Elan-e-Tauheed aur Ahle Imaan ki Azmaish

اعلان توحید اور اہل ایمان کی آزمائیش


        تین سال بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضورصلی اللہ علیہ وسلم  کو حکم دیا گیا کہ اب اسلام کی دعوت اعلانیہ طورپر کی جائے۔اس مقصد کے لیے پہلے مرحلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کو اللہ کی طرف سے حکم دیا گیا: (وَانْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبين) یعنی اپنے قریبی رشتہ داروں کو (شرک کے انجام سے) ڈرایئے (اور انہیں تو حید کا پیغام سنائیے)۔



        اقارب میں سب سے پہلے گھر کے لوگ تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو دعوت دی، ایک ایک کو مخاطب کیا اور سمجھایا حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اے میری پھوپھی صفیہ ! اے عبد المطلب کی اولادا اپنی جانوں کو جہنم سے بچانے کی فکر کرو؛ کیوں کہ کل اللہ کے ہاں میں تمہارے معاملے میں کچھ کام نہیں آسکوں گا۔

        یہ کام خاص لوگوں اور دوستوں کو دعوت اسلام دینے سے کہیں زیادہ مشکل تھا، اس لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  بہت گھبراتے ہوئے اپنے خاندان بنو ہاشم کے تمام افراد کو مدعو کیا۔ ان میں آپ کے چچا ابو طالب، عباس ، حمزہ اور ابولہب سمیت چالیس، پینتالیس آدمی جمع ہوگئے ، حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑے سے گوشت ، دودھ اور روٹی سے اُن کی ضیافت کی ، معجزانہ طور پر سب کھاپی کر سیر ہوگئے، جب حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمدوثنا کے بعد فرمایا:

''آدمی اپنے گھر والوں سے غلط بیانی نہیں کرتا۔ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں، میں سب کے لیے اللہ کا رسول ہوں اور آپ لوگوں کے لیے بطور خاص۔ اے اولاد عبد المطلب بلا شبہ کوئی شخص اپنی قوم کے پاس اس سے بہتر بات لے کر نہیں آیا جو میں آپ کے پاس لایا ہوں ۔ میں دنیاوآخرت کی کامیابی کا پیغام لایا ہوں۔ اللہ کی قسم! جس طرح آپ سوتے ہیں ، اسی طرح ایک دن ضرور مریں گے اور جس طرح آپ بیدار ہوتے ہیں، اسی طرح ایک دن حساب و کتاب کے لیے زندہ کیے جائیں گے اور وہاں اپنے اعمال کا بدلہ ضرور پائیں گے۔ بے شک جنت کا ٹھکانہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہے اور دوزخ میں رہنا بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہوگا۔''

        یہ سن کر ابو طالب نے حوصلہ افزائی کے کلمات کہے مگر ضدی اور متکبر ابولہب نے بہت ناراضگی ظاہر کی اور اس پیغام کی بڑی شدت سے مخالفت کی۔

اعلانیہ تبلیغ(٤) نبوی)

        کچھ دنوں بعد اللہ تعالی کی طرف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کو کھلم کھلا تبلیغ کاحکم دیا گیا، وحی نازل ہوئی:


(فَاصْدَعُ بِمَا تُؤْمَرُ وَ أَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ)
''آپ کو جس بات کا حکم کیا گیا ہے، وہ صاف صاف سنادیں 
اور مشرکین کی ذرا بھی پرواہ نہ کریں''۔ 

        تب نبیٔ اکرام صلی اللہ علیہ وسلم  کوہِ صفا کی چوٹ پر چڑھے اور آواز لگائی ''یا صَباحَاہ!'' عرب میں یہ نعرہ اس وقت لگایا جاتا تھا جب دشمن کے حملے کا خطرہ سر پر آجاتا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے قریش کا پورا قبیلہ وہاں جمع ہوگیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:

''اے بنی عبد المطلب! ، اے بنی فِہر! اے بنی کعب! 
اگر میں تمہیں خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے 
ایک فوج تم پر حملہ کرنے کے لیے تیار کھڑی ہے
 تو کیا تم میری بات پر یقین کرلوگے؟''

        لوگوں کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی سچائی پر اتنا یقین تھا کہ سب نے بے ساختہ کہا: ہاں! ہم یقین کریں گے ۔" جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا " میں تمہیں ایک سخت عذاب سے ڈراتا ہوں جو تمہارے بالکل سامنے ہے۔" یہ سن کر قریش سناٹے میں آگئے ۔ ان میں سے ابولہب نے مشتعل ہو کر کہا:

تبًا لك سَائِرَ الْيَوْمِ اَلِهَذَا جَمَعْتَنَا ؟
''تیرے لیے ہلاکت ہو، کیا تو نے اس لیے ہمیں بلایا تھا''۔ (نعوذ باللہ)

اس کے بعد سب غضب ناک نگاہوں کے ساتھ واپس ہولیے۔

ابولہب کی گستاخی کا جواب۔ سورہ لہب کا نزول:

        ابو لہب کی اس گستاخی کے جواب میں سورۂ لہب نازل ہوئی اور قرآن مجید نے اس کے جملے ”تبًالک“ کا جواب نہایت فصیح و بلیغ انداز میں یوں دیا۔

تَبَّت يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَّتَبَّ
 ( ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ ہلاک ہوجائے)۔

        اس معجزانہ اسلوب پرمبنی جواب نے ابولہب کو پورے مکہ میں رسوا کردیا۔اس نے غصے میں آکر اپنے بیٹوں عُتبہ اور عُتیبہ کو حکم دیا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی بیٹیوں رقیہ اور ام کلثوم کو طلاق دے دیں۔ یہ دونوں صاحبزادیاں ان سے بیاہی ہوئی تھیں مگر ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ ابولہب کے لڑکوں نے باپ کے حکم پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیوں کو طلاق دے دی۔

ابولہب اور اس کی بیوی کی ایذاء رسانی

        اس کے بعد سے ابولہب اور اس کی بیوی اُمّ جمیل بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر طرح کی تکلیفیں دینے پر تُل گئے ۔ ابو لہب کا گھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے گھر کے قریب تھا۔ اس لیے آپ ہر وقت اس کی شرانگیزی کا نشانہ بنتے رہتے تھے۔ اُم جمیل رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کے رستے پر کانٹے بکھیر دیا کرتی تھی۔ ابولہب اپنے گھر کا سارا کچرا ڈال دیتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے گھر کے دوسری جانب آپ کا دوسرا دشمن عقبہ ابن ابی مُعَیط رہتا تھا۔ اس کا بھی معمول تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کو تکلیف دینے کے لیے اپنے گھر کی غلاظت آپ کے دروازے پر پھینک جاتا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  فرمایا کرتے تھے۔

میں دو بد ترین پڑوسیوں کے درمیان رہتا تھا۔ ابولہب اور عقبہ بن ابی معیط۔

        ابولہب ہر وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی تاک میں رہتا کہ آپ تبلیغ کے لیے کہاں کا رخ کر رہے ہیں ۔ آپ کہیں قریب جاتے یا دور، یہ پیچھے پیچھے پہنچ جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم  پر آواز کستا۔

ابو طالب پر قریش کا دباؤ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا جواب

        قریش کے دوسرے سردار بھی اب کھلم کھلا مخالفت پر اترآئے تھے اور اس دعوتِ توحید کو روکنے کے لیے طرح طرح کی تدبیریں کرنے لگے تھے۔ یہ لوگ ایک وفد بنا کر ابو طالب کے پاس آئے اور بولے: " ابوطالب! آپ اپنے بھتیجے کو منع کریں۔ ہم اپنے آباؤ اجداد کی مذمت اور اپنے معبودوں کی عیب جوئی مزید برداشت نہیں کرسکتے ۔ آپ ان کو روکیں ورنہ ہم آپ سے اور ان سے نمٹ لیں گے۔“

        ابو طالب گھبرا گئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کو علیحدگی میں بُلوا کر قریش کے مطالبے کا ذکر کیا اور کہا:

میری اور اپنی جان کا خیال کرو، مجھ پر اتنا بوجھ نہ ڈالو کہ میں اٹھا نہ سکوں''۔

        حضور صلی اللہ علیہ وسلم  سمجھ گئے کہ چچا پر سخت دباؤ ہے اور وہ آپ کی مزید حمایت نہیں کرسکیں گے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اس عظیم فریضے کو کیسے چھوڑ سکتے تھے، جس پر اس سسکتی ہوئی دنیا کی نجات کا دارومدار تھا اور جس سے آپ کو اپنی جان سے بڑھ کر جذباتی لگاؤ تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا " چچا جان! اللہ کی قسم اگر وہ میرے دائیں ہاتھ پر جلتا سورج اور بائیں پر چاند لا کر رکھ دیں تاکہ میں اس کام کو چھوڑ دوں ، تب بھی میں رکنے والا نہیں، یہاں تک کہ اللہ اس دین کو غالب کردے یا میں اس جدو جہد میں جان دے دوں ۔ اتنا کہہ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے آنسو بہ نکلے اور آپ روتے ہوئے باہر چل دیے۔

        ابو طالب نے یہ دیکھا تو وہ بھی تڑپ اٹھے، آپ کو واپس بلایا اور بولے: بھتیجے جو تمہارا دل چاہے کہو، جیسے چاہو تبلیغ کرو۔ میں تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic