Sabr-e-Jameel Ikhtiyar Karen

 صبرِ جمیل اختیار کریں: اولوالعزم لوگوں کی صفت

صبر کی طاقت: اولوالعزم لوگوں کا زادِ راہ

         صبر و تحمل اولو العزم (عظیم ارادے والے) لوگوں کی صفت ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کشادہ ظرفی، قوتِ ارادی، اور غیرت و خودداری کے ذریعے زندگی کی تمام آفات و مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔



        جب کوئی مصیبت آتی ہے، تو ہمارے پاس دو ہی راستے ہوتے ہیں: یا تو بے چینی اور شکوہ، یا صبر اور توکل۔ حقیقت یہ ہے کہ:

  • اگر ہم یا آپ صبر نہ کریں، تو کیا کر سکتے ہیں؟

  • کیا صبر کے علاوہ اور کچھ چارہ ہے؟

  • کیا اس کے علاوہ اور کوئی زادِ راہ ہے؟

بڑوں اور شرفاء کی بات یہی ہوتی ہے کہ وہ بلاؤں و تکالیف کا مقابلہ کرتے ہیں اور حادثات کو دھول چٹا دیتے ہیں۔


 طبِیب دیکھ چکا ہے: کامل توکل کی مثال

         صبر اور توکل کی انتہا سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ایک واقعہ سے واضح ہوتی ہے:

  • جب آپ کی بیماری میں لوگ ان کے پاس آئے اور کہا: "کیا ہم آپ کے لیے طبیب کو نہ بلالیں؟"

  • آپ نے فرمایا: "طبیب تو دیکھ چکا ہے۔"

  • لوگوں نے کہا: "اس نے کیا کہا؟"

  • آپ نے فرمایا: "اُس نے کہا کہ مَیں جو چاہوں کروں (یعنی اللہ جو چاہے فیصلہ کرے گا)"۔

         یہ کامل توکل ہے کہ بندہ تمام تدبیریں کرنے کے بعد اپنے معاملہ کو براہِ راست اللہ کے سپرد کر دیتا ہے اور اس کے فیصلہ پر راضی ہو جاتا ہے۔


 صبرِ جمیل کے تقاضے: نیت اور یقین

         صبر ہمیشہ صرف پریشانی کو برداشت کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک نیت اور یقین کے ساتھ ہونا چاہیے۔ صبر اللہ کے واسطے ہونا چاہیے، اس کے درج ذیل پہلو ہیں:

  1. یقین: خلاصی (نجات) کا یقین ہو۔

  2. توقع: حُسنِ انجام کی توقع ہو۔

  3. طلب: اجر کی طلب ہو۔

  4. نیت: گناہوں کا کفارہ ہو جائے۔

         صبر کریں، خواہ کیسی ہی شدید مشقتیں لاحق ہوں، چاہے سب راستے تاریک ہو جائیں۔ اگر صبر ہوگا تو نصرت ضرور آئے گی، کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ تکلیف کے ساتھ آسانی ہے، عُسر کے ساتھ یُسر ہے۔


 مشکلات کو چیلنج: مشاہیر کی استقامت

         دنیا کے بہت سے مشاہیر کے حالات گواہ ہیں کہ ان کی شدتِ صبر اور قوتِ برداشت حیران کن تھی۔

  • مشکلات ان پر ایسی آتی تھیں جیسے سر پر اولے پڑ رہے ہوں۔

  • لیکن وہ صبر و عزیمت سے حق کی راہ میں جمے رہے۔

  • وہ پہاڑوں کی طرح ثابت قدم رہے۔

         چنانچہ، کچھ ہی مدت بعد ان کے سامنے نئی صبح روشن تھی، فتح مل گئی، نصرت آ گئی۔ ان لوگوں نے نہ صرف صبر کیا، بلکہ حادثات کا مقابلہ کیا اور مصائب کو چیلنج دیا تھا۔




         یاد رکھیں، صبر بزدلی یا بے عملی نہیں، بلکہ میدان میں ڈٹے رہنے اور اللہ کے انعام کا انتظار کرنے کا نام ہے۔ 

     

 صبرِ جمیل کی مثال: حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ

         حضرت بلال بن رباح رضی اللہ عنہ اسلام کے سب سے پہلے اور عظیم ترین مؤذنین میں سے ہیں۔ ان کی زندگی صبرِ جمیل اور ثابت قدمی کا ایک بے مثال نمونہ ہے۔

 آزمائش: دنیا کی بدترین اذیت

         جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا، تو اس وقت وہ مکہ کے ایک طاقتور سردار اُمَیَّہ بن خَلَف کے غلام تھے۔ امیہ نے انہیں اسلام ترک کرنے پر مجبور کرنے کے لیے دنیا کی بدترین جسمانی اذیتیں دیں۔ ان کی آزمائشیں درج ذیل تھیں:

  1. شدید ترین تشدد: امیہ انہیں مکہ کی گرم ترین تپتی ریت پر، شدید دوپہر میں، لٹا دیتا تھا۔

  2. جسمانی بوجھ: ان کے سینے پر ایک بہت بھاری پتھر رکھ دیا جاتا تھا تاکہ وہ حرکت نہ کر سکیں۔

  3. انتہائی مطالبہ: امیہ ان سے مسلسل کہتا تھا کہ وہ اسلام سے پھر جائیں اور معبودانِ باطل کا نام لیں، ورنہ انہیں اسی طرح تڑپا کر مار دیا جائے گا۔


 صبر جمیل اور پختہ یقین

         اس وحشیانہ تشدد کے باوجود، حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا ایمان ذرا بھی متزلزل نہ ہوا۔ وہ ان تمام اذیتوں کے جواب میں صرف ایک ہی کلمہ دہراتے تھے:


"اَحَدٌ، اَحَدٌ" (اللہ ایک ہے، اللہ ایک ہے)

 

         آپ کے صبر میں نہ کوئی شکوہ تھا، نہ واویلا، اور نہ ہی کوئی بددعا۔ یہ صبرِ جمیل کی انتہا تھی، یعنی ایسا صبر جس میں کوئی بے صبری نہ ہو۔


 انجام: عزت، آزادی اور مقام

         حضرت بلال رضی اللہ عنہ کا یہ صبر، اللہ کی راہ میں ثابت قدمی کی علامت بن گیا۔ بالآخر، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھاری قیمت ادا کر کے انہیں خرید لیا اور آزاد کر دیا۔

ان کے صبر کا ثمر صرف آزادی نہیں تھا، بلکہ:

  • وہ اسلام کے پہلے مؤذن بنے۔

  • وہ رسول اللہ ﷺ کے سب سے مقرب ساتھیوں میں سے تھے۔

  • آپ ﷺ نے فرمایا: "بلال تو فلاح پا گئے"۔

  • معراج کی رات آپ ﷺ نے جنت میں بلال کے قدموں کی آہٹ سنی، جو ان کی استقامت اور طہارت کی دلیل تھی۔


         حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی مثال ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر ایمان پختہ ہو تو شدید ترین مصیبت بھی آپ کو توڑ نہیں سکتی، بلکہ آپ کے درجات کو بلند کر کے آپ کو ابدی عزت اور کامیابی عطا کرتی ہے۔


Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic