دار ہجرت
مکہ سے دوسو نو میل (۳۳۶ کلومیٹر) دور "یَثرِب" وہ مقام تھا جسے اللہ تعالی نے اپنے آخری نبی کی ہجرت،مسلمانوں کی حفاظت، نصرت اوراسلام کی قوت و شوکت اور توحید کی دعوت واشاعت کے لیے منتخب کرلیا تھا۔ یہ شہر جغرافیائی لحاظ سے اتنا محفوظ تھا کہ حضور ﷺ اور صحابہ کرام یہاں کسی بھی دشن سے بھر پور مزاحمت کرسکتے تھے۔ یہ جنوبی سمت گنجان آبادیوں اور کھجوروں کے گھنے باغوں میں اس طرح گھرا ہوا تھا کہ اگرکوئی گروہ حملہ کرتا تواسے قطار بناکرمختلف تنگ راستوں اور گلیوں میں گھسنا پڑتا اور یوں منتشر حالت میں اسے آسانی سے پھانسا جاسکتا تھا۔ شہر کا مشرقی حصہ جو "حرۂ واقم " اور مغربی حصہ جو"حرۂ وِبرہ" کہلاتا تھا آتش فشاں پہاڑوں کے لاوے سے بھرا ہوا تھا، جس میں کسی قافلے کا تو کجا تنہا آدمی کا چلنا بھی مشکل تھا۔
شہر کا صرف شمالی حصہ ہموار اور کھلا تھا۔ عام قافلوں کا راستہ بھی اسی طرف سے تھا اور کوئی دشمن حملہ کرسکتا تھا تو اس جانب سے۔ مگر یثرب کے شہری اپنے شہر کی بھر پور مدافعت کرسکتے تھے، اس مقصد کے لیے انہوں نے جگہ جگہ مضبوط قلعہ نما حویلیاں بنائی ہوئی تھیں ، جنہیں "آطام" کہا جاتا تھا۔ یثرب کا سیاسی ماحول بھی مکہ سے مختلف تھا۔
یہاں کسی ایک قبیلے کی اجارہ داری نہیں تھی۔ یمن سے آئے ہوئے دو قحطانی قبیلے:اوس اور خزرج اپنی الگ الگ شناخت اور حیثیت رکھتے تھے۔ یہ دونوں قبیلے سپہ گری اور شجاعت میں بے مثال تھے۔ پھر سوداگری ، صنعت کاری اور کتابی علوم ، میں ممتاز یہود کی اپنی ایک پہچان تھی جو شہر کے مضافات میں قلعہ بند بستیوں میں رہتے تھے۔
یثرب کا پہلا مسلمان:
ان دنوں اوس اور خزرج میں سخت دشمنی چل رہی تھی۔ آئے دن ان میں جھڑپیں ہوتیں جن میں متعدد آدمی مارے جاتے تھے۔ ۷ نبوی میں اوس کے خاندان بنو عبدالاشہل کے کچھ لوگ مکہ آئے تاکہ قریش کو خزرج کے خلاف اپنا اتحادی بنالیں۔
حضور ﷺ کو ان کی آمد کا پتا چلا تو ان سے ملے اور فرمایا: میں تمہیں اس سے بہتر بات نہ بتاؤں ۔ یہ کہہ کر آپ نے انہیں اسلام کی دعوت دی جسے سن کر بنو عبد الاشہل کے ایک کم عمر نوجوان اِیاس بن معاذ نے کہا۔
"بھائیوں" اللہ کی قسم! اس بات کو قبول کرلو جو اس سے کہیں بہترہے جس کے لیے تم آئے ہو۔
مگرباقی لوگوں نے اسے چپ کرادیا اور رسول اللہ ﷺ کی دعوت پر دھیان نہ دیا۔
جنگ بُعاث اور اس کے اثرات:
اَوس کے لوگ قریش کو اپنا اتحادی بنانے میں کامیاب نہ ہوئے مگراس کے باوجود انہوں نے ۷ نبوی میں خزرج سے گھمسان کی جنگ لڑی جو"جنگ بُعاث" کہلاتی ہے۔ جنگ سے پہلے وہ اپنے ہمسایہ یہودی قبائل بنونضیر اور بنوقریظہ کو حلیف بناکر اپنا پلہ بھاری کرچکے تھے چنانچہ بنوخزرج کوجان توڑ لڑائی کے بعد پسپا ہونا پڑا۔
اس خونریزجنگ میں اوس اورخزرج کے تقریبا سبھی عمررسیدہ اور جہان دیدہ سردار قتل ہوگئے ہوں اللہ تعالی نے رسول اللہ ﷺ کی یہاں آمد سے قبل ایسے حالات بنا دیے کہ یہاں قیادت کے لیے جگہ خالی تھی ۔
یہود اس جنگ کے بعد فاتح گروہ کے حلیف کی حیثیت سے نمایاں ہوچکے تھے۔ اس سے اوس اور خزرج دونوں کو یہ خدشہ لاحق ہوگیا کہ یہودی دوبارہ یہاں غالب قوت کی شکل اختیار کرلیں گے ۔ اس خدشے نے فریقین کے سمجھدار لوگوں کو جو پہلے ہی لڑائیوں کے ان سلسلوں سے تنگ آچکے تھے ، مجبور کیا کہ وہ کسی طرح مستقل اور پائیدار امن کی صورت نکالیں ۔ دونوں قبیلوں کی سیاست میں خزرج کے رئیس عبد اللہ بن ابی بن سلول کا ایک اہم کردار تھا جو جنگ بعاث میں غیر جانب دار رہا تھا۔ وہ ہوشیاری، چرب زبانی اور موقع شناسی میں سب سے بڑھ کر تھا۔ اوس اور خزرج کے سرداروں نے سوچ لیا تھا کہ آئندہ لڑائیوں سے بچنے اور مستقل امن قائم رکھنے کی صورت یہی ہوسکتی ہے کہ اُبَی کو یثرب کا حکمران مان لیا جائے اور شہر کو حکومت کے جدید ڈھنگ پر چلایا جائے۔
اہل یثرب کا پہلا قافلہ مشرف بہ اسلام ہوا (۱۰نبوی):
اوس اور خزرج کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ مشیتِ الہیہ عن قریب انہیں اُس سعادت عظمی سے نوازنے والی ہے جس میں ان کا کوئی شریک و سہیم نہ ہوگا۔ طائف سے واپسی کے فورا بعد،۱۱ نبوی کے اجتماع حج میں حضور ﷺ حسب معمول قبائل کو اسلام کی دعوت دینے نکلے۔ منی میں سب بڑے جمرے کے قریب پہاڑ کی ایک گھائی میں آپ کو قبیلہ خزرج کے کچھ لوگ ملے جو یثرب سے حج کے لیےآئےتھے۔رسول اللہ ﷺ نے انہیں توحید کی دعوت دی اور قرآن مجید پڑھ کرسنایا۔
یثرب کے لوگ اپنے پڑوسی یہودیوں سے اکثر یہ سنتے رہتے تھے کہ عنقریب ایک نبی کا ظہور ہونے والا ہے۔ حضور اکرم ﷺ کی نورانی صورت ، اعلیٰ اخلاق اور پاکیزہ دعوت نے انہیں بہت متاثر کیا اور انہیں یقین ہوگیا کہ یہ وہی نبی ہیں جو انسانیت کے نجات دہندہ ہوں گے، پھر انہیں یہ بھی محسوس ہوا کہ اپنے وطن سے خانہ جنگی کے مستقل خاتمے اور وطن کی معیشت و زراعت پر مسلط یہودیوں سے نجات کی صورت بھی یہی ہوسکتی ہے کہ وہ سب اس نبی پرایمان لےآئیں۔ وہ کہنے لگے: ہم اپنی قوم کو اس حال میں چھوڑ کر آئے ہیں کہ جتنا شر اور فساد ان میں ہے اتنا دنیا میں کہیں اور نہیں۔ ممکن ہے اللہ تعالی آپ کے ذریعے ہمیں متحد کردے۔
یثرب کے یہ چھ افراد جو سب سے پہلے ایمان لائے: اسعد بن زُرارہ، عوف بن عَفراء، رافع بن مالک،جابر بن عبداللہ، قعبہ بن عامر اورعقبہ بن عامرﷺ تھے۔ انہوں نے وطن جاکر اسلام کی دعوت دینا شروع کی اور چند دنوں میں برطرف یہ نیا پیغام پھیل گیا، اس وقت بہت سے لوگ مسلمان ہوگئے۔یثرب کے گھرگھر میں چرچا ہونے لگا کہ مکہ میں ایک سچے نبی کا ظہور ہواہے، جنہیں اپنی قوم کی طرف سے سخت تکالیف کا سامنا ہے، وہ قریشی اور ہاشمی ہیں، عبد المطلب کے پوتے اور عبداللہ کے بیٹے ہیں ۔ اہل یثرب کے لیے یہ حسب و نسب اجنبی نہ تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ایک مدت پہلے انہی کے ایک خاندان بنونجار کی لڑکی سلمی بنت عمرو، قریشی سردار ہاشم کے نکاح میں آئی تھی۔ ان کے بڑے بوڑھوں کو معلوم تھا کہ عبد المطلب نے اپنا بچپن انہی گلیوں میں کھیلتے کودتے گزارا تھا اور یہاں کی ایک لڑکی فاطمہ بنت عمرو بن عائذ سے نکاح کیا تھا جس سے عبداللہ پیدا ہوئے تھے۔ بنو نجار کی معمر خواتین کو وہ دن یاد تھے جب یہی عبداللہ بن عبد المطلب ان کے ہاں بیمار ہوکر وفات پاگئے تھے اور یہیں دفن ہوئے تھے۔ انہیں آمنہ بنت وہب کا اپنے شوہر کی قبر کی زیارت کے لیے آنا اور واپسی میں ابواء کے مقام پر اس طرح جان دینا بھی نہیں بھولا تھا کہ چھ سالہ محمد ان کے ساتھ تھا۔ آج اسی محمد کا ایک راہ نما اور ایک پیغمبر کے کردار میں سامنے آنا ، انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی توحید کی طرف دعوت دینا اور آسمانی ہدایت کی طرف بلانا ان کے لیے جہاں خلافِ توقع تھا تو وہاں ایک اپنائیت کا احساس بھی لیے ہوئے تھا۔
بیعت عقبۂ اولی (۱۱نبوی):
اگلے سال سن ۱۱ نبوی میں اوس اور خزرج کے بارہ افراد حج کے موقع پر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ یہ ایمان لا چکے تھے اور اب آپ ﷺ کی زیارت کے علاوہ مدد و نصرت کے وعدے کرنے اور دین کی تعلیمات لینے حاضر ہوئے تھے۔ ان بارہ افراد میں حضرت اسعد بن زرارہ، حضرت عقبہ بن عامر، حضرت عبادہ بن صامت اور حضرت مالک بن التیّهان جیسے حضرات شامل تھے جو بعد میں بڑے نامور ہوئے۔
حضور ﷺ نے ان سے باقاعدہ بیعت لی، جس میں شرک ، چوری، بدکاری، اولاد کے قتل سے احتراز اور نیکی کے ہرکام میں اطاعت کرنے کا عہد و پیمان لیا گیا۔ اسے بیعت عقبہ اولی“ کہا جاتا ہے۔ حضور ﷺ نے ان کے ساتھ مصعب بن عمیرؓ اور نابینا قاری عبد الله بن ام مکتومؓ کوقرآن مجید کا معلم بنا کر روانہ کیا۔ وہ حضرت اسعد بن زُرارہؓ کے مکان میں ٹھہرے اور اسلام کے نئے مرکز میں توحید کی دعوت نمازوں کی امامت اور تدریس قرآن مجید کے فرائض انجام دینے لگے۔
چار سال قبل برپا ہونے والی اوس اورخزرج کی تاریخی لڑائی " جنگ بعاث" میں فریقین کے بڑے بڑے سردار کام آگئے تھے جس کے بعد اس کی قیادت سعد بن معاذ اور خزرج کی سرداری سعد بن عبادہ کے پاس تھی۔ جب مصعب بن عمیر اور اسعد بن زرارہؓ نے اسلام کی تبلیغ شروع کی تو اس کے سردار سعد بن معاذ نے فورا کلمہ پڑھ لیا۔ ان کے چچازاد بھائی اُسید بن حُضیر بھی جو قبیلے کے نائب سردار اور امیرِ لشکر تھے، ایمان لے آئے۔
اس تازہ جوش و خروش نے نہ صرف اوس اور خزرج کی سابقہ دشمنی کے داغ دھو ڈالے بلکہ شہر میں ایک جدید متحدہ حکومت تشکیل دینے اور عبد اللہ بن ابی بن سلول کو حکمران بنانے کا جو منصوبہ بنایا جارہا تھا، اب اسے ترک کر دیا گیا کیوں کہ پائیدار امن اور مستقل اتحاد کا سب سے عمدہ لائحہ عمل ان کے ہاتھوں میں آچکا تھا۔

