Saare Jahan Ka Dard Hamare Jigar Mein Hai

 سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے: تفکراتِ عالم سے اجتناب

 عالمی جنگ اور باطنی تباہی

         کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ذہن میں بستر پر سوتے ہوئے بھی عالمی جنگ ہوتی رہتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو کائنات کے ہر چھوٹے بڑے مسئلے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں اور ہر بیرونی واقعہ کو ذاتی طور پر محسوس کرتے ہیں۔




اس مسلسل ذہنی جنگ کے نتیجے میں:

  • ان کے معدہ میں زخم پیدا ہو جاتا ہے۔

  • انہیں بلڈ پریشر اور شوگر جیسے جسمانی آزار لاحق ہو جاتے ہیں۔

وہ ہر واقعہ سے جھلتے رہتے ہیں:

  • قیمتوں میں بڑھوتری ہوئی، انہیں غصہ آیا۔

  • بارش نہ ہوئی، وہ دہاڑنے لگے۔

  • کرنسی کی قیمت میں کمی آئی، وہ مضطرب ہو گئے۔


         اس طرح وہ مستقل حزن و ملال اور قلق (بے چینی) کی حالت میں رہتے ہیں اور ہر آواز کو اپنے ہی خلاف سمجھتے ہیں:


قرآن حکیم (المنافقون): "ہر آواز کو اپنے ہی خلاف سمجھتے ہیں"

 

 مشورہ: عالمی درد سے کنارہ کشی

         میرا مشورہ یہ ہے کہ سارے جہاں کا درد لے کر مت پھرئیے۔ یہ ضروری ہے کہ:

حادثات زمین پر ہوں، آپ کی آنتوں میں نہ ہوں۔

 

     بعض لوگوں کا دل گویا آنت ہوتا ہے جو ہر قسم کی افواہوں اور گپ بازیوں کو پیتا رہتا ہے۔ وہ:

  • چھوٹی باتوں پر پریشان۔

  • معمولی خوشی پر دل باہر نکلا جاتا ہے۔

  • ہر بات پر مضطرب۔

         ایسا دل جس کا ہوتا ہے، اس کی شخصیت منہدم ہو جاتی ہے اور وجود خطرہ میں پڑ جاتا ہے۔ آپ ہر چیز کے ذمہ دار نہیں ہیں، اس لیے صرف اپنے اختیار اور فرض کے معاملات پر توجہ دیں۔


 شجاعت اور ثابت قدمی کی صفت

اس کے برعکس، اہل حق اور بہادر لوگوں کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ:

  • عبرتیں اور نصیحتیں ان کے ایمان میں اضافہ کرتی ہیں۔

  • اس کا سینہ چوڑا (ظرف بڑا) ہوتا ہے۔

  • یقین راسخ ہوتا ہے۔

  • اعصاب ٹھنڈے ہوتے ہیں۔

  • اور انہیں انشراحِ صدر (قلبی کشادگی) حاصل ہوتا ہے۔

         جہاں تک بزدل کی بات ہے، تو وہ بیچارہ توقعات، افواہوں اور خواب و خیال کی تلوار سے روزانہ بار بار قتل ہوتا ہے۔


 استقرار کی قیمت: بہادری

         لہٰذا، اگر آپ زندگی میں استقرار (سکون و استحکام) چاہتے ہیں، تو حالات کا شجاعت و پامردی سے مقابلہ کریں۔

  • تاکہ جو اہل ایقان نہیں، وہ آپ کو بے وزن نہ سمجھیں۔

  • اور ان کی چالوں سے آپ تنگی میں نہ پڑیں۔



حادثات سے مضبوط تر بنیں۔ بحرانوں کی آندھیوں اور طوفان کے جھکڑوں سے زیادہ سخت ثابت ہوں۔

کمزور اور تھڑ دل لوگ قابل رحم ہیں کہ گردشِ ایام انہیں کتنا ہلا مارتی ہے، اور "آپ انہیں زندگی کا بہت ہی حریص پائیں گے"۔

جو غیرت مند اور خوددار ہیں، وہ اللہ کی طرف سے مدد و نصرت کے مستحق ہیں۔ ان کے لیے اللہ کا وعدہ ہے:


قرآن حکیم (الفتح): "اللہ نے ان پر سکینت نازل کی"

 

حقیقی سکون اسی میں ہے کہ آپ اپنے دائرہ اختیار کو پہچانیں اور باقی معاملات کو اللہ کے سپرد کر دیں۔ 


Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic