Abdul Muttalib Aur Hazrat Abdullah

 عبد المطلب


        قریش کے سردار ہاشم شام کی تجارت کے سفر میں یَثرِب" سے گزرا کرتے تھے ۔ ایک بار یہاں بنو نَجّار کے ایک رئیس عمرو بن لَبِید کے ہاں قیام ہوا۔ دونوں میں تعلقِ خاطر اتنا بڑھا کہ ہاشم کی درخواست پر عمرو نے اپنی بیٹی سلمٰی ان کے نکاح میں دے دی۔ ہاشم عین جوانی میں انتقال کر گئے ۔ اس وقت ان کی بیوی سلمٰی اپنے میکے یثرب میں تھیں اور امید سے تھیں ۔ کچھ مدت بعد وہیں بچے کی ولادت ہوئی جس کا نام "شَیبہ " رکھا گیا ۔ یہ یتیم بچہ سات برس تک اپنے ننھیال میں پلتا رہا۔ مکہ میں ہاشم کے ورثاء کو کوئی پرواہ نہ تھی کہ ان کے خاندان کا ایک انمول جوہر کہاں گمنامی میں پڑا ہے۔ سات برس بعد ہاشم کے بھائی مطلب کو یَثرِب سے آنے والے کسی شخص نے کہا: میں نے یثرب میں کچھ لڑکوں کو دیکھا ہے جن میں تمہارا بھتیجا بھی تھا۔ ایسے قیمتی بچے سے محروم رہنا اچھا نہیں ۔



        یہ سنتے ہی مطلب نے یَثرِب کا رخ کیا، ہاشم کی بیوہ سے ملے اور اُن کی اجازت سے شیبہ کو مکہ لے آئے۔ مکہ میں داخل ہوتے وقت یہ سواری پر ان کے آگے بیٹھا تھا، لوگ سمجھے کہ مطلب نے کم سن غلام خریدا ہے۔ اس دن سے وہ شیبہ کو عبد المطلب کہنے لگے، یعنی مطلب کا غلام - جوان ہوکر یہی عبد المطلب بن ہاشم ، قریش کے سب سے نامور سردار بنے۔ مطلب نے عمر بھر اپنے بھائی ہاشم کی جانشینی کا حق ادا کرتے ہوئے حاجیوں کی خدمت کی۔ جب مطلب نے ایک سفر کے دوران یمن کے دور دراز علاقے میں وفات پائی تو ان کے بھتیجے عبد المطلب بن ہاشم ان خدمات پر مامور ہوئے ۔ عبد المطلب نے حاجیوں کو پانی پلانے اور کھانا کھلانے کے ایسے عمدہ انتظامات کیے جو ان سے پہلے قریش میں سے کسی نے نہیں کیے تھے۔


        عبد المطلب نے کئی نکاح کیے جن سے بکثرت اولاد ہوئی۔ ایک نکاح اپنے ننھیال یعنی بنو نَجّار کی لڑکی فاطمہ بنت عمرو بن عائذ سے کیا۔ اس بیوی سے ان کے سب سے نامور بیٹے عبداللہ (حضور ﷺ کے والد ) کی ولادت ہوئی۔


        اس زمانے میں عبد المطلب نے خواب دیکھا کہ کوئی شخص انہیں زم زم کا کنواں کھودنے کی ہدایت دے رہا ہے ۔ زم زم کا کنواں ایک عرصے سے بند تھا۔ بنو جُرہم جب مکہ سے بھاگے تھے تو جاتے جاتے زم زم کے کنویں کومٹی سے پُر کر کے زمین کے برابر کر گئے تھے۔ تب سے یہ کنواں بے نام و نشان تھا۔


        عبد المطلب نیند سے جاگے اور سویرے سویرے اپنے بیٹے حارث کو لے کر زم زم کے مقام پر پہنچ گئے ۔ دونوں نے مل کر کھدائی شروع کی تو پانی کی دھار نمودار ہوئی ، جسے دیکھ کر عبدالمطلب بے حد مسرور ہوئے ۔ اس طرح صدیوں بعد زم زم کا پانی دوبارہ جاری ہوا۔ چونکہ زم زم کی از سرنو دریافت عبد المطلب کا کارنامہ تھا اس لیے وہ اس کی خدمت میں کسی اور خاندان کو شریک نہیں کرنا چاہتے تھے مگر قریش کے سردار ان سے جھگڑنے لگے ۔ ان کی کوشش تھی کہ زم زم کی تولیت میں بنو ہاشم انہیں بھی حصہ دیں۔ اس موقع پر عبد المطلب نے نذر مانی کہ اگر ان کے دس لڑکے ہوئے تو وہ ان میں سے ایک کو اللہ کے لیے قربان کر دیں گے۔ اللہ کی قدرت کہ حارث کے بعد عبد المطلب کے ہاں مزید نولڑکے پیدا ہوئے، یعنی زبیر،حجل، ضِرار، مقوِّم، ابولہب، ابوطالب، عبدالله ، عباس اور حمزہ ۔ جب دسویں لڑکے حمزہ کی ولادت ہوئی تو عبد المطلب پراپنی نذر کو پورا کرنا ضروری ہو گیا۔


عبد اللہ

        انہوں نے بیٹوں کے ناموں کی قرعہ اندازی کی کہ کس کو ذبح کیا جائے ۔ ہر بار قرعہ حضرت عبد اللہ ہی کا نام نکلا۔ عبد المطلب کو اپنے اس بیٹے سے بے حد محبت تھی اس لیے وہ بہت رنجیدہ ہوئے ، بہر حال دل پر پھر رکھ کے عبداللہ کولِتایا اور ذبح کرنے کے لیے چھری اٹھائی جب ان کے ایک لڑکے نے آگے بڑھ کر عبداللہ کو پاؤں کے بیچے سے کھینچا۔ اِدھر قریش کے سردار بھی دوڑے آئے اور انہوں نے عبد المطلب کو زبردستی روک دیا اور کہا کہ اگر ایسا کروگے تو انسانوں کی قربانی کی رسم چل پڑے گی ۔ 

        اس کے بعد قریش کے مشورے سے عبد المطلب طویل سفر کرکے ایک کاہنہ کے پاس گئے جو خیبر میں رہتی تھی۔ اس کو صورت حال بتا کر اس کی تجویز پرعمل کیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت عبد اللہ کے بدلے سو اونٹ قربان کیے گئے۔ کچھ دنوں بعد حضرت عبداللہ کا نکاح بنوزُہرہ کی ایک خاتون آمنہ بنت وہب سے ہوگیا جو قریش کی تمام عورتوں میں سب سے زیادہ شریف اور بہترین نسبت کی حال تھیں۔ اُنہی عبداللہ اور آمنہ کی قسمت میں حضور رحمت دوعالم حضرت محمدﷺ  کے والدین ہونے کی عظیم ترین سعادت لکھی تھی۔


        حضرت عبداللہ پچیس برس کے تھے کہ قریش کے تجارتی قافلے کے ساتھ شام گئے ۔ واپسی میں وہ اپنے والد کے حکم کے مطابق یَثرب" سے کھجوروں کا ذخیرہ لینا چاہتے تھے مگر اس سے پہلے ہی اتنے بیمار پڑ گئے کہ سفر کے قابل نہ رہے۔ عبد المطلب کو اطلاع ہوئی تو انہوں نے فورًا اپنے بڑے بیٹے حارث کو یثرب روانہ کیا تا کہ وہ عبداللہ کی خیر خبر لیں مگرجب حارث یثرب پہنچے تو اس سے ذرا پہلے حضرت عبداللہ ایک ماہ کی بیماری کے بعد وفات پاچکے تھے اور انہیں نابغہ جعدی کے احاطے میں دفن کر دیا گیا تھا۔


        عبد المطلب کو اپنے جواں سال لاڈلے بیٹے کی ناگہانی موت کا شدید غم ہوا۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ اس بیٹے کی جگہ اللہ تعالی انہیں ایسا پوتا دینے والا ہے جو اُن کا نام تا قیامت زندہ رکھے گا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic