آپ ﷺ کا اقبال مند لڑکپن
عموما لڑکپن کا زمانہ شوخی اور شرارت کے عروج کا ہوتا ہے مگر حضور ﷺ شروع سے نہایت شریف ، باوقار اور حیادار تھے۔ حضور ﷺ عرب کی معاشرتی برائیوں سے ذرا بھی متاثر نہ ہوئے ۔ شرکیہ رسومات ، شراب نوشی اور گانے بجانے سے کوسوں دور رہے ۔ سچائی، امانت داری، ہمدردی ، تواضع ، مروت اور رحم دلی کی صفات حضور ﷺ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ بے حد ذہین، معاملہ فہم، بہادر اور چاق و چوبند بھی تھے۔
شام کا سفر اور بحیرا راہب کی گواہی
حضورﷺ کی عمر بارہ سال تھی جب آپ اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ شام کے تجارتی سفر پر نکلے۔ اس قافلے نے شام کے سرحدی شہر بُصرا میں شاہراہ کے کنارے پڑاؤ ڈالا جہاں بَحیرا نامی ایک راہب کی خانقاہ تھی۔
بحیر کبھی اپنی خانقاہ سے باہرنہیں نکلتا تھا مگر اس دن وہ باہر آیا اور قافلہ کو چیرتا ہوا رسول اللہ ﷺ کے پاس جا پہنچا ۔ پھر ان کا ہاتھ تھام کر کہنے لگا " یہ سید العالمین ہیں۔ یہ رب العالمین کے رسول ہیں۔ یہ رحمۃ للعالمین ہیں ۔
قریش کے کچھ بوڑھوں نے کہا تمہیں کیسے معلوم؟
کہنے لگا " جب تم گھاٹی سے نیچے اتر رہے تھے تو میں نے دیکھا کہ کوئی درخت یا پتھر ایسا نہیں جو تعظیمًا جھک نہ رہاہو۔ ایسا فقط نبی کے لیے ہوتا ہے۔ میں اسے مہر نبوت کی وجہ سے پہچانتا ہوں جو اس کے کندھوں کے درمیان ہے ۔
راہب نے قافلے کی ضیافت کی اور ابو طالب کو قسم دی کہ اس لڑکے کو شام نہ لے جائیں؛ کیوں کہ اگر رومیوں نے اسے صفاتِ نبوت کی وجہ سے پہچان لیا تو قتل کردیں گے ۔ آخر ابو طالب نے حضور ﷺ کو ایک آدمی کے ساتھ واپس ملکہ بھیج دیا۔
حرب فِجار میں شرکت
حضور ﷺ دس سال کے تھے جب مکہ کے مضافات میں لڑائیوں کا وہ سلسلہ شروع ہوا جنہیں ''حروبِ فجار'' کہاجاتا ہے۔ اس سلسلے کی پہلی لڑائی فجارِ اول بنو کنانہ اور ہَوازِن کے درمیان ہوئی ۔ دوسری جنگ قریش اور ہَوازِن کے مابین لڑی گئی۔ تیسری میں ہوازن اور بنونصر بن معاویہ آمنے سامنے آئے ۔ چوتھی لڑائی جسے ''فِجارِرابع'' اور ''فجارِبَرّاض'' کہا جاتاہے، گزشتہ تمام جنگوں سے زیادہ سخت تھی جو قریش اور قبیلہ بنوقیس کے درمیان برپا ہوئی۔
اس وقت حضور ﷺ کی عمر پندرہ سال کی تھی۔ معرکے کے دن قریش کے تقریبًا تمام ہوشیار مرد میدان میں صف بند تھے لڑکوں کو بھی مددگار کے طور پر طلب کیاگیا تھا نبی اکرم ﷺ بھی اپنے چچاؤں کے ہمراہ میدان جنگ میں پہنچ گئے جو تیراندازی پر مقرر تھے۔ اس جنگ میں بنو ہاشم کے سردار زبیر بن عبد المطلب تھے ۔ قریش کی قیادت بنوامیہ کا سردار حرب بن امیہ کررہا تھا۔
لڑائی شروع ہوئی تو دشمنوں نے قریش پر پورا دباؤ ڈال دیا۔ نبی اکرم ﷺ کے چچا اپنی کمانوں سے تیر چلا رہے تھے اور آپ ﷺ انہیں دشمن کے چلائے ہوئے تیر لا لا کر پکڑا رہے تھے تا کہ تیروں کی کمی نہ ہونے پائے ۔ دن کے ابتدائی حصے میں بنوقیس کا پلہ بھاری تھا مگر سورج ڈھلنے کے بعد قریش نے جنگ کا پانسا پلٹ دیا اور بنوقیس شکست کھاکر پسپا ہوگئے ۔ یہ حضور ﷺ کے لیے کسی جنگ میں شرکت کا پہلا تجربہ تھا۔
سیف ذی یَزَن کی وفات اور جنوبی عرب پر فارس کا تسلط
اس سال جنوبی عرب میں ایک انقلاب آیا۔ یمن کا محبِ وطن عرب حاکم سیف بن ذی یزن پندرہ سالہ حکومت کے بعد فوت ہوگیا، چونکہ یہ حکومت کسری کی عسکری مدد کے طفیل تھی ، اس لیے سیف کے مرتے ہی کسری نے یمن کو براہ راست اپنے قبضے میں لےلیا اور وہاں اپنے فارسی النسل گورنروں اور افسروں کا تقرر کردیا۔ اس طرح جزیرۃ العرب کا جنوب ایک بار پھر بری طرح غیر ملکی استبداد میں جکڑا گیا۔
رزق حلال کے لیے محنت
جوان ہوئے تو حضور ﷺ نے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے لیے روزگار تلاش کرنے کی فکر کی ۔ بنو ہاشم تاجر پیشہ تھے مگر نبی اکرم ﷺ کے پاس سرمایہ نہیں تھا، اس لیے آپ نے اجرت کے بدلے لوگوں کی بکریاں چرانے کا کام شروع کیا۔ بنو سعد میں بچپن گزارنے کی وجہ سے آپ صلی اللہ کو پہلے سے اس کام کا تجربہ تھا۔
بعد میں حضور ﷺ نے اپنے چچا زبیر کے ساتھ تجارت کا تجربہ حاصل کیا اور ان کے ساتھ یمن کا ایک سفر بھی کیا۔
حِلف الفُضُول
حضور اکرم ﷺ کی عمر بیس برس تھی جب مکہ کے کئی شرفاء کی طرف سے مشہور زمانہ حِلف الفضول“ کا معاہدہ ہوا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ جمود اور خوابیدگی کے اس دور میں بھی کچھ لوگوں کے ضمیر زندہ تھے ۔
اس معاہدے کی اصل وجہ تو یہ تھی کہ قریش بلاوجہ کی خونریزیوں سے اکتا گئے تھے اور ایک عادلانہ معاہدہ کرکے امن و امان قائم کرنا چاہتے تھے۔ جبکہ اس کا فوری سبب یہ ہوا کہ بنو زُبید کا ایک تاجر مکہ میں سامانِ تجارت لےکر آیا۔ یہاں ایک قریشی سردار عاص بن وائل نے اس کا تمام سامان خرید لیا مگر اسے قیمت نہیں دی۔ زُبیدی تاجر نے تنگ آکر مکہ والوں سے فریاد کی تو کئی رئیسوں کو رحم آگیا، نبی کریم ﷺ کے چچا زبیر بن عبد المطلب کی تجویز پر یہ لوگ عبداللہ بن جُدعان نامی سردار کے مکان پر جمع ہوگئے اور معاہدہ کیا کہ وہ سب ظالم سے مقابلے اور مظلوم کی مدد کے لیے یک جا رہیں گے۔
معاہدہ ذوالقعدہ میں ہوا تھا۔ اس میں شریک تین نمایاں افراد کے نام : فَضل ، فَضالہ اور مُفَضَّل تھے لہذا اِسے ''حِلف الفضول'' کہا گیا۔ حضور ﷺ بھی اس معاہدے میں شریک تھے اور اس منصفانہ قول و اقرار پر بہت خوش تھے۔ حضور ﷺ بعد میں فرمایا کرتے تھے: ” اس معاہدے کے بدلے مجھے سرخ اونٹ بھی دیے جاتے تو میں قبول نہ کرتا۔ آج بھی کوئی ایسے معاہدے کی دعوت دے تو میں تیار ہوں۔

