرمایہ
کیا یہ آسان بات ہے کہ آپ اپنے پیروں پر چل پھر رہے ہیں، جبکہ دنیا میں کتنے ہی ایسے لوگ ہیں جن کے پاؤں کاٹ دیے گئے؟ آپ اپنی پنڈلی کے بل کھڑے ہو جاتے ہیں، جبکہ کتنی ہی پنڈلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں اور لوگ بیساکھیوں کے محتاج ہیں۔ کیا آپ اس کے مستحق ہیں کہ پرسکون نیند سوئیں، جبکہ آلامِ زندگی اور بیماریوں نے کتنوں کی نیند اڑا دی ہے؟ آپ پیٹ بھر کر کھاتے ہیں اور سیراب ہو کر پیتے ہیں، جبکہ کتنے ہی وہ ہیں جن کو کھانا میسر نہیں یا بیماریوں نے انہیں لذیذ کھانوں سے روک رکھا ہے۔
اپنے کان کے بارے میں سوچیں کہ آپ کی سماعت درست ہے، آپ دنیا کی آوازیں سن سکتے ہیں۔ آنکھ کے بارے میں سوچیں کہ آپ اندھے نہیں، کائنات کے رنگ دیکھ سکتے ہیں۔ اپنی جلد کو دیکھیے جو برص و جذام جیسی موذی بیماریوں سے محفوظ ہے۔ اپنی عقل کے بارے میں سوچئے کہ آپ عقل والے ہیں، آپ پر جنون یا دیوانگی طاری نہیں۔ کیا یہ سب کچھ شکر کے لیے کافی نہیں؟
نعمتوں کا مادی تبادلہ: ایک تلخ سوال
ذرا ٹھہر کر اپنے آپ سے یہ سوال کیجیے:
یقیناً آپ کا جواب "نہیں" ہوگا۔ تو پھر سوچیے کہ کتنی عظیم نعمتیں ہیں جو آپ کو بلا معاوضہ ملی ہوئی ہیں! کتنے انعامات ہیں جن سے آپ ہر لمحہ لطف اندوز ہو رہے ہیں، لیکن افسوس کہ آپ کو اس کا ادراک نہیں۔ آپ کو گرم روٹی، ٹھنڈا پانی، میٹھی نیند اور عافیت حاصل ہے، لیکن پھر بھی آپ پریشان و مغموم ہیں۔ آپ رنجیدہ اور اداس رہتے ہیں۔
آپ کی پریشانی کی وجہ یہ ہے کہ جو "مفقود" (جو نہیں ہے) اس کے بارے میں تو سوچتے ہیں، لیکن جو "موجود" ہے اس کا شکریہ ادا نہیں کرتے۔ تھوڑا سا مالی نقصان پہنچ جائے تو آپ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں، حالانکہ خوش بختی، خیر، صلاحیت اور ان گنت جسمانی نعمتیں اب بھی آپ کے پاس ہیں۔
"تمہارے نفوس میں بھی تمہارے لئے نشانیاں ہیں، تو کیا تم سوچتے نہیں؟"
عملی زندگی میں تفکر
اپنی جان، اپنے گھر والوں، اپنے کام، اپنی صحت، اپنے دوستوں اور اپنے ارد گرد پھیلی ہوئی اس خوبصورت دنیا کے بارے میں مثبت انداز میں سوچیں۔ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کو جانتے بوجھتے ہوئے بھی ان کا انکار کرتے ہیں یا ناشکری کرتے ہیں، وہ کبھی سکون نہیں پا سکتے۔
یاد رکھیے! جو گزر گیا سو گزر گیا، اسے بدلا نہیں جا سکتا۔ مستقبل ابھی آیا نہیں، اس کی فکر میں آج کو ضائع نہ کریں۔ صرف "آج" آپ کا ہے، اور اس آج میں اللہ کی بے شمار نعمتیں آپ کے گرد موجود ہیں۔
اختتامی دعا: بارگاہِ الٰہی میں التجا
بارالٰہ! ہماری حسرت کو خوشی میں، غم کو سرور میں اور خوف کو امن میں بدل دے۔ اے اللہ! ہمارے دل کی آگ کو یقین کی ٹھنڈک سے بجھا دے اور نفس کے شعلوں کو ایمان کے پانی سے سرد کر دے۔ یا رب! ہماری جاگتی (بے خواب) آنکھوں کو نیند عطا کر، ہمارے مضطرب نفوس کو سکینت عطا کر اور ہمیں جلد ہی کامیابی سے نواز۔ یا رب کریم! بے بصیرتوں کو اپنا نور دے اور کشتگانِ راہِ ضلالت (بھٹکے ہوئے لوگوں) کو اپنا راستہ دکھا دے۔
بارالٰہ! ہمارے وسوسوں کو اپنی نورانی شعاعوں سے زائل کر دے۔ باطل پرست نفس کا گلا حق کے لشکر سے گھونٹ دے۔ شیطان کی چالوں اور تدبیروں کو اپنی مدد و نصرت سے تباہ کر دے۔ اے اللہ! ہمارے غم، رنج، فکر اور قلق کو دور فرما دے۔ ہم خوف اور پست ہمتی سے تیری پناہ چاہتے ہیں، تجھی پر بھروسہ کرتے ہیں اور تجھی سے مانگتے ہیں۔ تو ہی ہمارا حقیقی سرپرست ہے اور تو کیا خوب سرپرست اور مددگار ہے!
خلاصہِ کلام: اپنی زندگی کو "سوچیں اور شکر بجا لائیں" کے اصول پر ڈھال لیں۔ جب شکر گزاری آپ کا مزاج بن جائے گی، تو پریشانیاں خود بخود حقیر لگنے لگیں گی اور آپ کا دل اس اطمینان سے بھر جائے گا جس کا وعدہ اللہ نے اپنے شکر گزار بندوں سے کیا ہے۔

