حال میں جینا سیکھیں: ماضی کے سایوں اور مستقبل کے وسوسوں سے نجات کا راستہ
زندگی صرف 'آج' کا نام ہے
انسان کی زندگی تین زمانوں کے گرد گھومتی ہے: وہ جو گزر گیا (ماضی)، وہ جو موجود ہے (حال) اور وہ جو ابھی پردہِ غیب میں ہے (مستقبل)۔ انسانی اضطراب کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ حال کی نقد خوشیوں کو چھوڑ کر ماضی کے قبرستان میں بھٹکتا ہے یا مستقبل کے نادیدہ خوف میں مبتلا رہتا ہے۔ سعادت مند زندگی کا راز صرف ایک جملے میں پوشیدہ ہے: "آج میں جینا سیکھیں۔"
جو گزر گیا سو گزر گیا (ماضی سے کنارہ کشی)
ماضی میں جینا، اس کے غموں اور المیوں کو یاد کرتے رہنا اور ان پر رنج کرنا بے وقوفی اور حماقت ہے۔ اس سے ارادہ مضمحل اور موجودہ زندگی مکدر ہو جائے گی۔ حکماء کہتے ہیں کہ ماضی کی فائل لپیٹ کر رکھ دی جائے، اسے کھولا نہ جانا چاہئے بلکہ ہمیشہ کے لئے بھلا دینا چاہئے۔ اسے کسی دبے (خانہ) میں ڈال کر بند کر دیا جائے، کیونکہ جو گزر گیا وہ گزر چکا۔ نہ اس کی یاد اسے لوٹائے گی، نہ کوئی غم یا رنج و فکر اسے زندہ کر سکتی ہے، کیونکہ ماضی کا مطلب ہے "عدم"۔ماضی پرستی کے مرض میں مبتلا مت رہئے، جو چھوٹ گیا اس کی پرچھائیوں سے پیچھا چھڑائیے۔ آپ خود سوچیں کہ کیا آپ دریا کو اس کی اصل کی طرف، سورج کو مطلع کی طرف، بچہ کو ماں کے پیٹ میں، دودھ کو چھاتی میں اور آنسو کو واپس آنکھ میں لا سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں!
ماضی کے سایہ میں رہنا، اس کی آگ میں جلنا ایک افسوسناک اور المناک بات ہے۔ ماضی کی کتاب پڑھنے سے حاضر کی بربادی اور وقت کا زیاں ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں گزشتہ اقوام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ایک قوم تھی جو گزر چکی (تلک امت قد خلت)، یعنی ان کا معاملہ ختم ہوا۔ ماضی کے گڑے مردے اکھاڑنے اور تاریخ کے پہیے کو پلٹانے سے کچھ حاصل نہیں۔ ماضی کی بات دہرانے والا ایسا ہے جیسے کوئی پسے ہوئے آٹے کو پھر پیسے یا کٹی ہوئی لکڑی کو پھر سے کاٹے۔ پچھلوں کا کہنا ہے کہ "تم مردوں کو قبروں سے نہ نکالو"۔
ہماری مشکل یہ ہے کہ ہم حال سے عاجز اور ماضی سے چمٹے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے خوبصورت محلات کو چھوڑ کر ماضی کے بوسیدہ قلعوں کو روتے رہتے ہیں، حالانکہ ماضی کو واپس لانے پر جن و انس جمع ہو کر بھی قادر نہیں ہو سکتے۔ ہوا آگے کو چلتی ہے، پانی آگے کو بہتا ہے، کارواں آگے چلتا ہے؛ یہ سنتِ حیات ہے، آپ اس کی مخالفت نہ کریں۔
آج میں جینا سیکھیں (حال کی قدر دانی)
جب صبح ہو جائے تو شام کا انتظار نہ کریں۔ بس آج اور ابھی پر نظر رکھیں؛ نہ اس کل پر جو گزر چکا اور نہ اس آئندہ پر جو ابھی آیا ہی نہیں۔ آپ کی عمر تو بس ایک دن ہے، اسی دن کا سورج آپ کو ملا ہے۔ اس لئے دل میں سوچئے کہ بس آج ہی تو جینا ہے، گویا آج ہی آپ پیدا ہوئے اور آج ہی مر جائیں گے۔ اس صورت میں آپ کی زندگی ماضی کے سایوں اور مستقبل کی توقعات کے بیچ لٹکی نہ رہے گی۔آج پر توجہ کیسے لگائیں؟ (عملی اقدامات)
اپنی پوری توجہ، صلاحیت اور ذہانت صرف "آج" پر لگا دیں۔
آج کی آپ کی نماز خشوع و خضوع والی ہو۔
تلاوت کریں تو تدبر کے ساتھ۔
جانکاری حاصل کریں تو تامل کے ساتھ۔
ذکر کریں تو جی لگا کر۔
معاملات توازن کے ساتھ نپٹائیں۔
رنج و غم سے پاک زندگی کا اصول:
آپ کا یہ دن کینہ، بغض اور حسد سے خالی گزرے۔ اپنے دل پر لکھ لیں: "آج، آج، آج!"۔ اگر آج آپ کو گرم اور لذیذ روٹی مل گئی ہے تو کل کی باسی روٹی کی فکر کیوں؟ اگر آج آپ ٹھنڈا اور میٹھا پانی پی رہے ہیں تو کل کے کھارے پانی پر کیوں غم کریں؟ اپنے آپ کو اس نظریے کا عادی بنائیں کہ "میں بس آج ہی زندہ رہوں گا"۔ تب آپ کا لمحہ لمحہ اپنی صلاحیتوں کو سنوارنے میں استعمال ہوگا۔روزانہ کی ذمہ داریاں:
زبان و کردار: آج غیبت اور گالی سے زبان کو پاک رکھوں گا۔
نظم و ضبط: آج اپنا گھر اور آفس مرتب رکھوں گا۔
ذاتی صفائی: آج اپنے جسم اور وضع قطع کی تحسین کروں گا۔
اطاعتِ رب: آج نماز صحیح ڈھنگ سے پڑھوں گا اور فضائل کا پودا لگاؤں گا۔
خدمتِ خلق: آج کسی مریض کی عیادت کروں گا، بھوکے کو کھلاؤں گا اور مظلوم کا ساتھ دوں گا۔
اے انسان! "آج کا دن" ہی خوش بختی کی لغت میں سب سے اچھا کلمہ ہے۔
مستقبل کو آنے دیجیے (تقدیر پر ایمان)
مستقبل کے بارے میں وقت سے پہلے بے چینی کا شکار ہونا ایمان کی کمزوری ہے۔ قرآن فرماتا ہے: "اللہ کا حکم ہو کر رہے گا، اس کی جلدی نہ مچاؤ" (النحل: 1)۔ مستقبل ایک نادیدہ شے ہے۔ جیسے پھل اپنے وقت پر ہی پکتا ہے، اسے قبل از وقت توڑنا بے صبری ہے۔کل ایک مفقود شے ہے:
آنے والے دن کا نہ کوئی رنگ ہے، نہ وجود۔ ہم اس کے مصائب کے بارے میں سوچ کر خود کو ہلکان کیوں کریں؟ کیا معلوم وہ دن آئے گا بھی یا نہیں؟ یا وہ خوش کن ہوگا یا دکھ بھرا؟ مستقبل سے ذہنی لڑائی لڑنا اپنے سائے سے کشتی لڑنے کے مترادف ہے۔شیطانی وسوسے اور فقر کا خوف:
شیطان تمہیں فقر (غربت) کا خوف دلاتا ہے، جبکہ اللہ مغفرت اور فضل کا وعدہ کرتا ہے۔ جو لوگ یہ سوچ کر روتے ہیں کہ کل وہ بھوکے رہیں گے، وہ دراصل اپنی زندگی کو اپنے اختیار میں سمجھ رہے ہیں۔ جب عمر اللہ کے اختیار میں ہے، تو پھر غیر موجود چیز کے بارے میں اضطراب کیسا؟آج سے فرصت کہاں؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے صبح کی اور وہ تندرست ہے، اپنے گھر میں محفوظ ہے، اور اس کے پاس اس دن کی خوراک موجود ہے، تو گویا اس کے لیے پوری دنیا جمع کر دی گئی"۔لوگوں پر تعجب ہے کہ وہ کل کے تفکرات کو 'نقد' (Cash) لے رہے ہیں اور اس دن کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں جس کا سورج ابھی نکلا ہی نہیں۔
خلاصہِ کلام: ابدی سکون کا نسخہ
اے ماضی! جا اپنے سورج کی طرح ڈوب جا، میں تجھے پل بھر کے لئے بھی یاد نہ کروں گا کیونکہ تو جا چکا۔
اے مستقبل! تو ابھی عالمِ غیب میں ہے، میں خواب و خیال کا عادی بن کر اس چیز کے پیچھے کیوں پڑوں جو ابھی پیدا ہی نہیں ہوئی؟
مستقبل کی منصوبہ بندی ضرور کریں، مگر اس کی پریشانیوں کو حال پر حاوی نہ ہونے دیں۔ کل کی پریشانی کل دیکھی جائے گی، آج کے دن کو اپنے فرائض اور اللہ کی عبادت میں لگائیں۔ یہی کامیابی اور حقیقی خوش بختی کا واحد راستہ ہے۔

