​Kafi Hai Agar Ek Khuda Mere Liye Hai

 کافی ہے اگر ایک خدا میرے لیے ہے: توکل، سہارا اور کامیابی

توکل کی طاقت: ایمان کے عظیم ثمرات

         اللہ پر بھروسہ کرنا، اس پر اعتماد رکھنا، اس کے وعدوں پر یقین، اس کے ساتھ حسن ظن رکھنا، اس کے فیصلہ کو مان لینا، اور یہ یقین رکھنا کہ وہ آسانی پیدا کرے گا،یہ تمام چیزیں ایمان کے بڑے ثمرات اور مومنین کی بہترین صفات میں سے ہیں۔


         جب بندہ اپنے انجام (حسن عاقبت) سے مطمئن ہو جاتا ہے اور اپنے ہر معاملہ میں اپنے رب پر بھروسہ کرتا ہے، تو وہ فوراً:

  • اللہ کی مدد،

  • حمایت،

  • تائید،

  • اور نصرت کا مستحق ہو جاتا ہے۔


 انبیاء کا یقین: حسبنا اللہ ونعم الوکیل

انبیاء کرام کی زندگی توکل کا بہترین نمونہ ہیں۔ جب:

  1. حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا، تو انہوں نے صرف یہ کہا:

     

    "ہمیں اللہ کافی ہے، جو بہترین سہارا ہے۔"

     

    چنانچہ اللہ نے آگ ان کے لیے گلزار بنا دی۔

  2. نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو کفار کے لشکروں سے ڈرایا گیا، تو انہوں نے بھی فرمایا:

     


    "ہمیں اللہ کافی ہے، وہ بہترین سہارا ہے" (حسبنا اللہ ونعم الوکیل)

     

    چنانچہ اللہ نے انہیں اپنی نعمت و فضل سے سرفراز فرمایا، انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچی، انہوں نے اللہ کی رضا حاصل کر لی، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔


 انسانی کمزوری اور رب کی قوت

         انسان اکیلا حادثات سے نہیں لڑ سکتا، نہ مصائب و مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے، کیونکہ وہ فطری طور پر کمزور اور ناتواں پیدا کیا گیا ہے۔ وہ حادثات کے سامنے ایک بے بس تنکا ہے۔

         ہاں! اگر وہ اپنے رب پر توکل کرے، اپنے معاملات اس کے سپرد کر دے، تو وہ کمزوری کے باوجود سب کچھ کر سکتا ہے، کیونکہ اس کے پیچھے عظیم ہستی کی طاقت شامل ہو جاتی ہے۔

         اگر یہ توکل نہ ہو، تو اس عاجز و لاچار بندے کے کام کون سی تدبیر آئے گی جب اس پر مشکلات و مصائب آن پڑیں؟


قرآن حکیم (المائدہ، 23): "اور صرف اللہ پر توکل کرو اگر تم مؤمن ہو"


 حرزِ جاں: توکل کا نعرہ

         جو لوگ اپنا بھلا چاہتے ہیں، انہیں اللہ پر توکل کرنا چاہیے جو قوی و غنی ہے اور زبردست قوت والا ہے۔ وہی انہیں مشکلات و مسائل سے نکال سکتا ہے اور اذیتوں سے بچا سکتا ہے۔


         لہٰذا، "حسبنا اللہ ونعم الوکیل" (ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے) کو حرزِ جاں (دل کا نعرہ) بنا لیجیے۔

  • جب آپ کا مال کم ہو جائے، قرض بڑھ جائے، یا آمدنی کم ہو جائے تو پکاریں: حسبنا اللہ ونعم الوکیل!

  • جب آپ کو کسی دشمن کا خوف ہو، کسی ظالم سے ڈر لگے، یا کسی افتاد سے گھبرا جائیں تو پکاریں: حسبنا اللہ ونعم الوکیل!

  • اور مزید یقین رکھیں: "و کفٰی بربک ہادیاً و نصیراً" (تمہارا رب کافی ہے نصرت و کارسازی کے اعتبار سے)۔



         توکل ایک ایسا قلعہ ہے جہاں داخل ہونے والے کو دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

Tags

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic