پریشان حال کی پکار کون سنتا ہے: صرف اُسی کی چوکھٹ
مصیبت زدہ کی فریاد: کائنات کس کی طرف جھکتی ہے؟
کون ہے وہ ہستی جسے پریشان حال پکارے اور مصیبت زدہ فریاد کرے؟ وہ کون ہے جس کی طرف پوری کائنات جھکتی ہے؟ وہ کون ہے جس سے ساری مخلوق مانگتی ہے، جس کا ذکر زبانوں پر ہو اور جو دلوں میں گھر کرے؟
وہ صرف اللہ اور صرف اللہ ہے۔
ہم سب پر یہ فرض ہے کہ آسانی ہو یا تُرشی (سختی)، راحت ہو یا تنگی، ہر حال میں اسے پکاریں:
اس کے سامنے گڑگڑائیں،
اس کا وسیلہ چاہیں،
اس کی چوکھٹ پر سر جھکائیں،
روئیں، مانگیں اور اس کے ہو جائیں۔
تبھی اُس کی مدد آئے گی، اور نصرت و نجات کے دروازے کھلیں گے۔
قرآن حکیم (النمل): "اس کے علاوہ کون ہے جو مصیبت زدہ کی پکار سنے؟"
مشکل کشا کی قدرت: ڈوبتے کو بچانے والا
وہی ذات ہے جو:
ڈوبتے کو بچائے،
غائب کو لوٹائے،
مبتلا کو نجات دے،
مظلوم کی مدد کرے،
گمراہ کو ہدایت دے،
مریض کو شفا دے،
اور ہر مظلوم کو آسانی فراہم کرے۔
انسان فطری طور پر کمزور ہے اور مشکلات میں اسی ذات کی طرف رجوع کرتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی غافل کیوں نہ ہو:
قرآن حکیم (العنکبوت): "جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو پکارتے ہیں، اطاعت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے"
دعا بھی عبادت ہے: سرگوشی اور امید کا رشتہ
اگرچہ یہاں وہ مخصوص دعائیں نہیں دہرائی جا رہی ہیں جن میں حزن و ملال اور غم و فکر کو دور کرنے کی دعا کی گئی ہے (جو حدیث کی کتابوں میں موجود ہیں)، لیکن اصل پیغام یہ ہے کہ آپ خود خدا سے بات کریں۔
اس سے سرگوشی کریں،
اس سے دعا کریں،
اسے پکاریں،
اس سے امید کریں!
جب آپ اسے پا جائیں گے، تو آپ ہر چیز کو پا جائیں گے۔ اگر اس پر ایمان میں کمزوری آئے، تو سمجھو کہ آپ نے ہر چیز کھو دی۔
رب سے دعا کرنا بھی ایک عبادت ہے اور وہ عظیم اطاعت ہے جو مشکل سے حاصل ہوتی ہے۔ جو بندہ اچھی دعا کر سکتا ہے، وہ نہ غمگین ہوگا اور نہ ہی پریشان، کیونکہ:
خدا کی رسی کے علاوہ سب رسیاں ٹوٹ جائیں گی۔
اس کے دروازے کے علاوہ تمام دروازے بند ہیں۔
وہ قریب ہے، سنتا اور دیکھتا ہے۔ اور جب مصیبت زدہ اسے پکارتا ہے، تو وہ سنتا ہے۔
کامیابی کی کنجی: حریتِ حقیقی
وہ مالک واحد، قوی اور غنی ہے، جب کہ ہم سب محتاج، کمزور اور ناتواں ہیں۔ اس لیے ہمیں حکم ہے کہ اس سے دعا کریں:
قرآن حکیم (غافر): "مجھے پکارو، میں تمہاری پکار سنوں گا"
میرے پیارے! جب تمہیں کوئی آفت پیش آئے، مصیبتوں سے سامنا ہو، تو:
اس کا نام لو، اسے یاد کرو۔
اس سے مدد و نصرت مانگو۔
اس کی تقدیس کے لیے پیشانی زمین پر رکھو (سجدہ کرو) تاکہ تمہیں حریت حقیقی یعنی اس کی معبودیت حاصل ہو جائے۔
ہاتھ بڑھاؤ، جھولیاں پھیلاؤ، زبان کھولو، اور خوب خوب مانگو! اس کے در سے چمٹ جاؤ، اس کے لطف و کرم کے طالب بن جاؤ، اس کے نام کا ورد کرو، اس سے حسنِ ظن رکھو، اس کے لیے یکسو ہو جاؤ، اور سب سے کٹ کر اس سے جڑ جاؤ تاکہ کامیاب و کامران ہو جاؤ!


