اس معجزے کے اثر اور زم زم کے اس چشمے کی برکت سے صحرا میں زندگی کے سوتے پھوٹ نکلے۔ یمن کا ایک خانہ بدوش قبیلہ بنوجُرہم یہاں سے گزرا جو پانی اور چارے کی تلاش میں بھٹکتا پھر رہا تھا۔ قبیلے کے لوگوں نے دور سے فضا میں پرندوں کو اُڑتے دیکھا تو سمجھ گئے کہ قریبی علاقے میں پانی میسر ہے، تب ان کے تجربہ کار افراد حیران ہو کر کہنے گئے ہم پہلے بھی یہاں سے گزرتے رہے ہیں مگر کہیں پانی کا نام ونشان تک نہیں دیکھا۔ وہ قریب پہنچے تو زم زم کا چشمہ اور اس کے پاس حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کو دیکھا۔ کہنے لگے: "ہمیں یہاں قیام کی اجازت دے دیں۔حضرت ہاجرہ نے اجازت دے دی۔ اس طرح بنو جرہم یہاں آباد ہو گئے۔ ان کا نسلی تعلق بنو قحطان سے تھا جنہیں ''عرب عاربہ" کہا جاتا ہے۔ یہ اصل اور خالص عرب تھے، جن کا وطن یمن تھا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی زبان سریانی تھی مگر جرہم میں پل بڑھ کر انہوں نے بھی عربی زبان سیکھ لی۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام سے جو نسل چلی اسے عرب مستعربہ “ کہا جاتا ہے، یعنی یہ دوسری نسل کے ساتھ مخلوط عرب تھے ۔
Abe Zamzam Ka Karishma
0
January 05, 2026
زمزم
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے جانے کے بعد حضرت ہاجرہ اپنے بچے کو دودھ
پلاتی رہیں اور خود اس مشکیزے سے پانی پیتی رہیں جو ان کے پاس تھا مگر تپتے ہوئے صحرا میں یہ تھوڑا سا پانی کہاں تک ساتھ
دیتا، جلد ہی ختم ہو گیا ، ماں کا دودھ سوکھ گیا تھا بچہ بھوک اور پیاس سے بلبلانے
لگا۔ حضرت ہاجرہ اس کی حالت کو دیکھ کر تڑپ اٹھیں اور کسی مدد کی تلاش میں بار بار
وادی کی دونوں پہاڑیوں صفا اور مروہ پر چڑھ کر نہایت بے چینی سے ادھر اُدھر دیکھنے
لگیں ۔ ادھر بچے کا دم لبوں پر تھا۔ تب اچانک ایک آواز ابھری جیسے کوئی آرہا ہو۔
حضرت ہاجرہ نے آنے والے کو دیکھنے سے پہلے ہی پکار کر کہا: " مدد کرو، اگر
تمہارے اندر کوئی خیر ہے۔“
اگلے ہی لمحے فرشتوں کے سردار حضرت جبرئیل علیہ السلام نمودار
ہوئے ۔ انہوں نے فوراً وادی کے ایک گوشے
پر اپنا پر مارا اور دیکھتے ہی دیکھتے بھوک اور پیاس سے ایڑیاں رگڑتے شیرخوار
اسماعیل کے لیے زم زم کا وہ چشمہ جاری ہو گیا جس کے پانی کی مٹھاس، غذائیت ، شفائی
خواص اور غیر معمولی مقدار آج بھی ساری دنیا کو انگشت بدنداں کیے ہوئے ہے ۔
(تاریخِ امتِ مسلمہ ۹۱/۱)
Tags

