بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ دنیا
یہ دنیا اتنی ہی عجیب ہے جتنی ہماری یہ زندگی اور
جسم و جان - ہم گوشت پوست کا ایک جسم ہیں جو سوچتا اور حرکت کرتا ہے، جس میں ایک
چھوٹا سا دل ہماری پیدائش سے لے کر آج تک کسی وقفے کے بغیر دھڑکتا چلا آ رہا ہے،
جس میں ہزاروں میل لمبی بال جیسی باریک شریا نیں ایک ایک خلیے کو خون فراہم کرنے
کا کام کر رہی ہیں ۔ ہمارے یہ وجود سو برس پہلے یقینا نہیں تھے اور سو برس بعد
یقینا نہیں ہوں گے۔ پس جس طرح ہم فانی ہیں، اسی طرح یہ دنیا بھی ایک عارضی مقام ہے
جو ہمیشہ تھا، نہ رہے گا، مگر اس عارضی مقام کو بھی کس قدر بالغ حکمتوں، عجیب
نزاکتوں اور بھر پور انتظامات کے ساتھ بنایا گیا ہے، جتنا سوچنے اور تحقیق کیجئے
عقل دنگ ہوتی چلی جاتی ہے اور یہ سوال پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ اُبھرتا رہتا ہے
کہ آخر یہ دنیا کس نے بنائی اور اس کا مقصد کیا ہے؟ جولوگ ان سوالات کے جوابات کے
لیے کسی کی رہنمائی کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اور غیب " پر یقین کرنے کے لیے
تیار نہیں، وہ ہمیشہ اس بارے میں شکوک و شبہات ہی
کا شکار رہے ہیں اور کوئی بھی تحقیق انہیں یہ معمہ حل کر کے نہیں دے سکتی ۔
ہاں جو بندے خالق کے وجود پر یقین رکھتے ہیں ، رسولوں کی حیثیت تسلیم کرتے ہیں اور آسمانی تعلیم کی ضرورت کو مانتے ہیں، ان کے لیے یہ سوالات کبھی معما نہیں رہے؛ کیوں کہ ہر نبی کی ابتدائی تعلیمات ان سوالات کے جوابات دیتی ہیں۔ یہ دنیا ایک اللہ نے بنائی ہے، وہی خالق کا ئنات ہے، وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا ، اس کو کسی نے نہیں بنایا، اس کی کوئی اولاد نہیں ۔ وہ سب کچھ جانتا ہے، ہر چیز اس کے قبضہ قدرت میں ہے، اس نے انسانوں کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے، اس دنیا کو آزمائش کی جگہ بنایا ہے، کامیاب لوگوں کے لیے انعام کے طور پر جنت تیار کی ہے اور نا کام لوگوں کو سزا دینے کے لیے جہنم کو شعلہ زن کیا۔
یہ ہیں موت وحیات کے اسرار کے متعلق وہ حقائق جو
گزشتہ کتب آسمانی میں بھی موجود تھے اور اللہ تعالی کی آخری کتاب قرآن مجید میں
زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔
چونکہ یہ چیزیں عقائد سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کو
جانے بغیر انسان کی بے چین روح کبھی مطمئن نہیں ہو سکتی ، اس لئے انہیں وحی الہی
نے خود کھول کھول کر بیان کیا ہے۔
کچھ ایسے سوالات بھی ہیں جن کا محرک معلومات کا
شوق اور آگہی کا ولولہ ہے۔ انسان کا ذوق تجسس اسے آمادہ کرتا ہے کہ وہ ان باتوں کا
پتا چلائے کہ ان کے آباؤ اجداد کون تھے، کیسے تھے؟ ان سے پہلے کون لوگ آباد تھے،
دنیا کب سے آبادچلی آرہی ہے ، اس پر کون کون سی قو میں آئیں؟ ان کی تہذ بیں کیا
تھیں؟ رہن سہن کیسا تھا؟
یہ سوالات تاریخ سے تعلق رکھتے ہیں جن میں سے بعض
کے جوابات اللہ کی کتابوں اور رسولوں کے کلام میں مختصرامل جاتے ہیں۔ ماضی کا شعور
انسان کی نظریاتی «روحانی علمی اور عملی تربیت کے لیے بہت مفید ہے، اس لیے وحی اوررسولوں کے کلام میں ماضی کے متعلق بہت سے حقائق مل جاتے ہیں مگر
وحی اور رسالت کا اصل مقصد انسانوں کی ہدایت ہے نہ کہ گزشتہ لوگوں کے حالات جمع
کرنا۔ اس لیے ماضی کے تفصیلی حالات جاننے کے لیے ہمیں اس علم کی طرف رجوع کرنا پڑے
گا جس میں ہر دور کے اہم حالات کو مرتب کیا جاتا ہے، یہی علم علمِ تاریخ کہلاتا
ہے۔
علمائے تاریخ کے مطابق " تاریخ وہ علم ہے جس
میں گزشتہ قوموں، حکومتوں، ملکوں اور غیر معمولی شخصیتوں کے حالات کو زمانے کے
لحاظ سے ترتیب وار جمع کیا جاتا ہے ۔"
دنیا کب بنی ؟
یہ قضیہ شروع سے متنازعہ چلا آرہا ہے کہ دنیا کب بنی؟
اور انسانی کاو جود کب سے ہوا ؟
دورِ حاضر کے ماہرینِ ارضیات تو زمین کے وجود کو کروڑوں سال اور انسانی وجود کو لاکھوں سال پہلے قرار دیتے ہیں مگر یہ صرف ایک قیاس ہے جس کی کوئی تاریخی روایت تائید نہیں کرتی۔ بر صغیر کے نامور مورخ مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی ؒ نے دنیا کی ابتداء کے متعلق اہل علم کے اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کو راجح قرار دیا ہے کہ ابتدائے آفرینش چھ ہزار سال پہلے ہوئی ۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ لکھتے ہیں:
'' اس
مسئلے کا آخری فیصلہ مشکل ہے، اس لیے کہ ہمارے پاس علم کے وسائل بہت کم ہیں اور اس
حقیقت کے آخری فیصلے کے لیے ناکافی ہے، نیز آثار قدیمہ سے بھی اس کا کوئی یقینی
فیصلہ نہیں ہو سکتا۔
البتہ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اقوام عالم میں چینی،ہندی اور مصری سب سے قدیم قومیں ہیں اور مورخینِ فرنگی کا یہ دعوی ہے کہ سطح زمین پر ان اقوام کا وجود تقریبا چھ اور دس ہزار سال کے درمیان ثابت ہے۔
نیز یہ امر بھی تسلیم شدہ ہے کہ باو جود زبردست تحقیقات کے کسی قوم کے حالات و واقعات کی تاریخ کا پتا سات ہزار سال سے پہلے نہیں ملتا۔
حافظ ابن عساکرؒ نے اس بارے میں متعدد اقوال نقل کیے ہیں۔ انہوں نے محمد بن اسحاق سے نقل کیا ہے کہ حضرت آدمؑ سے حضرت نوحؑ تک ایک ہزار دو سو برس (۱۲۰۰)،حضرت نوح ؑسے حضرت ابراہیمؑ تک ایک ہزاربیالیس(۱۰٤۲) برس، حضرت ابراہیم ؑ سے حضرت موسیٰ ؑ تک پانچ سو پینسٹھ(۵٦۵) برس ، حضرت موسیٰ ؑ سے حضرت داؤدؑ تک پانچ سو بہتر (۵۷۲)برس ، حضرت داؤد ؑسے حضرت عیسیٰ تک تیرہ سوچھپن(١٣٥٦) برس اور حضرت عیسیٰ ؑسے حضرت محمد مصطفی ﷺ تک چھ سو برس گزرے ہیں ۔ اس طرح حضرت آدمؑ کی وفات سےحضرت محمدﷺ تک پانچ ہزار بیس سال بنتے ہیں۔ چونکہ حضرت آدم ؑ نے دنیا میں نوسو ساٹھ سال گزارے ہیں، انہیں شمار کیا جائے تو حضرت آدم ؑکی دنیا میں آمد سے رسول اللہ صلی ﷺ کی ولادت باسعادت تک چھ ہزارہ دوسو پچانوے(٦٢٩٥)سال بنتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(تاریخِ امت مسلمہ ۱/۸۲)

