Kainaat ki Subh-e-Sadiq: Huzoor ﷺ Ka Bachpan

 کائنات کی صبح صادق


        آخر وہ جاں فزا گھڑی بالکل قریب آگئی جس کا کائنات کے ذرے ذرے کو انتظار تھا۔ واقعہ فیل کے چالیس دن بعد پیر کے دن قریش کے سردار عبد المطلب بن ہاشم کو صبح سویرے اطلاع ملی کہ اللہ نے انہیں ایک پوتے سے نوازا ہے۔ یہ ربیع الاول کا مہینہ تھا جبکہ خالص قمری تقویم کے لحاظ سے یہ ماہ رمضان تھا۔ تاریخ کے بارے میں اختلاف ہے۔ ۸،۹،۱۰ اور ۱۲ کے اقوال مشہور ہیں ۔



        وہ دوڑے ہوئے آئے۔ اپنی بہو آمنہ بنت وہب کے پہلو میں ایک چاند سا حسین بچہ دیکھا تو ان کا دل شفقت و محبت سے لبریز ہو گیا۔ چھ ماہ پہلے ان کے سب سے چہیتے بیٹے عبد اللہ کا انتقال ہو گیا تھا، یہ بچہ اسی عبداللہ کی نشانی تھا۔ عبد المطلب بچے کو گود میں لے کر کعبہ میں داخل ہوئے۔ اللہ کی حمد وثنا بیان کی ، اس بچے کا نام سوچنے لگے تو ان کے زہن میں ایک بالکل نیا نام "محمد" آیا جو اس سے پہلے عربوں میں کسی نے نہیں رکھا تھا۔ اللہ تعالی نے یہ منفرد نام اپنے آخری رسول کے لیے محفوظ کیا ہوا تھا جو عین وقت پر عبد المطلب کے دل میں ڈال دیا گیا۔


        اس آخری نبی کا شجرہ‌ نسب یوں ہوا۔ محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فهر بن مالک بن نظر بن کنانہ بن خزیمہ بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار بن معد بن عدنان"عدنان کے بعد کئی واسطوں سے حضور نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا سلسلہ نسب حضرت اسماعیل علیہ السلام سے جاملتا ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بڑے صاحبزادے اور برگزیدہ نبی تھے۔


پاکیزہ بچپن

        رسول الله صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو شروع شروع میں چند دن ان کے چچا ابولہب کی باندی ثویبہ نے دودھ پلایا۔ اس دوران عبد المطلب اپنے یتیم پوتے کے لیے کسی دودھ پلانے والی کو تلاش کر رہے تھے۔ عربوں میں یہ رواج تھا کہ شیر خوار بچوں کو پرورش کے لیے دیہات کی دایوں کے حوالے کر دیتے تھے تا کہ انہیں کھلی اور صاف آب و ہوا میسر آئے اور ان کے جسم و جان کی اچھی نشونما ہو۔ اس کے علاوہ دیہاتیوں کی زبان بھی فصیح اور خاص ہوتی تھی ، جسے سیکھ کر بچے بھی ابتدائی سے خوش گفتار بن جاتے تھے۔ 


        طائف کے قریب آباد بنو سعد اپنی فصاحت و بلاغت کے باعث مشہور تھے۔ اس لیے مکہ کے شرفاء ان کی دایوں کی خدمات حاصل کرنا زیادہ پسند کرتے تھے۔ انہی دنوں اس قبیلے کی چند دایاں بچے گود لینے کے لیے مکہ آئیں مگر کسی دائی نے رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو گود نہ لیا تھا؛کیوں کہ یہ خشک سالی کا زمانہ تھا اور ان لوگوں کو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے ٹھیک ٹھاک معاوضہ چاہیے تھا۔ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو یتیم دیکھ کر کسی دائی کو اس گھر سے معقول معاوضہ ملنے کی توقع نہ ہوئی۔ 

        دایوں کے اس قافلے میں حلیمہ سعدیہ نامی ایک نیک خاتون بھی تھیں۔ انہیں کسی گھر س کوئی بچہ نہ ملا۔ آخر وہ حضرت آمنہ کے گھر میں داخل ہوئیں ، اس یتیم بچے کو دیکھتے ہی اس کی محبت ان کے دل میں پیوست ہوگئی، وہ زیادہ اجرت کا خیال کے بغیر ہی رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو سینے سے لگائے اپنے ساتھ لے آئیں۔ ان کو گود لیتے ہی حلیمہ سعدیہ کو ہر طرف برکت ہی برکت نظر آنے لگی ۔ لاغر جانور توانا ہوگئے، بدحالی خوشحالی میں بدل گئی۔

        نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی نشوونما عام بچوں سے مختلف ہوئی ، جب عمر مبارک دو برس ہوئی تو حلیمہ سعدیہ نے دودھ چھڑا دیا۔ نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اپنے رضاعی بہن بھائیوں کے ساتھ بکریاں چرانے جنگل میں جانے لگے ۔ اس دوران ایک دن اچانک دو فرشتے نازل ہوئے جنہوں نے رحمت عالم نبی  کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا سینہ مبارک چیرا اور آپ کے دل سے سیاہ لوتھڑے جیسی کوئی چیز نکال کر پھینک دی اور دل کو ایمان و حکمت سے بھر کر واپس رکھ دیا۔ اس کے بعد حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے جسم مبارک پر سینہ چیرے جانے کا کوئی نشان تک نہ رہا۔ 

        حضور صلی اللہ علیہ وسلم چار سال کی عمر تک بنو سعد میں رہے۔ اس کے بعد حلیمہ سعدیہ نے آپ کو والدہ کے سپرد کردیا۔ قبیلہ بنو سعد میں گزرے ان دنوں کی سادہ و جفاکش زندگی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحت نشو ونما اور تربیت پر بہت عمدہ اثرات ڈالے۔ حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم  بعد میں کبھی کبھار صحابہ کرام سے فرماتے تھے: میں تم سب سے زیادہ خالص عرب ہوں اور میں نے بنو سعد کے قبیلے میں دودھ پیا ہے ۔


والدہ کے ساتھ یثرب کا سفر 

        مکہ واپس آنے کے بعد جب حضور صلی اللہ علیہ کی عمر مبارک چھ سال ہوئی تو والدہ محترمہ آپ کو لے کر یثرب روانہ ہوئیں تا کہ اپنے شوہر کی قبر پر جائیں اور بچے کو اس کے والد کے ننھیالیوں سے ملائیں۔ ان کی حبشی باندی برکہ (ام ایمن) بھی اس سفر میں ہم راہ تھیں، جنہیں عبداللہ نے میراث میں چھوڑا تھا۔ یثرب میں حضرت آمنہ نے اپنے شوہر کے ننھیال بنو نجار میں کچھ دن گزارے۔ یہاں بنو عدی بن نجار کا تالاب بھی تھا جس میں نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے تیراکی سیکھیں۔ 

حضرت آمنہ کی وفات اور عبد المطلب کی کفالت

         واپسی کے سفر میں حضرت آمنہ "ابواء" کے مقام پر پہنچی تھیں کہ اچانک ان کا آخری وقت آگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ یہ ویران غیر آباد مقام مکہ اور یثرب دونوں کے بیچوں بیچ تھا۔ چاروں طرف پہاڑ تھے جن کے درمیان ایک ٹیلے پر حضرت آمنہ کی تدفین کی گئی۔ عبداللہ کا یتیم ، چھ سال کی عمر میں ماں کے سہارے سے بھی محروم ہوگیا اور وہ بھی اس کسمپرسی کے عالم میں کہ دور دور تک کوئی عزیز یا رشتہ دار نہ تھا جوسر پر ہاتھ رکھتا اور سینے سے لگا کر تسلی دیتا۔ یہ اللہ تعالی کی طرف سے غیر معمولی شخصیات کی تربیت کے وہ مراحل ہوتے ہیں جو بھٹی کا کام کرکے استعداد کے ہونے کو کندن بناتے ہیں۔ 

           حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی باندی برکہ ( ام ایمن جو غالبا اس وقت خود سولہ سترہ برس سے زیادہ کی نہ تھیں ) بڑی مشکل سے آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو ساتھ مکہ لائیں۔ عبد المطلب نے اپنے در یتیم کو پوری طرح اپنی آغوش شفقت میں لے لیا۔ وہ ایک آن پوتے کو اپنی نظروں سے دور نہ ہونے دیتے تھے۔ جب کعبے کے سایے میں اُن کے لیے وہ رئیسانہ قالین بچھایا جاتا جس پرکسی اور کو بیٹھنے کی اجازت نہ تھی تب بھی وہ اپنے ہونہار پوتے کو ساتھ بٹھاتے ۔

          حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم سات سال کے تھے جب عبد المطلب کچھ دنوں کے لیے آپ کو چھوڑ کر یمن گئے تاکہ وہاں کے نئے حاکم سیف بن ذی یزن کو مبارک باد دیں جس نے یمن سے حبشیوں کا اقتدار ختم کرکے عربوں کو دوبارہ عروج بخشا تھا۔ اس سفر کے سوا عبد المطلب نے ہمیشہ یتیم پوتے کو دل سے لگا کر رکھا۔

عبدالمطلب کے بعد 

          مگر والہانہ شفقت کے یہ دن باد صبا کی طرح گزر گئے اور ایک دن عبد المطلب بھی دنیا سے رخصت ہوگئے ۔ اس وقت حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی عمر ۸ سال دو ماہ دس دن تھی ۔ جاتے جاتے عبدالمطلب اپنے بیٹے ابو طالب کو حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی دیکھ بھال کی وصیت کرگئے اور وہی آپ کے سر پرست بنے۔

        اسی سال عرب کے مشہور سخی اور قبیلہ بنی طے کے سردار حاتم طائی کا انتقال ہواتھا اور یہی سال فارس کے سب سے نامور بادشاہ نوشیروان کی وفات کا ہے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic