ہم نے تمہیں امتِ وسط بنایا ہے: اعتدال اور میانہ روی
اعتدال کی اہمیت: ظلم سے بچاؤ
اعتدال (میانہ روی) عقلاً اور شرعاً ہر لحاظ سے مطلوب ہے۔ زندگی میں نہ غلو (انتہا پسندی) ہو، نہ زیادتی، اور نہ ہی افراط و تفریط (کمی بیشی)۔
جو شخص شادماں رہنا چاہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے:
جذبات،
رجحانات،
اور خیالات کو کنٹرول کرے۔
اپنی ناراضگی، رضامندی، خوشی و غمی ہر چیز میں اعتدال اختیار کرے۔ کیونکہ حالات سے تعامل (Deal) میں مبالغہ (بڑھانا) یا کمی کرنا نفس پر ظلم ہے۔ میانہ روی ہر حال میں بہتر ہے:
شریعت میزان (توازن) کے ساتھ اتری ہے۔
زندگی اعتدال اور انصاف پر قائم ہے۔
خواہشات کا انجام: اضطراب اور وہم
جو آدمی خواہشات کی پیروی کرتا ہے اور اپنے جذبات کے پیچھے چلتا ہے، وہ سب سے زیادہ پریشان ہوتا ہے، کیونکہ:
تناسب کا بگڑ جانا: چھوٹی باتیں اسے بڑی لگتی ہیں، اور روشن پہلو بھی تاریک ہو جاتے ہیں۔
باطنی فساد: اس کے دل میں کینہ، کپٹ، بغض اور حسد کے معرکے شروع ہو جاتے ہیں۔
خیالی بیماری: وہ اوہام و خیالات کے گرداب میں پھنس جاتا ہے۔
بعض لوگ تو یہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ سب ان کے خلاف ہیں، اور دوسرے ان کو مٹانے کے لیے سازشیں کر رہے ہیں۔ ان کے وسوسے انہیں بتاتے ہیں کہ پوری دنیا ہی اُن کے خلاف سازش کر رہی ہے۔ اس لیے وہ خوف، غم اور تفکرات کے گہرے سایوں میں رہتے ہیں۔
خوف کا قلع قمع: بدترین صورتحال کو قبول کریں
خوف میں مبتلا کر دینا شرعاً ممنوع ہے اور طبعاً یہ گھٹیا کام ہے۔ ایسا وہ لوگ کرتے ہیں جو روحانی اقدار و ربانی احکامات سے تہی دامن ہوں۔ وہ ہر آواز کو اپنے خلاف ہی سمجھتے ہیں۔
لہٰذا، دل کو اس کی جگہ رہنے دیجیے۔ یہ سمجھ لیں کہ:
جن چیزوں کا زیادہ خوف ہوتا ہے، وہ ہوتی نہیں۔
آپ جس چیز کے واقع ہونے سے ڈر رہے ہیں، اس کی بدترین صورت کا احتمال ذہن میں لائیے۔
پھر اس کے قبول کرنے پر ذہن کو آمادہ کیجیے۔
اس طرح آپ ان وسوسوں اور اوہام سے بچ جائیں گے جو اس وقوعہ سے متعلق دل میں آ رہے ہوں گے۔
ہر چیز کو اس کے برابر رکھیں
لہٰذا، میرے عقلمند و سمجھدار بھائی! ہر چیز کو اس کے برابر رکھئے۔
بات کا بتنگڑ نہ بنائیے، بلکہ اعتدال ملحوظ رکھئے۔
ادھر ادھر نہ بھاگیے، اوہام اور سراب کے پیچھے نہ دوڑیئے۔
محبت و نفرت کے سلسلہ میں حدیث میں بیان کردہ میزان سامنے رکھئے:
حدیث نبوی: "اپنے محبوب کو تھوڑا چاہو، ہو سکتا ہے کبھی وہ تمہارا مبغوض بن جائے اور جس سے نفرت ہے اس سے کم نفرت کرو، ہو سکتا ہے وہ محبوب ہو جائے"۔
سمجھ لیجئے کہ اکثر خدشوں، اندیشوں اور افواہوں کی کوئی حقیقت نہیں ہوا کرتی۔ اپنے جذباتی توازن کو برقرار رکھنا ہی حقیقی سکون کی کنجی ہے۔


