Hazrat Nooh AS Ka Waqia

 حضرت نوح علیہ السلام

         گم گشتہ انسانیت کو تو حید کی دعوت دینے والے پہلے نبی حضرت نوح علیہ سلام تھے، جو حضرت آدم علیہ السلام  کی وفات کے ایک ہزار سال بعد مبعوث ہوئے۔ ایک ہزار برس تک لوگ اپنے باپ حضرت آدم علیہ السلام  کے دین و مذہب پر تھے مگر پھر شیطان کے ورغلانے سے انہوں نے چند مرحوم بزرگوں کے مجسمے بنا کر انہیں پو جنا شروع کر دیا۔


         یہ بزرگ ودّ،سُواع،یغوث،یعوق اور نسر تھے۔ قوم نے اندھی عقیدت کا شکار ہو کر انہیں حاجت روا اور مشکل کشا مانا  اور ان کے بتوں کی پرستش شروع کر دی۔ یوں پہلی بار بندوں کا اپنے رب سے رشتہ منقطع ہوا۔ حضرت نوحؑ اس رشتے کو جوڑنے آئے ، اس مقصد کے لیے انہوں نے بے پناہ اذیتیں برداشت کیں، آخر ساڑھے نوسو برس کی مسلسل تبلیغ کے بعد بھی جب قوم کی اکثریت اپنی ضد، سرکشی اور گمراہی پر اڑی رہی تو اللہ تعالی کی طرف سے ایک ایسا طوفان آیا جو سب کچھ بہا کر لے گیا۔ صرف حضرت نوحؑ  اور ان پر ایمان لانے والوں کو اللہ تعالی نے کشتی میں سوار کرا کے محفوظ رکھا۔

          طوفان سے بچ جانے والے اہل ایمان صرف اسی  مردوزن تھے ۔ انہی سے دنیا کی آبادی کا از سرنو آغاز ہوا۔ ان کے بیٹوں : سام، حام اور یافث کی اولاد ساری دنیا میں پھیل گئی۔ سام کی نسل سے عرب، فارس اور روم ( یورپ ) آباد   ہوئے ۔ یافث کی اولاد سے ترکوں ، ( چینیوں ) اور یا جوج ماجوج نے جنم لیا۔ حام کی نسل نے افریقہ کو آباد کیا حبشی، سوڈانی قبطی اور بربر ، اسی کی اولاد سے ہیں۔

          حضرت نوح ؑ اپنی اولاد کو اسی عقیدے پر چھوڑ کر گئے تھے جو حضرت آدم ؑکی میراث تھا، جس سے انسان اپنی روح اور دل کی گہرائیوں سے ابھر نے والے ان بنیادی سوالات کے جوابات پالیتا ہے کہ اس کا ئنات میں میری حیثیت کیا ہے۔ کائنات کیسے بنی کس نے بنائی، میں کیسے پیدا ہوا اور کیوں؟ پیدا کرنے والا کون ہے، اتنا بڑا نظام عالم پیدا کرنے سے اس کا مقصد کیا ہے؟ مرنے کے بعد کیا ہوتا ہے؟ اچھے اور برے کاموں کا بدلہ ملتا ہے یا نہیں؟ ملتا ہے تو کہاں اور کیسے؟ صحیح عقیدہ ان تمام سوالات کے جواب دیتا ہے اور اسے دل کی گہرائیوں سے مان کر نسل انسانی بنیادی سوچ کے لحاظ سے ایک کنبہ بن جاتی ہے، پھر لسانی، علاقائی اور اقتصادی وثقافتی اختلافات ان کے درمیان اجنبیت کی دیوار کھڑی نہیں کر سکتے 

عاد و ثمود

             مگر حضرت نوح ؑ کے چند سو برس بعد انسانیت پھر گمراہی کے راستے پر چل پڑی تھی۔ چنانچہ ایک بار پھر انبیاءکرامؑ کی بعثت کا سلسلہ شروع ہوا، پے در پے رسول بھیجے گئے ۔ جزیرۃ العرب کی وادی میں آباد بت پرست قومِ عاد کی طرف حضرت ہود ؑ  مبعوث ہوئے ۔ یہ قوم طاقت ، قد و قامت اور جنگجوئی میں بے مثال تھی اور اسی گھمنڈ میں اس نے حضرت ہودؑ  کی تکذیب کی ، تب اللہ کی طرف سے تیز آندھی کا عذاب آیا، جس نے ان کا استیصال کر دیا۔

          حجاز سے شام جانے والی شاہراہ پر وادیِ حجر میں آباد قوم "ثمود"، فنِ تعمیر میں اپنی نظیر آپ تھی۔ پہاڑوں کو تراش کر مضبوط مکانات بنانا ان کے بائیں ہاتھ کا کمال تھا۔ ان کی اصلاح کے لیے حضرت صالح ؑ مبعوث ہوئے ۔ قوم نے انہیں جھٹلایا اور اپنی بد عقیدگی ترک نہ کی ۔ آخر ایک زور دار کڑک  اور زلزلے نے انہیں ہلاک کر دیا۔



         قوم عاد اور ثمود سمیت عرب کی کئی قومیں ایسی تھیں جن کا نام ونشان بالکل مٹ گیا ۔ انہیں عرب بائدہ کہا جاتا ہے، ان کا ذکر صرف آسمانی کتب ، لوک داستانوں اور قدیم شاعری میں باقی رہ گیا۔

(تاریخِ امتِ مسلمہ ۸۶/۱)

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic