خانوادۂ نبوت آپ کے شانہ بشانہ
حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دعوتی وروحانی جدوجہد میں انتہائی انہماک کے باوجود اپنی خانگی زندگی کے اہم فرائض سے بے پروا نہیں رہتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بڑی بیٹی حضرت زینبؓ کوان کے خالہ زاد ابو العاص بن ربیع سے بیاہ دیا تھا وه حضرت خدیجہؓ کی بہن ہالہ کے بیٹے تھے اور خاندان کے ایک تاجر پیشہ شریف نوجوان تھے، اگر چہ ابھی ایمان نہیں لائے تھے مگر اس وقت جبکہ ایمان لانے والے گنتی کے چند ہی افراد تھے، اس سے بہتر رشتہ کوئی اور نہ تھا۔ مشرکین سے نکاح کے بارے میں اب تک کوئی شرعی حکم نہیں آیا تھا۔
دوسری بیٹی حضرت رقیہؓ کو جنہیں عُتیبہ بن ابولہب نے طلاق دی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے سب سے حیادار نوجوان حضرت عثمان بن عفانؓ کے نکاح میں دے دیا جو بالکل ابتدا میں اسلام لانے والوں میں سے تھے اور مالی لحاظ سے بھی خوشحال تھے۔ حضرت خدیجہؓ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بیٹیاں اللہ کی طرف دعوت دینے کی عظیم ذمہ داری میں آپ کی پوری پوری معاون اور غم گسار تھیں۔
حضرت زینبؓ چونکہ سب سے بڑی تھیں ، اس لیے خاص طور پر اپنے والد کا خیال رکھتی تھیں کہ وہ کہاں گئے ہیں اور کس حال میں ہیں۔ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بازاروں اور گلی کوچوں میں اللہ کی توحید کا پیغام سناتے سناتے اور کافروں کی ایذائیں سہتے سہتے بے حال ہوجاتے ، اتنے میں حضرت زینبؓ آپ کو تلاش کرتے ہوئے آن پہنچتیں اور آپ کو دشمنوں کی ایذا سے بچانے کی کوشش کرتیں۔
حارث بن حارث اپنے لڑکپن کا چشم دید واقعہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے باپ کے ساتھ مکہ پہنچ تو دیکھا ایک جگہ رش لگا ہوا ہے۔ پوچھا ابا یہ کیا مجمع ہے؟ باپ نے کہا بیٹا یہ لوگ ایک بے دین آدمی کو گھیرے ہوئے ہیں۔
وہ باپ کے ساتھ سواری سے اترکر مجمعے میں گھس گئے۔ دیکھا تو نبیٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ایمان اور توحید کی دعوت دے رہے ہیں ، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی تردید کررہے ہیں اور طرح طرح کی تکلیف دے رہے ہیں ۔ آدھا دن اسی طرح گزر گیا، اس کے بعد مجمع چھٹ گیا تب ایک خاتون پانی کا برتن اور رومال لیے ہوئے ادھر آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پانی پلایا پھر وضو کرایا۔ لوگوں سے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ یہ خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی زینبؓ ہے۔
ایک اور گواہ منیب ازدی ہیں جو بتاتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے مجمعے میں فرمارہے تھے۔
''لوگو! لا الہ الا اللہ کہہ دو، کامیاب ہوجاؤ گے''۔
مگر لوگ آپ کو گالیاں دینے لگے۔ کسی نے مٹی کا بڑا تھال بھر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اس طرح پھینکا کہ سارا بدن خاک آلود ہوگیا۔ ایک بد بخت تو چہراۂ انور پرتھوکنے سے بھی باز نہ آیا۔ دوپہر ہوگئی جب ایک لڑکی پانی کا پیالہ لے کر آئی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک دھویا اور لڑکی سے کہا اپنے باپ کے بارے میں خدشہ مت کر کہ وہ اچا نک مارا جائے گا یا رسوا ہوجائے گا۔ یہ لڑکی حضرت زینب بنت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن مسجدالحرام میں نماز پڑھ رہے تھے کہ ابوجہل نے کہا کوئی ایسا نہیں جو اونٹ کی اوجھڑی اُٹھا کر لائے اور جب محمد سجدے میں جائیں تو وہ اوجھڑی آپ کی پشت پر رکھ دے۔"
یہ سن کر عقبہ بن ابی مُعَیط جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دشنی نکالنے میں بہت آگے تھا گیا اور کسی اونٹ کی اوجھڑی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر عین اس وقت رکھ دی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے۔
مشرکین اپنی اس شرارت سے اتنے لطف اندوز ہورہے تھے کہ ہنستے ہنستے ایک دوسرے پر گرے جاتے تھے کسی نے جاکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ان کی بیٹی حضرت فاطمہؓ کو خبر دے دی جو کم عمر لڑکی تھیں۔ وہ فورًا آئیں بڑی مشکل سے اوجھڑی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک سے دھکیلا۔ پھر کافروں کی طرف متوجہ ہو کر انہیں برا بھلا کہنے لگیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے سے سر اٹھایا تو کپڑے ناپاک ہو چکے تھے۔ مشرکین ابھی تک قہقہے لگارہے تھے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لاچاری کی حالت میں اللہ کو پکارتے ہوئے ان کے لیے ایسی بددعا فرمائی جسے سن کر ان کے چہروں کے رنگ اُڑ گئے اور انہیں ڈر لگا کہ یہ بددعا کہیں قبول نہ ہو جائے۔
یہ واقعات بتاتے ہیں کہ اسلام کے لیے قربانیاں دینے میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جان، مال اور اہل و عیال سمیت شریک تھے اور یہی ایک سچے داعی اور کامل راہ نما کے شایانِ شان ہے۔
تقریبًا یہی ایام تھے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی منہ بولی ماں حضرت ام ایمنؓ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لے پالک حضرت زید بن حارثہ ؓ کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا ، جو اپنی ماں کی طرح سیاہ فام تھا۔ بچے کا نام اسامہ رکھا گیا،اس بچے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر معمولی حد تک محبت تھی۔
اولاد نرینہ کی وفات اور مشرکین کے طعنے
اس دوران حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک اور بہت بڑی آزمائش آئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بڑے صاحبزادے قاسم جو آپ کی بعثت سے پہلے پیدا ہوئے تھے اور اب اتنے بڑے ہو چکے تھے کہ گھوڑے پر سوار ہوجاتے تھے، اللہ کو پیارے ہوگئے۔ کچھ دنوں بعد آپ کے دوسرے صاحبزادے عبداللہ بھی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نرینہ اولاد کوئی نہ رہی۔اولاد کی جدائی کا غم ہی کچھ کم جگر سوز نہ تھا مگر مشرکین نے اسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مزید دل آزاری کا ذریعہ بنالیا اب وہ کہتے پھرتے تھے کہ محمد " ابتر'' ہو گئے ہیں، یعنی ان کی اولادِ نرینہ ختم ہوچکی ہے، آئندہ ان کی نسل ہوگی نہ کوئی نام لینے والا اللہ تعالی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی کے لیے سورۃ الکوثر نازل فرمائی اور یہ اعلان فرمایا:
(واِنَّ شانِئَكَ هُو الاَبتَر)
یقینا آپ کے دشمن ہی بے نام و نشان ہوجائیں گے۔
اولاد نرینہ کی وفات میں حکمتِ الہیہ
اللہ تعالی کے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولادِ نرینہ کو جلد اپنے پاس بلا لینے میں سب سے بڑی حکمت یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری نبی ہونا طے ہوچکا تھا ۔ اب اگر آپ کے لڑکے جوان ہوکر نبی نہ بنتے تو کسی کو یہ شک ہوسکتا تھا کہ شاید گزشتہ انبیائے کرام زیادہ قابل اور اپنی اولاد کے زیادہ اچھے مربی تھے کہ ان کی اولاد بھی پیغمبر ہوئی۔اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے قابل ہوتے تو ان کی اولاد بھی نبی ہوتی ۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لڑکوں کی نعمت عطا ضرور کی تاکہ آپ اس انعام سے محروم نہ رہیں مگر ان کو جلد واپس بلا لیا تاکہ کسی قسم کا شک پیدا نہ ہو سکے۔
اک نئی امت کی تشکیل
یہ آزمائش صبروتحل استقامت،حکمت عملی اور تربیت کے دن تھے ۔ اسلام کی تاریخ میں یہ ایام سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں؛ کیوں کہ انہی دنوں میں وہ افراد تیار ہورہے تھے، جن پر آگے ساری امت کی قیادت اور رہنمائی کا دارومدار تھا۔ کفار کی سختیوں ، طعنہ زنیوں ، جسمانی و ذہنی ایذا رسانیوں ، الزامات و اعتراضات کے طوفانوں کردار کشی کی نت نئی مہموں ، خفیہ سازشوں اور علانیہ رکاوٹوں کے جواب میں نبی آخرالزماںصلی اللہ علیہ وسلم کی حکمت عملی صبروتحمل،عدم تشدد، حزم واحتیاط اور ہرشخص کو ہر حال میں اللہ تعالی کی طرف دعوت دینے پرمشتمل تھی۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی لوگوں کو صبح و شام خفیہ اور علانیہ اللہ کی طرف بلا رہے تھے۔ دن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر کوہِ صفا کے دامن میں واقع حضرت ارقمؓ کے مکان میں تشریف فرما ہوتے جو اسلام کا پہلا دعوتی مرکز اور پہلا مدرسہ تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم روزانہ صبح و شام ابوبکر صدیقؓ سے ان سے اُن کے گھر پر جاکرملا کرتے تھےاورمشورے فرماتے۔ کفار کے مقابلے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے پاس حکومت،دولت اورافرادی قوت نہیں تھی۔ آپ کی طاقت اور ہتھیار اللہ پر مضبوط ایمان،اس کی مددونصرت پریقین،اس سے ہرحال میں تعلق اوراس سے بےتابانہ دعائیں کرنا تھا۔
مسلمانوں کا سب سے بڑا ورد کلمہ طیبہ تھا، یہی اُن کی دعوت کا لب لباب تھا اور یہی اُن کی روحانیت کا سر چشمہ وہ اپنی محفلوں میں خوشی اور مسرت کے موقع پر اللہ اکبر" کا نعرہ بھی لگاتے تھے، نماز فرض نہیں ہوئی تھی مگر اس کا طریقہ بتایا جان چکاتھا، وضو، غسل اور نماز کی تعلیم بھی مل چکی تھی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام دو، دو رکعات نماز پڑھا کرتے تھے۔ عمومًا یہ نمازیں اپنے اپنے گھروں میں یا پوشیدہ جگہوں پر ادا کی جاتی تھیں مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم حرم کعبہ میں بھی تشریف لے جاکر پڑھا کرتے،بسا اوقات رات کا خاصا حصہ وہاں طویل رکعتوں میں گزارتے جن میں بڑی دل سوزی سے تلاوت فرماتے ۔ تاہم اکثر صحابہ کرام قریش کے خوف سے حرم میں نماز نہیں پڑھتے تھے ، خاص کر وہاں اجتماعی طور پر عبادت کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام کے لیے سب سے بڑی ڈھارس اور سب سے بڑی توانائی وحی تھی جو مسلسل نازل ہورہی تھی۔کفار بہت سوچ سوچ کرنت نئے اعتراضات کرتے مگر قرآن مجید کی دوتین آیات انہیں لاجواب کردیتی۔ وہ ایذائیں دیتے تو وحی مسلمانوں کو حوصلہ دیتی اور فتح وکامرانی کا یقین دلاتی۔ کفار کے حربوں کے جواب میں کیا کرنا ہے؟ ہرہر قدم پراللہ کا قاصد زمین پراترکر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کوتعلیم دے جاتا۔
قرآن مجید کی کتابت اور حفاظت اوراس کی تدریس کا کام بھی اس ابتدائی دور میں شروع ہوگیا تھا۔ نئی نازل ہوئے والی آیات لکھ لی جاتیں۔ صحابہ انہیں سیکھ لیتے اور دوسروں کو سکھانا اور یاد کرانا شروع کردیتے۔
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اسلام لانے والے اپنے ساتھیوں کا بہت خیال رکھتے۔ان کے خانگی حالات اورمسائل میں بھی دلچسپی لیتے۔ ان میں سے جو ناداراورمسکین ہوتے انہیں کسی بہتر آمدنی والے مسلمان کا ساتھی بنا دیے تا کہ ان کی کفالت ہوتی رہے اور وہ رؤسائے قریش کے محتاج نہ رہیں ، جیسا کہ تنگ دست صحابی حضرت خبابؓ کو حضرت سعید بن زیدؓ کا ساتھی بنایا۔ حضرت خبابؓ انہیں قرآن بھی پڑھایا کرتے تھے۔
حضوراقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی اس منشا کے مطابق مال دار مسلمان خود بھی غریب اور مصیبت زدہ مسلمانوں کے مسائل حل کرنے کو سعادت سمجھتے، چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق بنی امیہ نے حضرت بلال بن رباحؓ کو امیہ بن خلف کی غلامی سے آزاد کرایا، اس طرح زِنّیرہ ، نَہدیہ یا اوراُمّ عُبَیسؓ بھی مشرکین کی باندیاں تھیں جوکلمہ پڑھنے کی پاداش میں سخت عذابوں کا سامنا کرہی تھیں۔حضرت ابوبکرؓ نے انہیں بھی خرید کر آزاد کرادیا۔
ایسا لگتا تھا ابوبکرصدیقؓ کا مال صرف اسلام کے لیے وقف ہے۔

