زمانہ فترة میں جزیرۃ العرب
جزیرة العرب اس تمام مدت میں باقی مہذب دنیا سے الگ نظر آتا ہے۔ یہاں مختلف مذاہب کی کش مکش تھی نہ بیرونی طاقتوں کی اجارہ داری۔ عرب کے بادیہ نشین اپنی قدیم تہذیب کے مطابق نہایت سادہ زندگی گزارتے آرہے تھے۔ انہیں کسی غیرملکی طاقت کا تسلط قبول تھا نہ کسی اور تہذیب اور نظریے کو قبول کرنے سے انہیں کوئی دلچسپی تھی۔ اس جزیرہ نما کا محلِ وقوع بھی ایسا تھا کہ بیرونی حالات اس پر کم ہی اثر انداز ہو سکتے تھے۔ اس کے مشرق میں خلیج فارس کی پٹی ہے ، جس نے اسے ایران سے جدا کر رکھا ہے۔ مغرب میں بحیرۂ احمر ہے جو اسے افریقہ سے ہم آغوش نہیں ہونے دیتا۔ جنوب میں بحرِہند کی بے کراں وسعتیں ہیں، جنہیں پار کرکے ہندوستان کے ساحلوں پر اترنا جان جوکھم کا کام ہے۔ صرف شمال میں یہ خشگی سے ملا ہوا ہے، یہاں شام کا علاقہ اس کے اور بحیرۂ روم کے درمیان حائل ہے۔ اس طرح کوئی یورپی جہاز راں براۂ راست عرب کے ساحل پر نہیں اتر سکتا تھا۔
ان کا دوسرا طبقہ ''عرب عاربہ'' تھا، جو قحطان بن عامر کی اولاد تھے۔ زبان میں مہارت اور فصاحت و بلاغت کی وجہ سے انہیں ''عاربہ'' (واضح بات کرنے والے) کہا جانے لگا۔ ان کا اصل وطن یمن اوراس کے گرد و نواح کے علاقے تھے۔ جزیرۃ العرب کے اصل قدیم باشندے یہی لوگ تھے۔ انہوں نے بڑی بڑی حکومتیں قائم کی تھیں اورشہر آباد کیے تھے جن کی آن بان کے قصے قدیم تاریخِ عرب میں محفوظ رہے۔ عربوں کا تیسرا طبقہ مُستعرِبہ (متعربه ) تھا۔ یہ لوگ حضرت اسماعیلؑ کی اولاد سے تھے۔
اولادِ اسماعیل علیہ السلام
حضرت اسماعیلؑ نے قحطانیوں کے قبیلے بنو جُرہم کے سردار مُضاض کی بیٹی سے شادی کی تھی،جس سے بارہ لڑکے پیدا ہوئے تھے۔ ان میں سے نابِت اور قیدار غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک تھے۔ نابِت نے حضرت اسماعیلؑ کے بعد ان کی جگہ خانۂ کعبہ اور زم زم کے چشمے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سنبھالی ۔ اللہ نے حضرت اسماعیلؑ کی نسل میں بہت برکت دی، جلد ہی ان کی تعداد اتنی ہوگئی کہ انہیں معاش کے لیے مکہ سے باہر نکلنا پڑا۔ آخرکار نسلِ اسماعیل میں عدنان کا ظہور ہوا جو قابلیت اور شہرت کے لحاظ سے تاریخِ عرب کے ممتاز ترین فردر ہے ۔ ان کا سلسلۂ نسب سب سے زیادہ محفوظ مانا جاتاہے۔ عدنان کے بعد ہی عربوں میں بنوقحطان اور بنوعدنان کی تقسیم نمایاں ہوئی، جو زمانے کے گزرنے کے ساتھ ساتھ پختہ ترہوتی چلی گی،حتی کہ کھلی دشمنی میں تبدیل ہوگئی۔ ان کی جنگی علامات بھی الگ الگ تھیں۔ قحطانی زرد پرچم اور زرد عمامے استعمال کرتے تھے۔ عدنانی سرخ پرچموں اور سرخ عماموں سے پہچانے جاتے تھے۔عدنان کی اولاد میں سعد بن عدنان نے بڑا نام پایا۔ معد ہی کے دور میں شام پر بخت نصر کا حملہ ہوا تھا، جس میں عرب بھی با دل نخواستہ معاون بنے تھے۔ معد کے بیٹوں میں مُضر کا نام اوراقِ تاریخ میں خوب چمکا۔ ان کی نسل میں فِهر بن مالک وہ شخص ہیں جن کی اولاد ''قریش'' کے نام سے مشہور ہوئی ۔
جزیرۃ العرب کے وسط میں آباد عربوں کی سیاسی تشکیلات زیادہ تر قبائل کی حد تک ہی تھیں۔ بعض اوقات دو یازیادہ قبیلے کسی خاص مقصد کے لیے متحد بھی ہو جاتے تھے۔ باقاعدہ حکومتیں صرف جزیرۃ العرب کے اطراف میں تھیں، جسے جنوبی عرب میں سلطنت یمن، شمال مشرق میں مملکت حیرہ اور شمال مغرب میں مملکت غسان۔ یہ مملکتیں چند مخصوص خاندانوں کے ماتحت چل رہی ہیں، جیسے یمن میں مملکتِ سبا آل قحطان کے پاس تھی ۔ قبائل کی سیادت میں بھی بعض خاص خاندان نامور تھے، جیسے، بنوعدنان کی قیادت قریش کے ہاتھ میں تھی۔
قوم سبا،ملوکِ حمیر اورتبابِعہ
جزیرۃ العرب کے جنوب میں مملکتِ سبا آٹھ صدیوں (۹۵۰ ق م سے۱۱۵ ق م ) تک قائم رہی۔ اس کا بانی قحطان بن عابر اولادِ نوح میں سے وہ پہلا شخص تھا جو یمن آکر آباد ہوا اور اپنی ریاست قائم کی جِسے اس کے پڑپوتے "سبا" نے مسلسل فتوحات کے ذریعے ایک بڑی سلطنت میں تبدیل کردیا۔ اس نے مآرب کے مقام پر ایک عجوبۂ روزگار بند بنواکراس سے سترنہریں نکالیں اوریوں یمن کا ایک وسیع و عریض رقبہ سیراب ہو کر مملکتِ سبا کی خوشحالی اور ترقی کا ذریعہ بن گیا۔سبا کا بیٹا حِمیَر اس کا جانشین ہوا اور آئندہ سبا کے کئی نامور بادشاہ اس کی نسل سے ہوئے۔ سبا کی چوتھی پشت سے تُبّع اول حارث نے بہت شہرت پائی۔ پھر اس کے بیٹے "صَعب" نے مشرق و مغرب میں بڑے بڑے ملک فتح کیے اور ذوالقرنین کے لقب سے مشہور ہوا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بقول قرآن مجید میں اسی ذوالقرنین کا ذکر ہے۔
وقت گزرنے کے ساتھ قوم سبا کا عروج بڑھتا گیا۔ زراعت کے ساتھ ساتھ تجارت میں بھی یہ قوم ہر طرف چھا گئی۔ بحروبر میں یمن سے شام تک اس کے تجارتی قافلوں کی ریل پیل ہو گئی ۔ ہندوستان اور مشرق کا مال یمن کے ساحل پراترتا اور مقامی لوگ اسے شام لے جا کر خوب نفع کماتے ۔
سبا کی اولاد میں سے نویں پشت پر بلقیس بنت شُرحبِیل نے مملکتِ سبا کا اقتدار سنبھالا اور پورے بیس سال بڑی آن بان سے حکومت کی ۔ قومِ سبا سورج کی پرستش کرتی تھی مگر بلقیس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھ پراسلام قبول کر لیا ، جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے۔
مگرعمومی طور پر قومِ سبا اپنی بدعقیدگی پر جمی رہی ۔ ثروت اور خوشحالی اس کی بے فکری اور ناشکری کا سبب بھی بن گئی تھی۔ قوم کو سفر و حضر میں عیش و آرام کے اس قدر سامان میسر تھے کہ لوگ ناشکری کرکے مشقت اور تکلیف کی تمنا کرنے لگے تھے۔ آخر اس ناشکری کا وبال آیا۔ اُن کا مشہورِ زمانہ بند سدِمآرب ٹوٹ گیا۔ مملکت کا دارالحکومت ''مآرب" پانی کے دھارے میں غرق ہوکر بے نام و نشان ہوگیا ۔ سیلاب نے مملکت سبا کی آبادی اور معیشت کو اس طرح تہس نہس کر دیا کہ لوگ ترکِ وطن پر مجبور ہوگئے ۔ اس طرح مملکتِ سبا کا خاتمہ ہوگیا۔
مملکتِ سبا کے خاتمے کے بعد یمن میں آلِ سبا کے مختلف رئیسوں نے چھوٹے چھوٹے قلعوں اور بستیوں میں الگ الگ حکومتیں قائم کرلیں ۔ ان میں ملوکِ حمیر کی سلطنتِ تبابِعہ آہستہ آہستہ طاقتور ہوگئی،جو ایک سو پندرہ سال قبل از مسیح قائم ہوئی تھی اوراس کا ہر بادشاہ ''تُبّع" کہلاتا تھا۔ بحیرۂ احمر کے ساحل سے حضرِ موت تک اُن کی حکومت تھی جو بعد میں نہ صرف یمامہ اور حجاز بلکہ ایک دور میں ایران،خراسان اور وسط ایشیا تک پھیل گئی تھی۔ ملوکِ سبا کے برخلاف تبابِعہ کا رجهان زراعت و تجارت کی طرف نہیں بلکہ فتوحات اور لشکر کشی کی طرف تھا۔ تابعہ میں شِمر،ابوکَرِب،تُبّع اوسط، تُبع بن حسان (تُبّع اصغر)اورحارث بن عمرو بہت مشہور ہیں۔
اس طرح بنوحِمیَر کی حکومت کا دورانیہ ۱۱۵ق م سے ۵۰۰ ع تک کل چھ سو پندرہ سال بنتا ہے۔ اس عرصے میں کل چھبیس بادشاہوں نے حکومت کی۔
یمن پرحبشیوں کا تسلط اور سیف بن ذی یَزَن کی تحریکِ آزادی
بنو حِمیر کے بعد یمن میں اہل حبشہ کی حکومت ۷۲ سال تک رہی جس میں چار حکمران گزرے: پہلا حکمران اریاط تھا۔ دوسرا ابرہہ،جس نے مکہ پر حملہ کیا تھا۔ ان دونوں کی حکومت طویل رہی۔ابرہہ کے بعد اس کا بیٹا یکسوم اور پھر دوسرا بیٹا مسروق حکمران بنے۔ دونوں کو تھوڑے دن ہی ملے۔ یاد رہے کہ یمن کے یہ حبشی حکمران خود مختار نہیں تھے بلکہ ان کی حیثیت حبشہ کے بادشاہ کے گورنر کی تھی ۔ خود حبشہ کا بادشاہ عیسائی ہونے کے ناطے قیصر کا باج گزار تھا۔
آخر یمن کے ایک سردار سیف بن ذی یَزن نے حبشیوں کے خلاف آزادی کی تحریک چلائی۔ عرب اس کے ساتھ ہوگئے۔ حضور نبی ﷺ کی ولادت کے دو سال بعد سیف بن ذی یَزَن کے ہاتھوں حبشیوں کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔

