کامیاب زندگی کا راز: بے جا تنقید سے بے نیازی اور احسان کا راستہ
تنقید کی حقیقت اور ہماری حیثیت
اس دنیا میں کوئی بھی شخص تنقید سے مبرا نہیں ہے۔ جب خالق و مالک، پالنہار اور سب کو روزی دینےوالے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو بھی کچھ نادان برا بھلا کہہ دیتے ہیں، تو ہماری اور آپ کی کیا حیثیت ہے؟ ہم تو خطا کار انسان ہیں۔ ہمیں لوگوں کی بے جا برائی اور تنقید کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص ترقی کی راہ پر گامزن ہوا، اسے روکنے کی کوششیں کی گئیں۔ آپ کے خلاف سازشیں بنیں گی اور جان بوجھ کر اہانت کی جائے گی۔ یہ تنقیدیں آپ کا پیچھا صرف اس وقت چھوڑیں گی جب آپ ان کی نظروں سے دور ہو جائیں گے۔ جب تک آپ فعال اور مؤثر ہیں، آپ کو اذیت پہنچتی رہے گی، لیکن یاد رکھیں:
گرتے ہیں شہسوار ہی میدانِ جنگ میں
جو میدان میں ہے ہی نہیں، وہ گرے گا کیا؟
تنقید کا سامنا کیسے کریں؟ (ایک مضبوط چٹان بن جائیں)
تنقید کا اصل محرک اکثر "حسد" ہوتا ہے۔ لوگ اس لیے ناراض ہوتے ہیں کہ آپ علم، صلاحیت یا مال میں ان سے بڑھ گئے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ آپ کی نعمتیں چھن جائیں اور آپ صفر ہو کر رہ جائیں۔
دفاع کا طریقہ:
احد پہاڑ کی طرح جم جائیں: ایسی چٹان بن جائیں جس پر اولے پڑتے ہیں اور ٹوٹ کر بکھر جاتے ہیں، لیکن چٹان اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔ اگر آپ نے تنقید کو اہمیت دی، تو مخالفین کی مراد پوری ہو جائے گی۔ بہتر ہے کہ درگزر کریں اور ان سے اعراض کریں۔
فضائل میں اضافہ: تنقید کا سب سے مؤثر جواب یہ ہے کہ آپ اپنے محاسن میں اور اضافہ کریں اور اپنی خامیوں کو دور کریں۔ آپ کی مزید کامیابی ان کے لیے سب سے بڑی خاموشی کا ذریعہ بنے گی۔
حقیقت پسندی: ہر کسی کی مقبولیت ناممکن ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا تھا: "لوگوں کی رائے حاصل کرنا ایک ایسا مقصد ہے جو کبھی حاصل نہیں ہو سکتا"۔ لہٰذا، لوگوں کی بجائے صرف اللہ کی رضا اور اپنے ضمیر کے اطمینان پر توجہ دیں۔
صلے کی تمنا سے بے نیازی (کسی کے شکریہ کا انتظار نہ کریں)
انسان کی بنیادی فطرت میں کفرانِ نعمت اور احسان فراموشی شامل ہے۔ جب آپ کسی کے ساتھ بھلائی کریں، تو حیران نہ ہوں اگر وہ اسے بھول جائے یا بدلے میں دشمنی کرے۔
احسان فراموشی کی مثالیں: دنیا کا دفتر ایسی مثالوں سے بھرا ہے جہاں ایک باپ نے بیٹے کو پالا، پوسا اور اپنی نیندیں قربان کیں، مگر جوان ہو کر وہی بیٹا باپ کے لیے عذاب بن گیا۔ جب انسان اپنے خالق (اللہ) کے ساتھ ناشکری کرتا ہے، تو وہ آپ کا احسان کیسے یاد رکھے گا؟
نیکی کر دریا میں ڈال: آپ کا مقصد لوگوں کی تعریف نہیں، بلکہ اللہ کی رضا ہونی چاہیے۔ بھلائی کے تمام کام "لوجہ اللہ" (صرف اللہ کی خاطر) کریں۔ قرآن مجید فرماتا ہے: "ہم تمہیں اللہ کے لئے کھلاتے ہیں، تم سے کسی بدلے اور شکریہ کی تمنا ہمیں نہیں" (سورۃ الدھر)۔ نیکی کر کے بھول جائیں، اس سے آپ کا اجر اللہ کے پاس محفوظ ہو جائے گا اور آپ کا ہاتھ ہمیشہ اونچا رہے گا۔ کسی کم ظرف کی ناشکری پر دل برداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ آپ کا معاملہ اس ہستی کے ساتھ ہے جس کے خزانے کبھی خالی نہیں ہوتے۔
احسان، سکونِ قلب کا دروازہ (انشراحِ صدر)
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ احسان کرنے والا سب سے پہلے خود اس سے مستفید ہوتا ہے۔ نیکی آپ کے اندرونی نظام کو پاکیزہ اور متوازن بناتی ہے۔
نیکی کا نفسیاتی فائدہ: جب آپ کسی پر احسان کرتے ہیں، تو آپ کے دل اور ضمیر کو وہ طمانیت حاصل ہوتی ہے جو کسی دوا سے نہیں مل سکتی۔ جب بھی کوئی رنج و غم پیش آئے، فوراً کسی کے ساتھ نیکی کر دیں؛ یہ آپ کو حیرت انگیز سکون دے گا۔
کسی محروم کو دیں۔
کسی مظلوم کی مدد کریں۔
کسی بھوکے کو کھلائیں یا مریض کی عیادت کریں۔
خیر کا کام ایک خوشبو کی مانند ہے، جس سے لانے والا، بیچنے والا اور خریدار سب مستفید ہوتے ہیں۔
حسنِ اخلاق اور مسکراہٹ: انسانوں کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آنا "صدقہ" ہے۔ اخلاق کے بھوکوں پر مسکراہٹیں لٹانا صدقہ جاریہ ہے۔ چہرے کی اداسی دوسروں کے خلاف اعلانِ جنگ کی مانند ہے، اس لیے مثبت رویہ اپنائیں۔
بدبختی کا علاج اور رب کی پسند
اللہ عزوجل خود "محسن" ہے اور احسان کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔ اس کی رحمت کا عالم یہ ہے کہ ایک طوائف نے پیاس سے مرتے کتے کو پانی پلایا اور جنت کی مستحق بن گئی۔ اگر ایک جاندار پر احسان کا یہ مقام ہے، تو اشرف المخلوقات کی خدمت کا کیا رتبہ ہوگا!
اگر آپ بدبختی، بے چینی اور خوف کا شکار ہیں، تو تنہائی ترک کر کے "نیکی کے باغ" کی طرف آئیں۔ دوسروں کی مدد اور غم گساری وہ نسخہ ہے جس سے خوش بختی پورے طور پر مل جائے گی۔ جب آپ اپنے رب کی خوشنودی کے لیے احسان کریں گے، تو دنیاوی پریشانیاں خود بخود ختم ہو جائیں گی اور آپ کا تعلق اپنے خالق سے مضبوط تر ہوتا چلا جائے گا۔

