نماز: صبر اور راحت کا ذریعہ
ہر غم کا علاج: اللہ سے مدد
جب انسان پر خوف طاری ہو جائے، غم گھیر لے، اور تفکرات اسے محاصرہ کر لیں، تو اس مشکل وقت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک بہترین سہارا عطا کیا ہے:
قرآن حکیم (البقرہ): "اے ایمان والو! صبر اور نماز سے اللہ کی مدد چاہو"
یہ آیت ہمیں ہدایت کرتی ہے کہ ہر مشکل میں صبر کے ساتھ ساتھ نماز کی طرف لپکیں، کیونکہ نماز ہی وہ ذریعہ ہے جہاں روح سرشار ہو جاتی ہے اور دل کو حقیقی اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ نماز، اِن شاء اللہ، غم و فکر اور حزن و ملال کے بادل چھانٹ دے گی۔
آنکھوں کی ٹھنڈک: نبی ﷺ کا معمول
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ میں نماز کی اہمیت سب سے زیادہ تھی۔ آپ ﷺ کو جب کوئی اہم معاملہ پیش آتا یا آپ ﷺ پریشان ہوتے، تو فوراً حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرماتے:
"اے بلال! ہمیں نماز کے ذریعہ آرام پہنچاؤ۔"
آپ ﷺ کی نگاہ میں نماز آنکھوں کی ٹھنڈک، خوش بختی اور شادمانی کا ذریعہ تھی۔ بڑے بڑے اولیاء اور صالحین کے حالات میں یہ بات بارہا پڑھی گئی ہے کہ جب بھی کوئی پریشانی ہوتی یا آفتیں پڑتیں، تو وہ نماز کی طرف دوڑتے۔ نماز سے ان کے قوٰی (طاقتیں) لوٹ آتے، اور ارادہ و ہمت میں تازگی آجاتی۔
صلوٰۃ خوف: دلوں کو جمانے والی دوا
صلوٰۃ خوف (خوف کی حالت میں نماز) کا فلسفہ یہی ہے کہ جب دلوں پر خوف طاری ہوتا ہے، اور جانیں تلوار کی دھار پر رکھی ہوتی ہیں، تو ایسے میں دل کو جمانے اور ڈھارس بندھانے والی سب سے بڑی چیز نماز ہے۔
آج نفسیاتی الجھنوں کی شکار نسل کو مسجد سے واقف ہونے کی ضرورت ہے۔
انہیں الجھنوں سے نجات کے لیے اور خوشنودی رب کے لیے نماز پڑھنے کی ضرورت ہے۔
ورنہ اگر نماز سے دوری اختیار کی گئی تو:
آنسو آنکھوں کو جلا دیں گے۔
حزن و ملال اعصاب کو توڑ دیں گے۔
نماز کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں جو انہیں ان مسائل سے نجات دلا سکے۔
پانچ وقت کی نعمت: درجات کی بلندی
اگر ہم عقل سے بھی سوچیں، تو پتہ چلے گا کہ دن رات میں پانچ وقت کی نمازیں بہت بڑی نعمت ہیں۔ یہ نمازیں:
گناہوں کا کفارہ ہیں۔
اللہ کے ہاں درجات بلند کرنے کا ذریعہ ہیں۔
آلام و مشکلات کو کم کرنے کا سبب ہیں۔
ہمارے امراض کی کامیاب دوا ہیں۔
یہ ضمیر کو یقین عطا کرتی اور قلوب کو رضا بالقضاء (تقدیر پر راضی ہونے) سے بھرتی ہے۔
جو لوگ مسجد سے دور بھاگتے ہیں اور نمازیں چھوڑتے ہیں، تو ان کی آفتیں کم نہیں ہوتیں؛ ایک بدبختی ختم نہیں ہوتی کہ دوسری سر پر کھڑی ہو جاتی ہے۔ وہ ہمیشہ کبیدہ خاطری (دل گرفتگی) کے گھیرے میں رہتے ہیں۔
قرآن حکیم (محمد): "تو بدبختی ہے ان کے لیے اور ان کے اعمال اکارت گئے"
نماز کو مضبوطی سے تھام لیں، یہ دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضمانت ہے۔



