Badla Sirf Allah Deta Hai

 

 بدلہ صرف اللہ دیتا ہے: صبر اور اجرِ عظیم کی ضمانت

 اللہ کا وعدہ: ہر چِھینی گئی چیز کا بہتر بدلہ

         یہ بات یقین سے جان لیں کہ اللہ تعالیٰ جو بھی چیز آپ سے لے گا، اگر آپ دو شرطیں پوری کریں تو اس کا بہتر بدلہ ضرور عنایت کرے گا:




  1. آپ صبر کریں (بے صبری نہ دکھائیں)۔

  2. آپ ثواب کی امید رکھیں (یعنی یہ یقین رکھیں کہ آپ کو اس پر اجر ملے گا)۔

یہ وعدہ خالقِ کائنات کا ہے اور اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ احادیث نبوی میں اس کی صراحت موجود ہے:


حدیث قدسی: "جس شخص کی آنکھیں لے لی جائیں اور وہ صبر کرے، میں ان کے بدلے جنت دوں گا۔ دنیا والوں میں جس شخص کا دوست میں لے لوں، پھر وہ صبر کرے اور ثواب کی امید رکھے، تو میں اس کے بدلے جنت دوں گا۔"

 

 بیت الحمد: صبر کرنے والوں کا گھر

صبر کرنے والوں کے لیے جنت میں خاص انعامات کا وعدہ کیا گیا ہے:

  • جو شخص بیٹے سے محروم ہو جائے اور صبر کرے، تو اس کے لیے جنت میں "بیت الحمد" (حمد و شکر کا گھر) بنایا جاتا ہے۔


         آپ اسی پر مزید قیاس کر لیجیے کہ ہر چھوٹی بڑی مصیبت پر صبر کرنے کا کتنا عظیم اجر ہے۔ لہٰذا، کسی مصیبت پر افسوس نہ کریں، کیونکہ جس نے مصیبت مقدر کی ہے، اس کے پاس جنت ہے، ثواب ہے اور اجر عظیم ہے۔


     اللہ کے نیک صالح بندے جو مبتلائے مصیبت ہوں گے، ان سے جنت میں کہا جائے گا:

"تم پر سلامتی ہو کہ تم نے صبر کیا، پس تمہیں کیا بہتر ٹھکانا ملا ہے!"


 ہدایت یافتہ: صبر کا اچھا نتیجہ

ہمیں چاہیے کہ مصیبت پر صبر کے اجر اور اس کے اچھے نتیجہ کو ہمیشہ اپنی نگاہ میں رکھیں۔ مصیبتیں درحقیقت امتحان ہیں جو مومن کو اللہ کے انعام کے قریب لے جاتی ہیں۔




قرآن حکیم (البقرہ): "یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی رحمتیں ہیں اور یہی ہدایت یافتہ ہیں"

 

         یہ آیت ان لوگوں کے لیے ہے جو مصیبت آنے پر "إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ" کہتے ہیں، یعنی صبر کرتے ہیں۔


 دنیا کے عاشق اور مصیبت کی حقیقت

مصیبت زدوں اور آفت کے ماروں کو خوشخبری ہو!

  • دنیا کی عمر بہت کم ہے اور اس کا خزانہ حقیر ہے۔

  • آخرت بہتر اور بقاء کا گھر ہے۔

  • جسے یہاں مصیبت کا سامنا ہوا، اُسے وہاں بدلہ دیا جائے گا۔

  • جو یہاں تھکے گا، وہ وہاں آرام پائے گا۔


         لیکن رہے وہ جو دنیا سے چمٹے ہوئے ہیں، اس کے عاشق ہیں، انہیں دنیاوی عیش و آرام کا چھوٹ جانا بڑا شاق گزرتا ہے۔ کیونکہ وہ بس دنیا کے طلب گار ہیں، اس لیے مصیبتیں انہیں بڑی لگتی ہیں۔ یہ مصائب سے سخت مضطرب ہوتے ہیں، کیونکہ وہ صرف اپنے پیروں کو دیکھتے ہیں، جہاں بس دنیائے فانی ہی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی نگاہ آخرت کے لامحدود اجر تک نہیں پہنچتی۔


 مصیبت میں چھپا رحمت کا پیغام

         اے مصیبت زدہ! جو بھی تم سے کھو گیا ہے، تم فائدہ میں ہو۔ تمہارے پاس اللہ کا وہ پیغام ہے جس کا لفظ لفظ:

  • لطف و کرم،

  • محبت،

  • ثواب،

  • اور حُسنِ انتخاب ہے۔

اس لیے مصیبت زدہ کو صرف وقتی تکلیف پر نہیں، بلکہ نتیجہ پر نظر رکھنی چاہیے۔


قرآن حکیم (الحدید): "ان کے بیچ ایک دیوار اٹھا دی گئی ہے جس میں ایک دروازہ ہے۔ اس کا اندرون رحمت ہے اور ظاہر کی طرف عذاب ہے"

 

         مصیبت کی ظاہری شکل کتنی ہی تلخ ہو، اس کا اندرون (یعنی آخرت میں اس کا بدلہ) خالص رحمت ہے۔

        اللہ کے پاس جو ہے وہ بہتر، باقی رہنے والا اور خوشگوار ہے۔ صبر کریں اور جنت کا سودا کر لیں۔


(گھر میں رہا کریں)

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic