دعوت ابراہیم علیہ السلام
مختلف قوموں کی طرف انبیائے کرام کی آمد ہوتی رہی ۔ حضرت ابراہیم ؑ تک دنیا میں آبادی کی کثرت ہو چکی تھی۔ مشرق و مغرب میں درجنوں سلطنتیں اور سینکڑوں شہر وجود میں آچکے تھے۔ اس لیے انبیاء کا سلسلہ بھی وسیع ہو گیا تھا۔ ایک ہی وقت میں مختلف علاقوں ، قوموں اور ملکوں کے لیے کئی کئی انبیاء کرام بھیجے جاتے تھے۔ ہر نبی کو بڑی بڑی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانیاں خود فراموشی، خدا شناسی اور جاں نثاری کا ایک جدا گانہ رنگ لیے ہوئے ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق کے شہر بابِل کے نواحی قصبے کوثَی" میں پیدا ہوئے تھے، طوفان نوح کو اس وقت ایک ہزار اکیاسی(۱۰۸۱) برس گزر چکے تھے، اس زمانے میں عراق اور اس کے گردو نواح میں نمرود نامی ظالم و جابر بادشاہ کی حکومت تھی جو خدائی کا دعوے دار تھا ۔ "بابِل" اس کا پایہ تخت تھا۔ عراق کے لوگ ایک طرف اسے خدا مانتے تھے تو دوسری طرف وہ سورج، چاند ستاروں اور مظاہر قدرت کی خدائی کے بھی قائل تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بت پرست بھی تھے، خود حضرت ابراہیم علیہ السلام کا باپ آزر بت تراش تھا۔ گویا شرک اور بد اعتقادی کے سارے روگ اس قوم میں جمع ہو گئے تھے ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالی نے حقیقت آشنا بنایا اور نبوت کا منصب دے کر قوم کی اصلاح کا حکم دیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان لوگوں کو سمجھایا اور ان کے سامنے ستاروں،چانداورسورج کی بے ثباتی ظاہر کی کہ یہ اپنی مرضی سے طلوع ہوتے ہیں نہ غروب ۔ یہ رب کیسے ہو سکتے ہیں۔ جب لوگ نہ مانے تو ایک دن ان کے بت خانے میں جاکر بتوں کو توڑ ڈالا اور اُن کے پوچھ گچھ کرنے پر فرمایا اگر یہ بول سکتے ہیں تو انہی سے پوچھ لو ۔ قوم ششد رہ گئی اور کوئی جواب نہ پاکر ندامت سے گویا ہوئی ابراہیم تم تو جانتے ہو، یہ بول نہیں سکتے ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: پھر تم اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی عبادت کیوں کر رہے ہو جو نفع دے سکتی ہے نہ نقصان ، افسوس ہے تم پر اور تمہارے ان معبودوں پر ۔
قوم ان
دلائل کا جواب نہ دے سکی۔ غل مچا دیا کہ اپنے معبودوں کا بھرم رکھنے کے لیے اس شخص
کو پکڑ کر جلا دو۔ حضرت ابراہیم علیہ
السلام کو نمرود کے پاس لے جایا گیا، اس
نے رعب ڈالنے کےلیے سوال و جواب کیے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بے
خوفی سے اپنے رب کی توحید بیان کی اور کہا :" میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا اور
موت دیتا ہے ۔
نمرود نے کہا: میں بھی زندہ کر
سکتا اور مار سکتا ہوں ۔
یہ کہہ کر اس نے سزائے موت کے ایک قیدی کو آزاد کردیا اور ایک بے قصور آدمی کو بلواکر قتل کردیا ،حالانکہ کسی کو معاف کر دینا اُسے پیدا کر دینا شمار نہیں ہوتا ۔ اس طرح کسی کو قتل کرنے سے کوئی انسان ، بندوں کی زندگی اور موت کا مالک نہیں بن جاتا، کیوں کہ اس طرح تو ہر ایسا انسان جو کسی کا قاتل ہو، زندگی و موت پر قادر شمار کیا جانا چاہیے اور اسےخود کبھی موت نہیں آنی چاہیے مگر یہ دلائل نمرود جیسے عقل کے اندھے کو بتانا بے کار تھے، اس لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک بہت واضح پیش کش کر دی کہ میرا رب سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، اگر تو رب ہے تو مغرب سے نکال کر دکھا۔ نمرود مبہوت رہ گیا اور کوئی جواب نہ دے سکا۔
آخر وہ بھی اپنی قوم
کی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مارنے پر آمادہ ہوگیا، انہیں آگ میں جلا کر
نشانہ ٔعبرت بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ ایک بہت بڑا الاؤ دہکایا گیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو
منجنیق کے ذریعے اس میں پھینک دیا گیا۔اس وقت بھی حضرت ابراہیم کی زبان پر یہی ندا
تھی:
''اللهم
أنتَ الْوَاحِدُ فِي السَّمَاءِ، وَأَنت الْوَاحِدُ فِي الْأَرْضِ، حَسْبِيَ
اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيل''
''اے اللہ !
آسمان میں بھی تو ہی تو ہے، زمین میں بھی تو ہی تو ہے، اللہ میرے لیے کافی ہے، وہ
بہتر کارساز ہے۔" اسی اثناء میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نمودار ہوئے اور پوچھا کوئی حاجت درکار ہو تو
حکم فرمائیے ۔
فرمایا : " حاجت تمہارے
سامنے رکھنے کے لائق نہیں ۔
اس آگ میں تپش ایسی تھی کہ بلندی پر اڑنے والے پرندے بھی جل کر کباب ہو جاتے تھے مگر جب حضرت ابراہیم ؑ اس میں گرے تو فوراً اللہ تعالی کا حکم آیا
''يَا
نَارُكُوبَى بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ''
''اے آگ ٹھنڈی
ہو جا اور ابراہیم کے لیے سلامتی والی بن جا!''
اسی لمحے وہ آگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے ایک گلستان بن گئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام چالیس دن تک اس جگہ رہے۔ فرماتے تھے یہ دن میری زندگی کے بہترین اور سب سے پر سکون دن تھے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کو بھی توحید کی دعوت دی تھی اور کہا تھا: " آپ ایسی چیزوں کی کیوں عبادت کرتے ہیں جو سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں، نہ آپ کے کسی کام آسکتی ہیں۔ باپ نے جواب دیا تھا :
براہیم کیا تم میرے معبودوں کے منکر ہو، اگر تم باز نہ آئے تو میں تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردوں گا۔
آخر کار قوم اور خاندان کو گمراہی پر ڈٹا دیکھ کر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے وطن چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس دوران حضرت ابراہیم علیہ السلام کے چچا زاد " سارہ " ایمان لے آئی تھیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے نکاح کر لیا اور انہیں ساتھ لے کر شام روانہ ہو گئے ۔ ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ان کے بھتیجے لوط بھی تھے، وہ بھی ایمان لے آئے تھے اور اللہ تعال نے ان کے نصیب میں بھی نبوت کا شرف لکھ دیا تھا ۔
اللہ نے یہ طے کر لیا تھا کہ بھٹکے ہوئے انسانوں اور بکھرے ہوئے گروہوں کو ایک وحدت کی لڑی میں پرو کر ایک امت بنایا جائے گا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے توحید کی ببانگ دُہل دعوت دے کر اللہ کی رضا کی خاطر آگ میں کودے اور اپنے مقصد کے لیے باپ ، خاندان، قبیلے اور ملک کو چھوڑ کر یہ ثابت کر دیا تھا کہ وہ اس اعزاز کے اہل ہیں کہ ان کو اللہ کی منتخب آخری امت کا جدِ امجد بنایا جائے مگر ابھی جانچ کے کچھ مراحل باقی تھے عشق و وفا کی بھی کچھ اور داستانیں رقم ہونا تھیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام دعوتِ تو حید کے بیج کاشت کرنے کے لیے مناسب زمین کی تلاش میں سفر کرتے رہے۔ وہ کچھ مدت شام میں رہنے کے بعد اپنی بیوی سارہ کے ساتھ مصر چلے گئے ، جہاں کے حکمران طولیس (سنان بن علوان) نے ان کی بزرگی کے اعتراف میں ایک دوشیزہ ان کے نکاح میں دے دی ۔
سینان بن علوان کا تعلق ہائیکوس ( چرواہے حکمران ) خاندان سے تھا جو نسلاً عرب تھا۔ جو دوشیزہ حضرت ابراہیم کے نکاح میں آئی، پردیس میں آکر ''ھاغار '' یعنی اجنبی عورت کہلائی، یہ ھاغار عربی میں "هاجَر" بن گیا ۔
حضرت ہاجرہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاں ایک لڑکا اسماعیل پیدا ہوا۔ زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ اللہ نے انہیں حکم دیا کہ اپنی بیوی ہاجرہ اور شیر خوار بچے اسماعیل کو مکہ کی ایک وادی میں چھوڑ آؤ ۔ یہ دوسرا بڑا امتحان تھا، جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اکیلے نہیں تھے، ان کی بیوی بھی اس آزمائش میں برابر کی شریک تھیں، کیوں کہ آخری اُمت کے تاجدار کی ماں بننے کے لیے کڑے امتحانوں میں ثابت قدم رہنا شرط تھا ۔
حضرت
ابراہیم علیہ السلام ایک طویل سفر کر کے شام سے جزیرۃ العرب پہنچے اور بیوی بچے کو مکہ کے
تپتے ہوئے میدان میں اللہ کے سہارے پر چھوڑ کر واپس ہونے
لگے۔ بیوی کے پاس صرف ایک پانی کا مشکیزہ اور کھجوروں کی ایک تھیلی تو شے کے طور پر رہنے دی۔ حیران و پریشان حضرت ہاجرہ
اُن کے پیچھے چلیں اور مضطربانہ لہجہ میں پوچھنے لگیں :
'' ابراہیم'' آپ کہاں جا رہے ہیں؟ ہمیں اس بےآب وگیاہ وادی میں کس کے سہارے چھوڑ کے جارہے ہیں ؟
حضرت ابراہیم ہی جانتے تھے کہ آزمائش میری ہی
نہیں ، میری بیوی کی بھی ہے۔اسے خود ہی
سمجھنا چاہیے کہ مجھ جیساشوہر اس جیسی بیوی اور شیر خوار بچے کو بھلا کیوں اس
ویرانے میں چھوڑ کر جاسکتا ہے۔ جب حضرت ہاجرہ نے بار بار یہی سوال کیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام چپ چاپ اپنے راستے پر چلتے رہے تب بیوی نے معاملے کی نوعیت کا اندازہ لگالیا اور
پکار کر پوچھا : ''کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے ؟ '' حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا ''ہاں یہی بات ہے۔"
حضرت ہاجرہ کا دل مطمئن ہو گیا کیوں
کہ اللہ پر انہیں ویسا ہی بھروسہ تھا جیسا ایک پختہ مومن بندی کو ہونا چاہیے۔
حضرت ابراہیم ؑ نے مکہ کی گھاٹی کو عبور کیا تو رفیقۂ حیات اور
بچہ نظروں سے اوجھل ہو گئے تب انہوں نے مڑ کر اس وادی کی طرف منہ کیا جہاں انہوں
نے بیوی اور بچے کو چھوڑا تھا۔ وہ اللہ کے پیغمبر تھے، جانتے تھے کہ پہاڑ سے گھری مکہ کی وادی کائنات کا مقدس ترین مقام ہے
جہاں آج بھی اللہ کے سب سے پہلے گھر کے آثار ریت کے تہہ میں چھپے ہوئے ہیں اور صدیوں سے انبیاء ورسل اس کی
زیارت کرنے اور اس کی برکات حاصل کرنے یہاں آتے رہے تھے تب
ایک وفاشعار مومن اور ایک شفیق باپ کی طرح انہوں نے ہاتھ بلند کر کے بارگاہ الہی
میں یہ بے تابانہ درخواست پیش کی:
رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي
بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا
الصَّلَاةً فَاجعل افئدۃً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِى إِلَيْهِمْ وَارْزُقُهُم مِّنَ
الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ .
اے ہمارے رب !میں اپنی اولادکو آپ کے با عظمت گھر
کے قریب ایک میدان میں جو زراعت کے قابل نہیں، آباد کرتا ہوں اے ہمارے رب تا کہ وہ
نماز کا اہتمام کریں تو آپ کچھ لوگوں کے دلوں کو ان کا طرف مائل کر دیجیے اور ان
کو پھل کھانے کو دیجئے تا کہ شکر کریں ۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اورحضرت ہاجرہ دونوں نے اللہ تعالی پر اعتماد کرنے، اس کی رضا پر راضی رہنے۔ اس کی رضا کے آگے سرجھکانے اور اس کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی دے ڈالنے کا لا زوال نمونہ پیش کردیا ۔ یہ یقین کی وہ دولت تھی جس کی بنیاد پر آخری امت کو وجود میں لانے کی تیاریاں ہو رہی تھیں اور اس کے اجزائے ترکیبی ہزاروں برس پہلے جمع کیے جارہے تھے۔
اللہ نے حضرت ہاجرہ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کو بار آور کیا ، جیسا کہ حضرت ہاجرہ نے کہا تھا ، اللہ تعالی نے ان کو ضائع نہیں کیا بلکہ ان کا نام قیامت تک تا بندہ کردیا.
(تاریخِ امتِ مسلمہ ۸۷/۱)

