لیموں سے میٹھا شربت بنائیے: نقصان کو فائدہ میں بدلنے کا فن
نقصان کو فائدہ میں بدلنے کا ہنر
یہ ایک ذہین اور ہوشیار شخص کی نشانی ہے کہ وہ نقصان کو فائدہ میں بدل لیتا ہے، جب کہ جاہل شخص ایک مصیبت کو دو آفتیں بنا دیتا ہے۔ حالات کتنے ہی تلخ اور زہریلے کیوں نہ ہوں، مثبت اور تعمیری نقطۂ نظر انہیں خوشگوار بنا دیتا ہے۔
اگر کوئی آپ کو لیموں کی ایک پیالی دے، تو اس میں تھوڑی سی شکر ڈال کر شربت بنا لیجیے! یہ زندگی گزارنے کا بہترین فلسفہ ہے۔ اسی طرح، اگر کوئی آپ کو مردہ سانپ دے، تو اس کی قیمتی کھال لے کر بقیہ کو پھینک دیجیے۔
یہاں ایک حیرت انگیز حکمت ہے: بچھو جسے کاٹ کھاتا ہے، اس پر سانپ کا زہر اثر نہیں کرتا۔ یعنی، اگر آپ نے پہلے سے کوئی بڑی مصیبت جھیل رکھی ہو، تو چھوٹی تکلیفیں آپ کا کچھ بگاڑ نہیں سکتیں۔
تاریخ کی شاہد: مصائب میں کامیابی
اسلامی تاریخ اور عالمی تاریخ میں ایسی مثالیں بھری پڑی ہیں جہاں عظیم شخصیات نے مصیبت کو ترقی کا زینہ بنا لیا۔
| شخصیت | مصیبت/آفت | حاصل کردہ فائدہ/کامیابی |
| رسول اکرم ﷺ | مکہ سے نکالا جانا | مدینہ میں ایک عظیم مملکت قائم فرما دی۔ |
| امام احمد بن حنبل | جیل میں ڈالا جانا، کوڑے لگائے جانا | اہلِ سنت کے امام بن گئے۔ |
| ابن تیمیہ | گرفتار کیے جانا | جیل سے زبردست علمی پختگی کے ساتھ نکلے۔ |
| سرخسی | اندھے کنویں میں قید کیا جانا | دو جلدوں میں فقہ کی عظیم کتاب "المبسوط" لکھ دی۔ |
| ابن الاثیر | گھر میں بیٹھا دیا جانا | علم حدیث کی بہترین کتابیں: جامع الاصول اور النہایہ لکھیں۔ |
ان تمام مثالوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مشکلات ترقی کا موقع ہوتی ہیں، اگر انسان انہیں چیلنج کے طور پر قبول کرے۔
موت کے بستر پر لازوال ادب
یہ فن صرف دینی علوم تک محدود نہیں رہا:
مالک ابن الریب: انہیں بخار چڑھا جو ان کا مرض الموت ثابت ہوا، تو انہوں نے وہ زبردست قصیدہ لکھا جو عباسی شعراء کے پورے پورے دیوانوں کی برابری کرتا ہے۔
ابو ذُؤیب الہُذلی: ان کے بیٹے مر گئے، تو انہوں نے ان کا وہ شاہکار مرثیہ کہا کہ ایک زمانہ مہبوت (حیران) ہو کر سنتا رہ گیا۔
لہٰذا، جب بھی کوئی آفت آئے تو اس کا روشن پہلو دیکھئے۔ کیسے بھی سخت حالات ہوں، اپنے کو ان کے مطابق ڈھالئیے کہ آپ کو پھول ہی پھول حاصل ہوں۔
قرآنی نصیحت: ناپسندیدہ چیز میں خیر
یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھیں کہ انسان اپنی محدود عقل سے حقیقت کا ادراک نہیں کر سکتا:
قرآن حکیم (البقرہ):
"بہت ممکن ہے کہ تمہیں کوئی چیز ناپسند ہو اور وہ تمہارے لیے اچھی ہو"
آپ جس چیز کو مصیبت سمجھ رہے ہیں، عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں آپ کے لیے بہت بڑا خیر اور بہتری چھپا رکھی ہو۔
دو نقطۂ نظر، دو زندگیاں
فرانس کے مشہور انقلاب سے پہلے ملک کے دو بہترین شاعروں کو قید کر دیا گیا۔ ایک دن دونوں نے کھڑکی میں سے جھانک کر دیکھا:
مثبت رُخ والا: اس نے آسمان پر ستارے دیکھ کر ہنس پڑا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔
منفی نقطۂ نظر کا حامل: اس نے پاس کی سڑک پر گرد و غبار اڑتے دیکھا اور اسے رونا آگیا۔
زندگی کے دو نقطۂ نظروں میں اتنا بڑا فرق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں محض شر ہی شر نہیں ہوتا، اس لیے ہر مصیبت میں خیر کا پہلو بھی ڈھونڈیے۔ آپ کا رویہ ہی آپ کے حالات کا تعین کرتا ہے۔


