Masroofiyat ki Taqat: Depression aur Naqali se Bachne ka Asal Raaz

مصروفیت کی طاقت اور اپنی انفرادیت کا تحفظ


انسانی زندگی اور وقت کی قدر

        انسانی زندگی کی بنیاد وقت ہے، اور اس وقت کا صحیح استعمال ہی انسان کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایک بہت بڑا المیہ "بے کاری" ہے، جسے اکثر لوگ آرام کا نام دیتے ہیں،حالانکہ یہی بے کاری انسان کی ذہنی اور روحانی تباہی کا آغاز ہے۔ دوسری طرف، اپنی اصل شناخت کو کھو کر دوسروں کی نقالی کرنا ایک ایسا روگ ہے جو انسان کو کبھی قلبی سکون نہیں لینے دیتا۔ کامیاب زندگی کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنے وقت کو تعمیری کاموں میں صرف کرے اور اپنی فطری صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے ایک منفرد شخصیت بن کر جیے۔


بے کاری، شیطان کا مسکن ہے

        دنیا میں خالی بیٹھنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو عموماً افواہ باز ہوتے ہیں، کیونکہ ان کے ذہن و دماغ بٹے ہوتے ہیں اور انہیں کوئی تعمیری کام نہیں سوجھتا۔ وہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے والوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ قرآنِ حکیم میں ایسے لوگوں کا تذکرہ سورۃ التوبہ میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: "وہ راضی ہو گئے کہ پیچھے رہ جانے والوں میں ہوں"۔

        آدمی کا بے کار بیٹھنا نہایت خطرناک ہے۔ جب انسان بے کار ہوتا ہے، تو اس کا ذہن شیطان کا مسکن بن جاتا ہے۔ وہ ایک شترِ بے مہار کی مانند ادھر ادھر بھٹکے گا، اس کی سوچیں بے ہدف اور پراگندہ ہوں گی۔ جب آپ کام سے خالی بیٹھیں گے، تو غم، فکر اور الجھنیں لازمی طور پر آپ پر حملہ کریں گی۔ ماضی کے پچھتاوے، حال کی بے چینی اور مستقبل کے خوف کی تمام منفی فائلیں کھل جائیں گی اور آپ مشکل میں پڑ جائیں گے۔ یہ ذہن کی ایک فطری کمزوری ہے کہ جب اسے مثبت مصروفیت نہیں ملتی، تو وہ منفی باتوں کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔

        زندہ درگور ہونا: بے کار رہنا درحقیقت اپنے آپ کو زندہ درگور کرنا ہے۔ یہ سکون کا کپسول لے کر خودکشی کرنے کے مترادف ہے، کیونکہ ظاہری آرام آپ کی روح اور دماغ کو اندر سے ختم کر رہا ہوتا ہے۔

بے کاری کا "سلو ٹارچر" اور چور فرصت

        بے کاری کی مثال اس 'سلو ٹارچر' جیسی ہے جو چین کے قدیم قید خانوں میں رائج تھا۔ وہاں قیدی کو ایک ایسی نالی کے نیچے لٹا دیا جاتا تھا جس سے ہر منٹ پر پانی کا ایک قطرہ گرتا تھا۔ ان قطروں کے گرنے کے انتظار کی اذیت قیدی کو پاگل کر دیتی تھی۔ٹھیک اسی طرح، بے کار شخص غم اور پریشانی کے آنے والے چھوٹے چھوٹے قطروں کے انتظار میں اپنی عقل اور سکون کھو دیتا ہے۔

        آرام طلبی دراصل فضولیت کا دوسرا نام ہے۔ فرصت ایک پیشہ ور چور ہے جو آپ کی خوشی، وقت اور صلاحیتوں کو چرا لیتی ہے۔ اس حالت میں آپ کی عقل "موہوم" (فرضی) جنگوں کا شکار ہو جائے گی، اور آپ ان مسائل سے لڑتے رہیں گے جو حقیقت میں موجود ہی نہیں ہیں۔

        عملی حل: اپنے آپ کو مصروف رکھیں جب بھی آپ خود کو خالی محسوس کریں، فوری طور پر کوئی تعمیری کام شروع کر دیں:

