Nabi Kareem ﷺ ki jawani, Tijarat aur Hazrat Khadija (RA) se Nikah ka Waqia

 قابل رشک جوانی، تجارت اور نکاح

        سرمایہ نہ ہونے کے باعث حضور ﷺ دوسروں کا سرمایہ تجارت میں لگا کر نفع میں شریک ہونے لگے۔ عمر مبارک پچیس(۲۵) سال کی تھی جب اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مال و دولت کے لحاظ سے غنی کر دینے کا انتظام فرمایا۔ قریش کی ایک مال دار اور شریف بیوہ خدیجہ بنت خویلد قابل اعتماد افراد کو سرمایہ دے کر تجارت میں لگواتیں اور حاصل ہونے والے نفع سے انہیں معقول معاوضہ دیتیں۔ انہیں حضور ﷺ کی شرافت ، دیانت اور دوسری خوبیوں کا علم ہوا تو بڑے اصرار سے آپ کو اپنا سرمایہ دے کر تجارت کے لیے شام بھیج دیا۔


        حضورﷺ کی دیانت داری اور خوش اسلوبی کی وجہ سے اس تجارت میں بے حد نفع ہوا۔ ساتھ ہی خدیجہؓ  کو آپ کی مزید خوبیوں کا علم بھی ہوا۔ وہ آپ کے کردار سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ کو نکاح کا پیغام بھیج دیا، اس سے پہلے وہ بڑے بڑے شریف اور رئیس لوگوں کی طرف سے رشتے کے پیغام مسترد کرچکی تھیں۔ حضور ﷺ نے یہ رشتہ قبول کرلیا۔ آپ ﷺ کے چچا ابو طالب نے نکاح پڑھایا۔ اس وقت آپ کی عمر پچیس برس کی تھی، جبکہ حضرت خدیجہؓ چالیس سال کی تھیں۔

ازدواجی زندگی


        اب حضور ﷺ تنگ دست نہیں تھے، اللہ تعالی نے ازدواجی زندگی کی نعمت کے ساتھ ساتھ مالی وسعت بھی عطا فرمادی تھی ۔ اِدھر حضرت خدیجہؓ  کو ایسا رفیقِ حیات مل گیا تھا جس پر وہ جتنا بھی فخر کرتی کم تھا۔ انہوں نے اپنی دولت ، جائیداد اور تجارت کا سرمایہ سب کچھ حضور ﷺ کی خدمت کے لیے وقف کردیا۔ حضور ﷺ کی خوشی ہی میں اُن کی خوشی تھیں حضور ﷺ اپنی زوجہ محترمہ کے ساتھ انہی کے مکان میں رہنے لگے۔ یہ مکان دو رہائشی کمروں اور ایک مہمان خانے پر مشتمل تھا۔ اس بابرکت گھر میں حضور ﷺ نے اپنی جوانی کے اٹھائیس سال گزارے تھے۔

        اب تک آپ کی حبشی باندی برکہ آپ ﷺ کی خدمت کیا کرتی تھیں۔ حضورﷺ فرماتے تھے: ” میری ماں کے بعد یہی میری امی ہیں۔ ام ایمن حضور ﷺ سےکوئی دس گیارہ سال بڑی تھیں۔ آپ نے اپنی شادی کے موقع پران کی ڈھلتی ہوئی عمر اور سابقہ خدمات کا احساس کرتے ہوئے انہیں نہ صرف آزاد کردیا بلکہ ایک شریف النفس آدمی حارث بن زید سے ان کا نکاح بھی کردیا۔ اس طرح وہ بھی اپنے گھر میں بس گئیں۔ان کے ایک لڑکا بھی ہوا جس کا نام ایمن رکھا گیا۔ برکہ اس کے نام کی نسبت سے اُم ایمن کہلائیں۔

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی کفالت

        اس گھر میں حضور ﷺ اور حضرت خدیجہؓ کے علاوہ ایک فرد اور بھی تھا، یہ بنو کلب کا ایک گم شدہ لڑکا زید بن حارثہ تھا، اس بچے کو دشمن قبیلے کے حملہ آوروں نے اغواء کرکے غلام بنایا اور عکاظ کے بازار میں بیچ دیاتھا، اس وقت یہ بچہ صرف آٹھ سال کا تھا۔ حضرت خدیجہؓ کے بھتیجے حکیم بن حزام نے اسے خریدا اور لاکر حضرت خدیجہؓ کو پیش کردیا۔ جب حضور ﷺ کا حضرت خدیجہؓ  سے نکاح ہوا تو انہوں نے زید کو آپ کی خدمت میں دے دیا۔

        ایک مدت بعد زید کے والد حارثہ کو اطلاع مل گئی کہ ان کا گم شدہ بچہ قریش کی غلامی میں ہے۔ وہ سیدھے مکہ پہنچے حضور ﷺ سے ملے اور ماجرا سناکر اپنے بیٹے کی واپسی کی درخواست کی اور ساتھ ہی آزادی کا فدیہ بھی پیش کیا۔

        حضور‌ ﷺ نے فرمایا " زید کو بلاکر اس سے پوچھ لیں، اگر وہ آپ کے ساتھ جانا چاہے تو بغیر کسی فدیے کے آپ کے ساتھ جاسکتاہے اور اگر نہ جانا چاہے تو میں اس کو زبردستی نہیں بھیجوں گا۔''

زید کو بلایا گیا توانہوں نے اپنے والد کے ساتھ جانے سے معذرت کردی اور کہا: ''میں حضور ﷺ کے سوا کسی اور کے ساتھ رہنا کیوں کر پسند کرسکتا ہوں۔''

والد نے حیران ہوکر کہا : بیٹا! آزادی کی جگہ غلام بن کر رہنا پسند ہے؟“

        بولے ”جی ہاں! میں نے حضور ﷺ میں جو خوبیاں دیکھی ہیں اُن کے مقابلے میں کسی چیز کو پسند نہیں کرسکتا۔

        حضور ﷺ زید کی یہ محبت دیکھ کر بہت متاثر ہوئے ، اسی وقت مسجد الحرام میں جا کر اعلان کیا: ''میں نے اسے اپنا بیٹا بتا لیا ۔"
زید کے والد نے یہ منظر دیکھا تو مطمئن ہوکر لوٹ گئے۔

        حضرت زید  پہلے بھی حضور ﷺ کے ساتھ رہتے تھے مگر اب تو اس گھرانے کا ایسا اٹوٹ حصہ بن گئے کہ لوگ انہیں زید بن محمد ہی کہنے لگے۔

حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی معاشرتی مصروفیات 

        نکاح کے بعد سے چالیس سال کی عمر تک کا زمانہ حضور ﷺ کی زندگی میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے اگرچہ سیرت کی کتب میں یہ باب سب سے مختصر ہے۔ ان پندرہ برسوں میں حضور ﷺ ایک مصروف کاروباری نوجوان اور معروف سماجی و معاشرتی شخصیت کی حیثیت سے سرگرم رہے ۔ چونکہ آپ کا ذریعہ معاش تجارت تھا اس لیے آپ کو لین دین اور دیگر معاملات میں دن بھر ہر قسم اور ہر علاقے کے لوگوں سے واسطہ پڑتا تھا، کاروباری میدان میں آپ کی ساکھ اور معاشرتی سطح پر آپ کا مقام بہت بلند تھا، پورے مکہ میں آپ سے زیادہ شریف عقل مند محترم اور خوش اخلاق انسان کوئی نہیں تھا۔ لوگ آپ کی سچائی اور دیانت کے دل سے قائل تھے، اپنی قیمتی ترین امانتیں رکھوانے کے لیے ان کی نگاہ حضور ﷺ پر ہی پڑتی ۔وہ آپ کو صادق اور امین کے لقب سے پکارا کرتے تھے۔


        حضور اکرم ﷺ  زبان کے پکے اور وعدے کے بے حد پابند تھے۔ مکہ کے ایک شہری عبداللہ بن ابی الحمساء سے حضور ﷺ کا کچھ لین دین ہوا، عبد اللہ کے ذمے کچھ دینا باقی رہ گیا ، وہ بولے " آپ کا بقایا یہیں لا کر دیتا ہوں ۔" 

        یہ کہ کر عبداللہ گھر چلے گئے، وہاں اپنا وعدہ بھول گئے، تیسرے دن یاد آیا تو فورًا اس جگہ آئے ، دیکھا کہ آپ وہیں انتظار کر رہے ہیں، حضور ﷺ نے صرف اتنا فر مایا: جوان ! تم نے مجھے تھکا دیا۔ 

        حضور ﷺ تجارت میں شراکت بھی کرتے تھے۔ ابو سائب اور قیس بن سائب نامی دو شرفاء آپ کے شراکت دار تھے۔ وہ آپ کی دیانت اور خوش معاملگی کا اعتراف کرتے تھے۔

       حضور ﷺ سامانِ تجارت لے کر مکہ سے باہر بھی جایا کرتے تھے ۔ مکہ کے شمال مشرق میں طائف کے قریب عکاظ کا مشہور بازار لگا کرتا تھا جس میں تجارت کے علاوہ شاعری اور قصہ خوانی کی محفلیں بھی جمتیں اور قبائلی تنازعات کے فیصلے بھی ہوتے۔ حضور ﷺ تجارت کے لیے وہاں بھی تشریف لے جایا کرتے تھے۔

         حضور ﷺ کے گہرے دوست ابوبکر بن ابی قحافہ تھے جو مزاج، خیالات اور عادات میں بھی آپ سے بہت ہم آہنگ ہونے کے علاوہ ہم پیشہ بھی تھے۔ بت پرستی ، شراب نوشی اور دوسری اخلاقی برائیوں سے وہ بھی پورا اجتناب کرتے تھے ۔

        ان پندرہ برسوں میں حضور ﷺ کے معمولات کی زیادہ تفصیل نہیں ملتی مگر اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ آپ دن میں تجارت اور معاشرتی و خاندانی امور میں مصروف رہتے تھے اور تنہائی کے اوقات میں اللہ کی قدرت، دنیا کے آغاز و انجام اور اپنی قوم کی حالت پر غور فرماتے رہتے تھے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic