اسلام کے نئے مددگار
اسلام کے نام لیوا کم تھے، ابھی تک یہ دین کسمپرسی کے عالم میں تھا مگر اللہ نے اپنے دین کے مددگار پیدا کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ وسلم کے چچا حمزہ بن عبد المطلب جو چوالیس ، پینتالیس سال کے شہزور جوان اور زبردست سپاہیانہ اوصاف کے مالک تھے ، نہ صرف رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حمایت کے لیے شمشیر بکف ہوگئے بلکہ اسلام بھی قبول کرلیا۔ ہوا یہ کہ ایک دن ابو جہل نے صفا پہاڑ پر سب شہریوں کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بری طرح توہین کی اور گالیاں دیں۔ ایک انتہائی شریف آدمی کی سرعام بےعزتی کا یہ منظر اتنا کرب ناک تھا کہ خود دیکھنے والے بھی اپنے دلوں میں درد کی ٹیسیں محسوس کیے بغیر نہ رہ سکے۔ حمزہ بن عبد المطلب اس دن اپنے مشغلے کے مطابق شکار اور تیر اندازی کر کے واپس آرہے تھے۔ راستے میں ایک عورت نے انہیں دیکھا تو کہہ اٹھی:
عمارہ! آج تو ابو جہل نے تمہارے بھتیجے کو بہت ہی تکلیف پہنچائی ، گالیاں دیں اور بہت کچھ کہا۔
یہ سنتے ہی حمزہ بن عبد المطلب بے تاب ہوکر ابو جہل کی تلاش میں نکلے، دیکھا کہ وہ صفا و مروہ کے درمیان قریش کی محفل میں بیٹھا ہوا ہے ۔ آپ نے جاتے ہی اپنی کمان کاندھے سے اُتاری اور اسے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کرسرسے بلند کرتے ہوئے پورے زور سے ابوجہل کی کھوپڑی پر دے مارا، ابو جہل کا سر ہولہان ہوگیا۔
قریش نے طنز کرتے ہوئے کہا : اے ابوعمارہ ! تم تو ایسے نادان نہ تھے، کیا تم بھی ایمان لے آئے ہو؟
یہ ایک فیصلہ کن لمحہ تھا حق کی گواہی دے کر اس پر کٹ مرنے کے لیے تیار ہونے کا یا گُھٹ کر رہ جانے کا۔ حضرت حمزہ دل کی گہرائیوں سے جانتے تھے کہ ان کا بھتیجا سچا ہے، وہ ایک لمحہ توقف کیے بغیر بولے:
ہاں ! میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، وہ اللہ کے پاس سے سچادین لائے ہیں ۔"
ساتھ ہی انہوں نے قریش کو خبردار کرتے ہوئے کہا: یہ تو تھی کمان کی مار آئندہ چلے گی تلوار۔"
سرداران قریش پر ایک ہیبت چھا گئی ، انہیں خدشہ لاحق ہوگیا کہ ایسے دلیر لوگوں کے اسلام قبول کر لینے کے بعد مسلمانوں کو دبانا مشکل ہوتا جائے گا۔
جب حضرت عمر فاروقؓ مشرف بہ اسلام ہوئے (ذوالحجہ ۵ نبوی):
حضور ﷺ قریش کی اس قدر دشمنی اور ایذارسانی کے باوجود ان کے ایسے افراد کی ہدایت کی خصوصیت سے آرزو رکھتے تھے جن میں حق شناس ، صداقت کے لیے قربانی اور قیادت کی غیر معمول صلاحیتیں نظر آتی تھیں، چاہے وہ ابھی اسلام کے کتنے ہی مخالف کیوں نہ ہو اوران سے رسول اللہ ﷺ کوذاتی طورپر کتناہی تکلیف کیوں نہ پہنچ رہی ہو۔
یہ رسول اللہ ﷺ کی وسعت ظرفی اور کشادہ دلی تھی کہ آپ ایسے افراد کی ہدایت کے لیے بھی اللہ تعالی سے دعائیں کیا کرتے تھے۔ قریش کے دو آدمیوں میں آپ کو غیرمعمولی قائدانہ اوصاف نظرآتے تھے ۔ ایک حد درجہ ضدی اور عیار شخص عمرو بن ہشام (ابو جہل) تھا، جو آئے دن آپ ﷺ کے خلاف نت نئے منصوبے بناتا تھا۔ دوسری شخصیت انتہائی بہادر اور جرار تھی۔ یہ اٹھائیس سالہ جیالے نوجوان عمر بن خطاب تھے۔ دلیری وسپہ گری میں بے مثال اور ہمت و بے باکی میں یکتا تھے۔ ایک دو واقعات ایسے پیش آچکے تھے جن سے ان کا دل کسی نہ کسی حد تک اسلام کی
سچائی کومحسوس کرچکا تھا۔
سن کامیابی کی بات
حضور ﷺ کے اعلانہ تبلیغی شروع کرنے سے چند دن پہلے حضرت عمر حرم کے صحن میں سو رہے تھے کہ کسی شخص نے آکر ایک بت کے سامنے جانور قربان کیا۔ اتنے میں ایک نہایت زوردار آواز سنائی دی، کوئی کہہ رہا تھا:
"يا جَلِيح أمرُٗ نَجِيح . رَجُلٌ فَصِيحِ، يَقُولُ : لَا إِلَهَ إِلا اللَّهُ"
(اے جلیح سن کا میابی کی بات ۔ ایک فصیح و بلیغ آدمی کہتا ہے:
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں)۔
حضرت عمر کی حیرت کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ وہ آواز لگانے والے کو تلاش کرتے رہے مگر ناکام رہے۔ اس کے چندہی دنوں بعد مکہ میں حضور ﷺ کی نبوت کا چرچا ہوا۔
حضرت عمر چھپ کر تلاوت نبوی سنتے ہیں
ایک دن حضور ﷺ مسجد الحرام میں نماز ادا کرتے ہوئے ''سورۃ الحاقہ'' کی تلاوت فرمارہے تھے۔ حضرت عمر چھپ کرسننے لگے۔ قرآن مجید کے صوتی و معنوی حسن نے ان کے دل کو موہ لیا ، دل میں کہنے لگے : ''یہ تو واقعی شاعر ہیں۔"
اتنے میں حضور اکرم ﷺ نے آیت تلاوت کی:
وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ
( کسی شاعر کا کلام نہیں تم بہت کم ایمان لاتے ہو)۔
حضرت عمر حیران ہوئے کہ میرے دل کی بات انہیں کیسے پتا چل گئی ۔سوچنے لگے یہ تو جادوگر ہیں۔"
اتنے میں حضور ﷺ نے اگلی آیت تلاوت کی:
وَمَا هُوَ بِقَوْلِ كَاهِنِ قَلِيلاً مَّا تَذَكَّرُونَ۔
(یہ کس جادوگرکا کلام نہیں تم بہت کم نصیحت پکڑتے ہو)۔
جب حضرت حمزہؓ نے اسلام قبول کیا تو قریش میں بڑی بے چینی پھیل گئی۔ ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کسی طرح اسلام کو یک دم حرف غلط کی طرح مٹادیں۔ اِدھر جمعرات کی شب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ سے یہ دعا کر رہے تھے:
یا اللہ اسلام کو عمرو بن ہشام یا عمربن خطاب کے ذریعے قوت عطا فرما۔
اُدھر قریش حضور ﷺ کو قتل کرنے پر آمادہ ہورہے تھے۔ حضرت حمزہؓ کو مسلمان ہوئے ابھی تین دن ہوئے تھے کہ ابو جہل کے بھڑکانے پر قریش کے جوش انتقام کو ٹھنڈا کرنے کا بیڑا عمر بن خطاب رضی اللہ نے اٹھایا ، انہوں نے تلوار سنبھالی اور نبی اکرم ﷺ کو قتل کرنے کے ارادے سے چل پڑے۔ راستے میں نُعیم بن عبد الله النَّحّامؓ مل گئے جو خفیہ طور پر مسلمان ہوچکے تھے، ان کے تیور دیکھ کر پوچھا " "عمر! کہاں کا ارادہ ہے؟
بولے"محمد کے پیچھے جا رہا ہوں جو قریش کے دانش مندوں کو بےوقوف قراردیتا ہے،ہمارے معبودوں کوبرا کہتا ہے اور ہماری جمعیت کی مخالفت کرتا ہے۔“
حضرت نُعیم نے کہا: ''عمر بہت غلط کرنے جارہے ہو۔ اگر محمد ﷺ کو قتل کروگے تو بنوہاشم اور بنو زُہرا کے لوگ تمہیں کہاں چھوڑیں گے!"
مگر حضرت عمراپنے ارادے پراڑے رہے۔ معاملہ زیادہ سنگین ہوتا دیکھ کر نُعیمؓ نے ذہن بدلنے کے لیے ان کی غیرت پرچوٹ کی اور کہا: "عمر پہلے اپنے گھرکی خبر لو۔ تمہاری بہن فاطمہ اور بہنوئی سعید مسلمان ہو چکے ہیں۔
حضرت عمرؓ جب بہن کے دروازے پر پہنچے تو اندر سے قرآن مجید پڑھنے پڑھانے کی آواز آرہی تھی۔ یہ حضرت خبابؓ تھے جو گھروالوں کو قرآن مجید پڑھا رہے تھے۔ حضرت عمرنے زور سے دروازے پر دستک دی۔
بہن نے پوچھا کون؟ جواب دیا " عمر"
یہ سنتے ہی سب گھبرا گئے۔ حضرت خبابؓ کو جلدی سے ایک کوٹھری میں چھپا دیا۔ پھر فاطمہ بنت خطابؓ نے دروازہ کھولا۔ عمر نے اندر داخل ہوتے ہی بہن اور بہنوئی سے پوچھا: ”تم لوگ کیا پڑھ رہے تھے؟“
دونوں بولے : ہم تو آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔“
سعید بن زیدؓ بولے : "عمر بتاؤ اگرحق تمہارے دین کی بجائے دوسرے دین میں ملے تو کیا کریں؟
یہ سنتے ہی عمر حضرت سعید بن زیدؓ پر پل پڑے، انہیں نیچے گرا کر بری طرح مارا، ان کی بہن فاطمہ بنت خطابؓ نے انہیں اپنے شوہرسےہٹانے کی کوشش کی تو انہیں اتنے زور کا طمانچہ مارا کہ ان کا منہ خون سے بھرگیا۔
فاطمہ بنت خطابؓ روتے ہوئے بولیں خطاب کے بیٹے تم جو جی چاہے کرلو مگر میں تو اسلام لا چکی ہوں، گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، میں گواہی دیتی ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں۔
بہن کے یہ جملے سن کراوراسے لہولہان دیکھ کر حضرت عمرؓ کا دل پسیجنے لگا۔غصہ اترگیا اور وہ وہیں چارپائی پر ڈھے کر پوچھنے لگے ''لاؤ، دکھاؤ تم کیا پڑھ رہے تھے؟“
بہن نے کہا: تم ناپاک ہو، جبکہ اس کتاب کو صرف پاک صاف لوگ ہاتھ لگا سکتے ہیں، پہلے غسل کرو۔
حضرت عمر بن خطابؓ نے غسل کیا تو جسم کی کثافت کے ساتھ دل کا میل کچیل بھی بہہ گیا۔ اب بہن نے وحی کے اوراق سامنے لاکر رکھے۔ یہ ''سورہ طہ'' کی آیات تھیں جو انہی دنوں نازل ہوئی تھیں ۔ حضرت عمرؓ آیات پڑھتے گئے اور دل میں ایمان کی روشنی اترتی گئی۔آخر بے تاب ہوکر بولے : ” مجھے حضور ﷺ کے پاس لے چلو۔ ان کی آواز سن کر حضرت خبابؓ جواب تک کوٹھری میں چھپے تھے، باہر نکل آئے اور بولے:
عمر مبارک ہو ، جمعرات کی شب رسول اللہ ﷺ نے دعا مانگی تھی کہ الٰہی! عمربن خطاب یا عمروبن ہشام کے ذریعے اسلام کو عزت دے۔ لگتا ہے وہ دعا تمہارے حق میں قبول ہوگئی ہے۔
حضرت عمرؓ سیدھے صفا پہاڑ کے دامن میں حضرت ارقمؓ کے مکان پر پہنچے جہاں نبی اکرم ﷺ لگ بھگ ان چالیس صحابہ کرام کے ساتھ جنہوں نے حبشہ کی طرف ہجرت نہیں کی تھی، ساری دنیا میں اللہ کے دین کو زندہ کرنے کی فکر میں مشغول تھے۔ ان میں حضرت ابوبکر ، حضرت علی اور حضرت حمزہ نمایاں تھے۔
حضرت عمرؓ نے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک صحابی نے جھانک کر دیکھا اور بتایا کہ عمر تلوار سمیت کھڑے ہیں۔ حضرت حمزہؓ نے کہا: "آنے دو۔ اگر نیک ارادہ ہوا تو بہتر۔ ورنہ ہم اسے اس کی تلوار سے قتل کر دیں گے۔"
جب حضرت عمرؓ نے گھر میں داخل ہوئے تو رسول اللہ ﷺ ان کے کچھ کہنے سے پہلے ہی کھڑے ہوگئے اور انہیں جھنجھوڑ کر کہا: اے عمر! کیا تم اللہ کی طرف سے ذلت اور عذاب آنے سے پہلے باز نہیں آؤ گے؟"
پھر رسول اللہ ﷺ نے دعا فرمائی: اے اللہ یہ عمر بن خطاب ہے ۔ الہی ! اس کے ذریعے دین کو عزت دے ۔ حضرت عمرؓ سے اب رہا نہ گیا، بولے: "میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔
یہ سن کر سب مسلمانوں نے اتنی زور سے تکبیر کا نعرہ بلند کیا کہ مکہ کی ہر گلی میں آواز گونج گئی۔
حضرت عمررضی اللہ نے اسلام لاتے ہی حضور ﷺ سے عرض کیا : یا رسول اللہ ! اب کھلم کھلا اسلام کی تبلیغ کیجیے۔ حضرت عمرؓ نے اگلی صبح مسجد الحرام میں جاکر کفارکے سامنے اپنے اسلام کا برملا اعلان کیا۔ کفاران پر جھپٹ پڑے ۔ یہ اکیلے ان سے لڑتے رہے۔ دیر تک جھگڑا ہوتا رہا۔ آخر کفار مایوس ہوکر پیچھے ہٹ گئے۔حضرت عمرؓ کے اسلام لانے کی خبر سے پورے مکہ میں کھلبلی مچ گئی۔
عبداللہ بن مسعودؓ فرمایا کرتے تھے: "عمر بن خطاب کا اسلام لانا اسلام کی فتح تھی۔ ہم ان کے اسلام لانے سے پہلے کعبے کے پاس آزادانہ نماز تک نہیں پڑھ سکتے تھے۔جب وہ اسلام لائے تو انہوں نے قریش سے لڑائی کی اور کعبہ کے پاس نماز ادا کی۔ان کے ساتھ ہم نے بھی نماز ادا کی۔

