Ranj o Alam (Gham): Na Shar'an Matloob Na Aslan Maqsood

 رنج و الم: نہ شرعاً مطلوب، نہ اصلاً مقصود 

قرآن کا حکم: غم اور کمزوری سے منع

اللہ تعالیٰ نے رنج و الم سے منع کیا ہے:

  • قرآن حکیم (آل عمران):

    "نہ کمزور بنو نہ غم کرو"

  • متعدد جگہ فرمایا:

    "ان پر افسوس نہ کیجئے" (الحجر)

  • سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا:

    "غم نہ کریں، اللہ ہمارے ساتھ ہے" (التوبہ)

  • جنتیوں کے لیے وعدہ:

    "نہ ان پر خوف ہو گا نہ وہ غم کریں گے" (البقرہ)

     

 حزن کی ماہیت: زندگی کو شَل کر دینے والا بخار

         حزن (غم) کیا ہے؟ یہ طلب کے شعلہ کا ٹھنڈا پڑنا، ہمت میں فتور پیدا ہونا، اور حرارت کا کم ہو جانا ہے۔ یہ ایک ایسا بخار ہے جو زندگی کو شَل کر دیتا ہے۔


اس کا راز کیا ہے؟ حزن ایک اچھی علامت نہیں، نہ اس میں دل کی مصلحت ہے۔ شیطان کو یہ بہت پسند ہے کہ بندہ کو غمگین کر کے اُسے راستہ سے روک دے اور منحرف کردے۔ جیسا کہ فرمایا:

قرآن حکیم (المجادلہ): "(بری) سرگوشی شیطان کی طرف سے ہے تاکہ اہل ایمان غمگین ہو جائیں"

 

         نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی لیے اس بات سے منع کیا ہے کہ تین لوگوں میں دو تیسرے کو چھوڑ کر سرگوشیاں کرنے لگیں، کیونکہ اس سے اس کو رنج ہوگا۔ مسلمان حزن میں مبتلا ہو، یہ شریعت نہیں چاہتی کیونکہ اس کا برا اثر روح پر پڑتا ہے۔ شریعت کا مطالبہ ہے کہ مسلمان حزن و ملال کو پاس نہ آنے دے، اس کا مقابلہ کرے اور اچھے ذرائع سے اس پر غلبہ پالے۔


 غم اور فکر کا فرق: آگے بڑھنے سے رکاوٹ

  • رنج (حزن): ماضی کی غمناک بات۔

  • فکر (ھم): مستقبل کی فکر۔


         دونوں ہی باتیں آدمی کو آگے بڑھنے سے روکنے والی ہیں۔ حزن سے زندگی مکدر ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسی زہر ناک چیز ہے کہ روح میں فتور، حیرت اور ملال پیدا کرتی ہے۔ کتنی ہی خوبصورت شے کا سامنا ہو، اس کے سبب وہ بھی تاریک لگے گی۔ زندگی کی ساری خوشی و مسرت حسرت و ندامت اور المناکی سے بدل جاتی ہے۔


         اگر حزن و ملال لاحق ہی ہو جائے (جیسا کہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے، مثلاً کسی مصیبت پر)، تو اسے دعاؤں سے اور مناسب ذرائع کے استعمال سے دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جنتی جنت میں داخلہ کے وقت کہیں گے: "الحمد لله الذي أذهب عنا الحزن" (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جس نے ہم سے غم دور کر دیا)، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا میں ان کو حزن لاحق ہوتا تھا۔

 حزنِ محمود: عبادت کے فوت ہونے کا غم

یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیات و احادیث میں تو حزن کی تعریف کی گئی ہے، جیسے ان مؤمنین کا غم جو جہاد کے لیے سواری نہ ہونے کی وجہ سے روتے ہوئے واپس ہوئے:


قرآن حکیم (التوبہ): "اور نہ ان پر کوئی حرج ہے جو جنگ میں جانے کے لیے آپ کے پاس آئے مگر سواری نہ ہونے کی وجہ سے آپ نے ان سے معذرت کی تو وہ حزن و ملال کے مارے آنکھوں میں آنسو لیے واپس ہو گئے"

 

         بات یہ ہے کہ یہاں نفسِ حزن کی تعریف نہیں، بلکہ حزن کی یہ کیفیت ان مؤمنین کی قوتِ ایمان پر دلیل تھی، اس پر ان کی تعریف کی گئی اور منافقین پر تعریض ہے۔

     حزنِ محمود وہ ہوا جو کسی عبادت یا اطاعت کے کام کے فوت ہونے یا کسی گناہ میں پڑ جانے کے سبب ہو۔ کیونکہ اس صورت میں بندے کا اپنے گناہ اور خطاکاری پر حزن اس کی دلیل ہے کہ وہ زندہ ہے۔

حدیث میں ہے:

"مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ هَمٍّ وَلَا نَصَبٍ وَلَا حُزْنٍ إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهِ مِنْ خَطَايَا" (مؤمن کو جو بھی تفکر، رنج اور غم پہنچتا ہے، اس کے بدلے اللہ اس کے گناہ معاف فرمائے گا)

 

نتیجہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ حزن ایک مصیبت ہے، بندے نے اس پر صبر کیا، لہٰذا وہ گناہوں کا کفارہ بن جائے گا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ حزن کوئی اچھی صفت ہے جسے حاصل کرنا چاہیے۔ بندہ نہ حزن کی طلب و دعا کرے، نہ اسے عبادت خیال کرے، نہ یہ سمجھے کہ شارع نے اس پر ابھارا ہے۔


 نبی ﷺ کی سنت: خوشی اور شرحِ صدر

         اگر حزن عبادت ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی غم میں مبتلا ہو کر گزار دیتے، حالانکہ آپ شرح صدر کے ساتھ، خندہ جبیں، فرحاں و شاداں رہتے تھے۔


  • آپ متواصل الاحزان (ہمیشہ غمگین رہنے والے) کیسے ہو سکتے تھے، جب کہ اللہ نے آپ کو دنیا کے تفکرات اور اس کے اسباب سے محفوظ رکھا تھا، کفار پر غم کرنے سے منع کیا تھا، اور آپ کی اگلے پچھلے خطا معاف فرمادی تھیں؟

  • آپ ﷺ ہمیشہ خوش رہتے اور مسکراتے رہتے، جیسا کہ آپ کے شمائل میں آتا ہے۔

  • آپ باطل کو ختم کرنے، قلق و اضطراب اور تفکرات کو ختم کرنے کے لیے آئے تھے، اور نفوس کو شکوک و شبہات، شرک اور اضطراب سے آزاد کرنے کے لیے مبعوث کیے گئے تھے۔


         حضرت یعقوب علیہ السلام کی آنکھیں جو حزن سے سفید پڑ گئیں، وہ ایک اطلاع ہے کہ ان کی یہ حالت ہو گئی تھی، کسی چیز کی اطلاع اس کے استحسان یا اس کے حکم پر دلیل نہیں ہوتی۔


 انجام: آخرت کی جنت کی تلاش

         اربابِ سلوک (اہلِ تصوف) کا اجماع ہے کہ دنیا کا حزن غیر محمود ہے۔ ہمیں تو یہ حکم ہے کہ حزن سے اللہ کی پناہ مانگیں، کیونکہ یہ ایک تاریک رات ہے جو بلندیوں کے راستے کی رکاوٹ ہے۔

         اللہ سے اچھی زندگی، خوشگوار زیست، دل کی صفائی اور خوشی و شادمانی کی دعا کیجئے، کیونکہ نعمتیں جلد ہی ختم ہونے والی ہیں۔

         اللہ ہی سے اس کی دعا کی جاسکتی ہے کہ وہ ہمارے سینوں کو یقین کے نور سے بھر دے، ہمارے قلوب کو صراط مستقیم کی ہدایت دے اور ہمیں تنگی اور مشقت کی زندگی سے بچائے۔


Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic