جزیرۃ العرب پر عنایتِ آسمانی کیوں؟
ساری دنیا پر چھائی ظلمت و گمراہی کی اس تاریک شب کا اگر کوئی سر نظر آتا تھا تو وہ اس آخری نبی کا ظہور تھا، جس کی پیش گوئیاں گزشتہ رسولوں اور ان کے بچے پیروکاروں کی زبانی دنیا کی مختلف قوموں اور خطوں میں پھیل چکی تھیں ۔
تاہم کسی کو یہ توقع نہیں ہوسکی تھی کہ اس آخری نجات دہندہ کا ظہور عرب کے بے آب وگیاہ صحرا سے ہوگا۔ خود عربوں کو بھی اپنے اندر ایسے کسی انقلاب کی اُمید نہیں تھی مگر ان کے تمام تر معیوب اور خرابیوں کے باوجود حق تعالٰی نے آخری عالمگیر نبی کی بعثت اور ان کی مدد و نصرت کے لیے اسی قوم کا انتخاب کیا۔
اس میں بے شمار حکمتیں تھیں۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ گمراہی اور تاریکی کے اس دور میں بھی عربوں میں اعلیٰ اوصاف اور شریفانہ خصوصیات کے بہت سے جوہر باقی تھے۔ ہندوؤں اور یہودیوں کے برعکس وہ دھوکے اور فریب کے عادی نہیں تھے۔ اپنی جاہلیت کے باوجود وہ سچے اور کھرے تھے، اس کے ساتھ ساتھ زیرک اور ہوشیار بھی تھے، دھوکا کھاتے تھے نہ دینا پسند کرتے تھے۔ وہ بڑے بڑے شہروں اور قدیم تہذیبوں کے ان قدرتی اثرات سے پاک تھے جو انسان کو بزدل ، آرام پسند اورسست بنا دیتے ہیں۔ ان کی رگوں میں گرم خون دوڑتا تھا اور طبیعتیں کسی بھی خطرے کا سامنا کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتی تھیں۔
یہودی صدیوں کی غلامی کی وجہ سے پست طبیعت ہو چکے تھے اور چوروں کی طرح خفیہ سازشوں میں مصروف تھے۔ اُدھر رومی اور فارسی طویل مدت سے بادشاہت کرتے کرتے انا پسند اور مغرور ہو گئے تھے۔ عرب نہ تو کسی کے غلام رے تھے نہ حاکم وہ اپنی مختصرسی دنیا کے آزاد پنچھی تھے۔ نہ تو کسی پرحملہ کرتے تھے نہ کسی کے دام میں آتے ہے۔
دنیا کی تمام قدیم تہذیبوں کے پاسی اپنی گمراہی کو علوم وفنون کی ملمع سازیوں میں اس طرح چھپا چکے تھے کہ کسی بھی معاملے میں اپنی جہالت اور کم علمی کا یقین کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس کے برعکس عرب سادہ طبیعت اور حق شناس تھے۔ ان کے دل و دماغ کی گمراہ کن فلسفے کی پیچیدگیوں میں نہیں الجھے تھے۔ انہیں بس یہ احساس دلانے کی ضرورت تھی کہ وہ صحیح راستے پر نہیں، پھر ان کی سمت بدلنے میں کوئی دیر نہ لگ سکتی تھی۔
جغرافیائی لحاظ سے بھی عالمگیر دین کے آثار اور عالمگیر امت کے مرکز کے انتخاب میں سرزمین عرب کو فوقیت حاصل تھی، اس لیے کہ یہ آباد زمین کے عین درمیان خط استوا پر تینوں بڑے برِاعظموں ، ایشیا، یورپ اور افریقہ کے سنگم کے قریب واقع ہے۔ اکثر مشرقی اور مغربی ممالک اس سے یکساں فاصلے پر ہیں۔ اس لیے یہاں سے جاری ہونے والے کسی پیغام کسی دعوت یا کسی تحریک کے لیے پوری دنیا پر جلد اثر انداز ہونے کے امکانات زیادہ تھے۔ اگر عرب کی جگہ ہندوستان یا یونان جیسے قدیم تہذیبی مراکز کو ایک نئے دین کا مرکز بنایا جا تا تو یہ اثرات دنیا کے مشرق یا مغرب تک ہی محدود رہ جاتے۔
ایک نئے دین کے لیے عرب کا انتخاب دفاعی لحاظ سے بھی بڑی حکمت پر مبنی تھا، کیوں کہ یہ خطہ تینوں اطراف سے سمندر کی لہروں میں اور شمال کی جانب صحرا کی وسعتوں سے گھرا ہوا تھا ، اس لیے اس علاقے میں فوج کشی کرنا نهایت دشوار شمار ہوتا تھا اوریہی وجہ تھی کہ ہزارہا برس گزرنے کے باوجود عرب کبھی کسی کے غلام نہیں رہے تھے۔ یونان کے سکندرِاعظم ، بابِل کے بُخت نصر اور ایران کے کورش جیسے فاتحین اس کے قریب سے گزر گئے مگر اس کی ریگستانی بھول بھلیوں میں داخل ہونے سے گریزاں رہے۔
آخری رسول کے لیے سادہ غریب اور جفاکش عربوں کے چناؤ میں یہ حکمت بھی کارفرما تھی کہ اس طرح خدا تعالی دنیا کو اپنی قدرت، طاقت اور غلبے کا نظارہ کرانا چاہتا تھا۔ اگر آخری نبی روم یا فارس جیسی کسی بڑی مملکت سے تعلق رکھتے تو اس دین کی دعوت پھیلنے پر دنیا کو یہ کہنے کا موقع مل سکتا تھا کہ ان بڑی قوموں کی دولت و ثروت اور قوت کے بل بوتے پر یہ دین پھیل گیا ہے ور نہ بذات خود اس دین میں کوئی انوکھی بات نہیں۔
خالقِ دوجہاں نے آخری پیغمبر کو ایک کمزور اور مفلس معاشرے میں پیدا فرما کر اس شبے کا امکان ہی ختم کر دیا اور عملی طور پر یہ حقیقت ذہن نشین کر دی کہ وہ اپنے فیصلے کو نافذ کرنے، اپنے دین کو پھیلانے اور اپنے رسول آخر الزمان کا نام نامی دونوں جہاں میں بلند کرنے کے لیے مال و دولت بڑے لشکروں اور حکومتوں کا محتاج نہیں ۔ وہ چاہے تو کمزوروں سے بھی کام لے سکتا ہے اور انہیں زمین کی خلافت جب چاہے عطا کر سکتا ہے۔
اس طرح آخری نبی اگر یونان، اسکندریہ یا قسطنطنیہ جیسے کسی قدیم علمی مرکز میں نمودار ہوتے تو لوگوں کو یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ اس نبی نے قدیم علوم اور فلسفوں سے استفادہ کرکے ایک دین ایجاد کرلیا ہے اور انہی فلسفوں کو نئے رنگ میں پیش کردیا ہے ۔ اللہ نے آخری نبی کے لیے عربوں کے جاہل معاشرے کا انتخاب کر کے یہ حقیقت واضح کردی کہ یہ دین کسی سابقہ علم و فن یا فلسفے کا نہیں بلکہ ایک سچے نبی پر نازل ہونے والا خالص آسمانی دین ہے جسے خود اللہ نے اپنی مخلوق کے لیے پسند کیا ہے۔

