ایمان ہی زندگی ہے: نورِ یقین اور حقیقی راحت
بد نصیبی کی تعریف: نورِ ایمان سے محرومی
اصل اور واقعی بد نصیب وہ ہیں جو نورِ ایمان سے محروم ہیں۔ وہ لوگ جن کے پاس یقین کی دولت نہیں، ان کی زندگی ہمیشہ:
نامرادی،
ذلت،
اور غیظ و غضب کا شکار رہتی ہے۔
ایمان کے بغیر، دنیا کتنی ہی پرکشش کیوں نہ ہو، انسان اندر سے خالی رہتا ہے اور ہمیشہ تنگی محسوس کرتا ہے۔
قرآن حکیم (طٰہٰ): "جو میرے ذکر سے اعراض کرتے ہیں، ان کے لیے تنگ زندگی ہے"
یہ "تنگ زندگی" صرف مادی تنگی نہیں، بلکہ نفسیاتی، روحانی اور قلبی تنگی ہے جو دنیا کی تمام دولتیں بھی دور نہیں کر سکتیں۔
تزکیہ اور سکون: ایمان کی برکت
اللہ رب العالمین پر ایمان ہی نفس کا تزکیہ اور تطہیر ہے۔ یہ وہ بنیاد ہے جو:
غم،
مایوسی،
اور حزن و ملال کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتی ہے۔
ایمان کے بغیر زندگی میں کوئی واقعی مزہ ہوتا ہی نہیں۔ ملحدین جو ایمان سے محروم ہیں، انہیں اپنے بوجھ، تاریکیوں اور بیڑیوں سے نجات پانے کے لیے کوئی راہ نظر نہیں آتی۔ بغیر ایمان کی زندگی درحقیقت بدبختی کی زندگی ہے۔
جو لوگ اللہ کے نظام سے بغاوت کرتے ہیں، ان پر ابدی لعنت ہوتی ہے اور ان کے لیے ہدایت کے دروازے بند ہو جاتے ہیں:
قرآن حکیم (الانعام): "ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو پلٹ دیں گے جیسے وہ پہلی بار ایمان نہیں لائے؛ ہم انہیں سرکشی میں اوندھا چھوڑ دیں گے"
عقل کا اقرار: حقیقت کی پہچان
آج لمبے زمانوں اور صدیوں کے شاق تجربات کے بعد، ایک سلیم عقل اس نتیجہ پر پہنچ چکی ہے کہ:
بت خرافات ہیں،
کفر لعنت ہے،
الحاد جھوٹ ہے،
رسول سچے ہیں،
اور ساری بادشاہت اور عزت صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
وہی ہر چیز پر قادر ہے۔
جتنا آپ کا یہ ایمان قوی یا کمزور، گرم یا سرد ہوگا، اتنی ہی آپ کو خوش بختی، سکینت اور راحت حاصل ہوگی۔ ایمان ہی وہ پیمانہ ہے جو آپ کے اندرونی سکون کی مقدار طے کرتا ہے۔
بہترین زندگی کا انعام
اللہ تعالیٰ ایمان اور عمل صالح کا وعدہ بہترین زندگی سے کرتا ہے:
قرآن حکیم (النحل): "جو بھی مومن مرد یا عورت، نیک کام کرے گا، ہم اسے اچھی زندگی دیں گے اور ان کے عمل کا پورا پورا اچھا بدلہ دیں گے"
یہ "اچھی زندگی" (حیاتِ طیبہ) اس کے علاوہ اور کیا ہے کہ:
ان کے دلوں میں استقرار (استحکام) ہوگا۔
خدا کی محبت سے دل سرشار ہوں گے۔
ان کے ضمیر انحراف سے پاک ہوں گے۔
ان کے اعصاب حادثات کے وقت پر سکون ہوں گے۔
وہ ہر حال میں قضا و قدر پر راضی ہوں گے، کیونکہ وہ دل کی گہرائی سے اللہ کو رب، اسلام کو دین، اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی و رسول مان چکے ہیں۔ یہ یقین ہی انہیں ایک ایسی زندگی عطا کرتا ہے جو دنیا کی تمام پریشانیوں کے باوجود اطمینان سے بھرپور ہوتی ہے۔