عبادت: نماز کے لیے کھڑے ہو جائیں یا تلاوتِ قرآن کریں۔

علم: کسی اچھی کتاب کا مطالعہ کریں یا اپنی سوچوں کو قلم بند کریں۔

ورزش: تیراکی، سیر یا کوئی بھی جسمانی سرگرمی اپنائیں۔

تنظیم: اپنے دفتر، کمرے یا گھر کی ترتیب درست کریں۔

احسان: دوسروں کی مدد کریں، یہ آپ کو سب سے زیادہ سکون دے گا۔


محنت، خوشی کی ضمانت

        کام کے چاقو سے فرصت کے چور کو کاٹ دیں! دنیا کے ماہر طبیب اس بات پر متفق ہیں کہ مصروفیت آپ کو کم از کم 50 فیصد خوشی کی گارنٹی دیتی ہے۔ محنت خوشی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ آپ کسانوں، مزدوروں اور محنت کشوں کو دیکھیں، وہ کس طرح چڑیوں کی طرح مستی سے گاتے اور خوش رہتے ہیں، جبکہ آرام طلب لوگ نرم بستروں پر پڑے آنسو پونچھتے رہتے ہیں۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ بے کاری نے انہیں ڈس لیا ہے۔ مصروفیت ہی اس زہر کا واحد تریاق ہے۔

نقال نہ بنیں، اپنی انفرادیت پہچانیں

        دوسروں کی نقل کرنا اور اپنی شخصیت کو گم کر دینا ایک سنگین غلطی ہے۔ ایسے لوگ جو دوسروں کی اندھی تقلید کرتے ہیں، وہ مستقل عذاب کا شکار رہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اپنی حرکات و سکنات، آواز اور کلام میں دوسروں جیسے ہو جائیں۔ اس کوشش میں ان کی اپنی شناخت ختم ہو جاتی ہے اور وہ نفسیاتی طور پر بیمار ہو جاتے ہیں۔ تکلف، بناوٹ، جلن اور تکبر ان کے مستقل روگ بن جاتے ہیں۔

ا نسانی وجود کی انفرادیت: یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ اللہ نے کسی بھی دو انسانوں کو ایک جیسا نہیں بنایا۔
شکل و صورت میں دو آدمی برابر نہیں ہوتے، تو وہ صلاحیتوں میں کیسے یکساں ہو سکتے ہیں؟


تاریخ میں آپ کا کوئی مثل (Double) نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی ہم شکل۔

آپ اپنی جگہ پر ایک بالکل الگ اور منفرد تخلیق ہیں۔

جب کائنات کا خالق آپ کو منفرد دیکھنا چاہتا ہے، تو آپ دوسروں کی نقل کر کے اپنی توہین کیوں کرتے ہیں؟

اپنی فطرت کے مطابق چلیں

        ہر انسان کا اپنا ایک مشرب اور اپنا ایک قبلہ ہے۔ آپ کو چاہیے کہ جیسے آپ  پیدا ہوئے ہیں، ویسے ہی رہیں۔ آپ کو اپنی آواز، لہجہ یا چال ڈھال بدلنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بلاشبہ، ہمیں وحی کی روشنی میں چلنا چاہیے اور نیک لوگوں کی  پیروی کرنی چاہیے، لیکن اس کا مطلب اپنے وجود کی نفی ہرگز نہیں ہے۔

        عالمِ نباتات سے سبق: کائنات میں تنوع (Diversity) اللہ کی نشانی ہے۔ پھلوں میں کھٹے بھی ہیں اور میٹھے بھی، لمبے بھی ہیں اور پست بھی۔ ایک کیلا کبھی ناشپاتی بننے کی کوشش نہیں کرتا، کیونکہ اس کا جمال اور قیمت اس کے "کیلے پن" میں ہے۔ اگر کیلا ناشپاتی بننے کی کوشش کرے گا، تو وہ اپنی شناخت اور قیمت دونوں کھو دے گا۔ ٹھیک اسی طرح، آپ کا اپنا ایک رنگ اور اپنا ایک مزہ ہے۔

اللہ کی نشانیوں کا احترام

        ہماری زبانوں، رنگوں اور صلاحیتوں کا اختلاف اللہ تعالیٰ کی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اللہ نے آپ کو ایک خاص مقصد اور خاص طاقت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ اپنی انفرادیت کو قبول کریں، اللہ کے دیے ہوئے رنگ میں رنگ جائیں اور خود کو مفید کاموں میں مصروف رکھیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو آپ کو مایوسی، نقالی اور بے کاری کی دلدل سے نکال کر کامیابی اور حقیقی اطمینان کی بلندیوں تک لے جائے گا۔

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic