پناہ گاہ کی تلاش : ہجرت حبشہ
جب قریش کے مظالم حد سے بڑھ گئے اور مسمانوں پر مکہ کی زمین تنگ ہو گئی تو حضور ﷺ بہت فکرمند رہنے لگے۔ قریش کی ہرحد سے متجاوز دشمنی آپ ﷺ کو یہ سوچنے پر مجبور کر رہی تھی کہ مسلمانوں کے لیے کہیں کوئی جائے پناہ تلاش کرنی ہوگی ۔ بعض صحابہ کرام خود بھی ان مصائب سے عاجز آ کر حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے درخواست کر رہے تھے کہ انہیں کسی اور ملک جانے کی اجازت مل جائے مگر کسی دوسرے ملک جانا کوئی آسان بات نہیں تھی۔
سرزمین عرب میں اس وقت قریب ترین بڑا شہر یثرب تھا جہاں بنو ہاشم کی رشتہ داری بھی تھی مگر یثرب کے عرب قبائل اوس اور خزرج ایک تو خود مشرک اور بت پرست تھے، دوسرے وہ قریش مکہ سے تعلقات بگاڑنا پسند نہیں کرسکتے تھے، خصوصاً ایسے وقت میں جبکہ ان کے اندرونی دشمن یہودی انہیں نیچا دکھانے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے تھے، وہ مکہ کے مسلمانوں کو پناہ دے کر اپنے دشمنوں کی تعداد میں اضافہ کرنا پسند نہیں کرسکتے تھے۔
مغرب میں پناہ لینا اس لحاظ سے بھی غیر مناسب تھا کہ ان ایام میں حجاز کا یہ علاقہ انتہائی خونریز جنگوں کی آماج گاہ بنا ہوا تھا۔ صرف قریش تھے جنہوں نے اپنا دامن بچا کر رکھا تھا ورنہ یثرب اور اس کے چاروں طرف معرکوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری تھا۔ اوس اور خزرج کے ذیلی قبائل بار بار آپس میں گتھم گتھا ہو رہے تھے۔
بنو نضیر ، بنو قریظہ اور بنو قینقاع کے یہود بھی جنگوں کے اس سلسلے کو ہوا دے رہے تھے اور پوری طاقت سے اس میں شریک تھے۔ جنگوں کا یہ سلسہ حرب سمیر سے شروع ہوا تھا اور پھر یکے بعد دیگرے یوم السرارة حرب فارع، حرب حاطب ، اليوم الربیع ، یوم البقیع اور یوم فجار کے معرکے پیش آتے چلے گئے ۔ اب ہر گھر مقتولوں کا وارث تھا اور ہر سینے میں انتقام کی آگ تھی ، ایسے لوگ دوسروں کے معاملات حل کرنے میں کیا دلچسپی لے سکتے تھے۔
دوسرا قریبی ملک جنوب کی طرف یمن تھا مگر وہاں سبا اور حمیر کی سیادت کا زمانہ کب کا گزر چکا تھا اور اب تین عشروں سے وہاں اہل فارس کا سکہ چل رہا تھا جن کی نخوت ، تعصب اور مفاد پرستی کو دیکھتے ہوئے کسی اچھے رویے کی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔
ایسے میں مغرب کی سمت براعظم افریقہ کا ساحلی ملک حبشہ ایک ایسا گوشہ نظر آتا تھا جہاں تشدد زدہ اور مجبور مسلمان پناہ لے سکتے تھے۔ مسلمانوں کے لیے اگر چہ یہ سرزمین بالکل اجنبی تھی اور وہاں کی حکومت اور رعایا کے عیسائی ہونے کے پیش نظر یہ امید بھی نہیں کی جاتی تھی کہ وہاں اسلام کی حمایت و سرپرستی کی جائے گی۔
مگر وہاں کے موجودہ بادشاہ کے بارے میں حضور اکرم ﷺ کو یہ معلمات مل چکی تھیں کہ وہ انصاف پسند آدمی ہے اور کسی پر ظلم نہیں ہونے دیتا۔ حبشہ بحیرہ احمر کے پار ہونے کی وجہ سے عرب کے دیگر شہروں کی بہ نسبت قریش مکہ کی دسترس سے بعید اور ان کی کسی عسکری کارروائی سے بالکل محفوظ تھا۔
تاہم وہاں جانے کا راستہ معروف تھا، کیوں کہ عرب تاجر ایک مدت دراز سے جدہ کے ساحل سے کشتیوں پر سامان لاد کر حبشہ جاتے رہے تھے ۔ رسول اللہ صلی ﷺ اس حقیقت سے اچھی طرح واقف تھے کہ حبشہ اسلام کی تبلیغ اور نفاذ کا مرکز نہیں بن سکتا ، اس کے باوجود وقت کی نزاکت اور حالات کے دباؤ کا تقاضا تھا کہ کوئی نہ کوئی ایسا ٹھکانہ ہونا چاہیے جہاں اسلام کے دشمنوں کو مسلمانوں پر قابو حاصل نہ ہو اور وہاں ضرورت کے وقت کوئی بھی مسلمان جا کر پناہ لے سکے۔
ہجرت حبشہ اولی (رجب ۵ نبوی):
ان پہلوؤں کے پیش نظر آخر کا نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام کو مشورہ دیا کہ وہ حبشہ کو ہجرت کرجائیں۔ اس ہدایت کے تحت نبوت کے پانچویں سال رجب کے مہینے میں مسلمانوں کے چند گھرانوں نے خفیہ طور پر مکہ سے حبشہ جانے کی کے لیے کمر باندھ لی۔
مہاجرین میں گیارہ مرد تھے اور چار خواتین ان میں حضرت عثمان بن عفان ان کی اہلیہ حضرت رقیہ ، حضرت ابو سلمہ ان کی اہلیہ ام سلمہ ، حضرت عامر بن ربیعہ ان کی اہلیہ لیلی بنت ابی حشمہ (ام عبد الله) حضرت ابو حذیفہ بن عقبہ ان کی اہلیہ سہلہ بنت سہیل، حضرت زبیر بن عوام ، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت عثمان بن مظعون ، حضرت مصعب بن عمیر ابو سمرہ بن ابی رہم ، سهیل بن بیضاء اور ابو حاطب بن عمرو شامل تھے۔ رضی اللّٰہ عنہم
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مہاجرین حبشہ میں فقط مسکین اور کمزور قسم کے مسلمان شامل تھے مگر دیکھا جائے تو ان میں ہر طبقے کے افراد نظر آئیں گے۔ ان میں عثمان بن عفان بھی تھے جو مکہ کے امراء اور شرفاء میں شمار ہوتے تھے ۔ ان میں زبیر بن عوام بھی تھے جن کی جرات ضرب المثل تھی ۔ دوسری طرف حضرت بلال اور عمار بن یا سر جیسے مسلمان جو سب سے زیادہ مصائب کا شکار تھے، ان مہاجرین میں دکھائی نہیں دیتے ممکن ہے، وہ اس قدر عاجز ہوں کہ ان کے لیے مکہ سے نکلنا ممکن نہ ہو ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہیں اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تکالیف سہنے میں ہی خوشی ملتی ہو۔
ہجرت کے لیے یہ ترتیب طے کی گئی تھی کہ ایک وقت مقررہ پر سب لوگ ایک ایک، دو دو کی تعداد میں مکہ سے نکلیں گے اور کسی دور دراز جگہ پر جمع ہوں گے تا کہ اہل مکہ عین وقت پر چوکنا نہ ہوسکیں۔
ام عبد اللہ اور عمر بن الخطاب کی گفتگو:
مہاجرین میں سے عامر بن ربیعہ اور ان کی اہلیہ ام عبدالله سامان باندھ کر اونٹ پر مکہ سے نکلے ہی تھے کہ عامر بن ربیعہ کو کوئی نہایت ضروری کام یاد آگیا۔ وہ اہلیہ کو وہی چھوڑ کر شہر کی طرف چلے گئے۔
ان دنوں مسلمان بنو عدی کے ایک دلیر نو جوان عمر بن خطاب سے سہمے رہتے تھے جسے اللہ نے سمجھ بوجھ اور غیرت شرافت سے نوازا تھا مگر اسلام کی حقانیت ابھی تک اس پر واضح نہیں ہوئی تھی اس لیے اس کی پوری کوشش تھی کہ مسلمان ہم وطن بھی اپنے قدیم دین پر واپس آجائیں۔ قسمت کی بات کہ اس وقت غیر متوقعہ طور پر عمر بن خطاب کی اس سمت آمد ہوگئی اور جب ام عبد اللہ کو سامان سمیت اونٹ پر سوار دیکھا تو حیران ہو کر پوچھا: ” کہاں جارہی ہو؟
ام عبد اللہ یہ واقعہ سناتے ہوئے کہتی تھیں۔ " عمر بن خطاب مسلمانوں کے خلاف نہایت شدید تھے۔" مگر اس موقع پر اس اللہ کی بندی نے گول مول بات کرنے کی بجائے بے خوف ہو کر کہا۔
تم لوگ ہمیں ہمارے دین کی وجہ سے ستاتے ہو، پس ہم اللہ کی زمین پر کسی اور جگہ جارہے ہیں جہاں ہم اللہ کی عبادت کریں تو ہمیں تکلیفیں نہ دی جائیں۔نہ معلوم یہ الفاظ کسی درد دل سے ادا کیے گئے تھے کہ انہیں سن کر عمر بن خطاب کا دل پسیج گیا ، چہرے پر ندامت اور رقت کے آثار واضح ہو گئے ۔ منہ سے فقط اتنا نکلا: اللہ تمہارا ساتھی ہو۔
یہ کہہ کر وہ بوجھل قدموں کے ساتھ واپس چل دیے۔ صاف پتا چل رہا تھا کہ مسلمانوں کا گھر بار چھوڑ جانا، عمر بن خطاب کے لیے حسرت ناک ہے۔ ام عبداللہ گم صم رہ گئیں۔ اتنے میں عامر بن ربیعہ آگئے۔ اہلیہ نے فورا کہا ابھی ابھی عمر یہاں سے ہوکر گئے ہیں۔ کاش ! آپ دیکھتے کہ ان کے چہرے پر کیسی حسرت تھی۔
عامر رضی اللہ حیران ہو کر بولے ” کیا تمہیں اس کے اسلام لانے کی اُمید ہو رہی ہے؟ اہلیہ نے کہا ” ہاں ۔
عامر نے کہا: "جب تک خطاب کا گدھا اسلام نہ لے آئے ، تب تک خطاب کا بیٹا بھی اسلام نہ لائے گا۔
حبشہ میں پناہ
آخر مہاجرین کچھ پیدل اور کچھ سوار مکہ سے روانہ ہوئے اور بحیرہ احمر کے ساحل پر جا پہنچے۔ خوش قسمتی سے دو تجارتی کشتیاں حبشہ جانے کے لیے تیار تھیں۔انہوں نے نصف دینار کرایہ لے کر انہیں سوار کر لیا۔
قریش کو ذرا تاخیر سے مسلمانوں کے نکلنے کی خبر ہوگئی ۔ وہ تعاقب کرتے ہوئے ساحل تک آئے مگر اس سے پہلے کشتیاں جا چکی تھیں۔ اس طرح مسلمان حبشہ پہنچے۔ نجاشی نے ان پر دیسیوں کو بڑی عزت سے اپنے ہاں ٹھہرایا اور یہ لوگ افریقہ کے اس انتہائی گرم اور غیر متمدن علاقے میں مکہ کی بہ نسبت بہت آرام سے زندگی بسر کرنے لگے۔
نبی اکرم ﷺ کو ان بے وطن مسلمانوں کی فکر ستاتی رہی ۔ آپ کا اپنی بیٹی رقیہ اور داماد عثمان کےلیے بھی پریشان تھے کہ ان کی کوئی اطلاع نہیں مل رہی تھی ۔ آپ ﷺ مکہ سے باہر راستوں پر نکل کر آنے جانے والوں سے ان کی خیر خبر پوچھا کرتے تھے۔ آخر افریقہ سے آنے والی کسی عورت نے ان کی خیریت سے آگاہ کیا اور کہا:
میں نے آپ کی بیٹی کو سوار پر بیٹے
اور داماد کو سواری کی لگام پکڑے دیکھا تھا۔“
حضور ﷺ کو تسلی ہوئی کہ ان کی لخت جگر اور داماد زندہ سلامت ہیں۔ آپ نے فرمایا:
اللہ ان دونوں کے ساتھ ہو۔ بلا شبہ عثمان لوط علیہ السلام کے بعد
مع اہل و عیال ہجرت کرنے والے پہلے فرد ہیں۔
صحابہ کوصبر و استقلال کا حکم :
اس دوران پیچھے رہ جانے والے صحابہ پر کفار مکہ کے مظالم کی شدت بڑھتی چلی گئی۔مقابلے میں صحابہ کرام نے بھی صبروتحمل کی حد کردی ۔ وہ چاہتے تو بعض مواقع پر جواب میں ہاتھ اٹھا سکتے تھے مگر اللہ کے حکم کے مطابق حضور ﷺ نے انہیں روک رکھا تھا۔ آخر عبد الرحمن بن عوف جیسے عظیم صحابی ایک دن کہہ اٹھے : اللہ کے رسول ! ہم مشرک تھے تو عزت دار تھے۔ ایمان لائے تو بے بس اور مسکین بن گئے! حضور ﷺ نے فرمایا: مجھے درگزر کرنے کا حکم ہے۔ اس لیے لڑائی مت کرنا ۔
اس کے پیچھے حکمت یہی تھی کہ اس کم طاقت کے ساتھ دو چار وقتی کارروائیاں تو ہوسکتی تھیں مگر غلبہ ممکن نہ تھا۔ اس کا نتیجہ دشمن کے اشتعال اور اپنے مصائب میں اضافے کے سوا کچھ نہیں نکل سکتا تھا۔

