یومِ جمہوریہ: بقائے آئین، اکابرین کی قربانیاں اور موجودہ چیلنجز
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ الحمد لله رب العالمين والعاقبة للمتقين والصلاة والسلام على رسوله الكريم اما بعد!
عہدِ وفا اور جمہوریت کا سویرا
واجب التکریم مہمانانِ عظام اور معزز سامعین! آج ہم ہندوستان کا 77 واں یومِ جمہوریہ منا رہے ہیں۔ 26 جنوری 1950ء وہ تاریخی موڑ تھا جب اس ملک نے برطانوی غلامی کی زنجیریں توڑنے کے بعد اپنے مقدر کا فیصلہ خود کرنے کا عہد کیا۔ یہ دن محض ایک تقویمی تاریخ نہیں، بلکہ اس آئین کے نفاذ کا دن ہے جس کی بنیاد عدل، مساوات، حریت اور بھائی چارے پر رکھی گئی تھی۔
جدوجہدِ آزادی اور علمائے حق کا کردار (تاریخی تناظر)
ہندوستان کی آزادی محض اتفاق نہیں، بلکہ علمائے حق اور مجاہدینِ آزادی کے خون کا ثمر ہے۔ اس عظیم تحریک میں علمائے دیوبند اور اکابرینِ ملت کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے:
- شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ (1803ء): آپ نے سب سے پہلے ہندوستان کو "دارالحرب" قرار دے کر انگریزوں کے خلاف فکری اور شرعی بنیاد فراہم کی۔
- جنگِ آزادی 1857ء: جب برطانوی حکام نے تسلیم کیا کہ "علماء کا طبقہ ہمارے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے"۔ اسی معرکے میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے شاملی کے میدان میں انگریز استعمار کو للکارا اور حافظ ضامن شہیدؒ نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔
- تحریکِ ریشمی رومال: حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ نے مالٹا کی کالی کوٹھڑیوں میں جو سختیاں جھیلیں، وہ اس لیے تھیں کہ آنے والی نسلیں آزاد فضا میں سانس لے سکیں۔
- معمارانِ وطن: ڈاکٹر امبیڈکر، مولانا ابوالکلام آزادؒ اور مولانا حسین احمد مدنیؒ جیسے معماروں نے ایک ایسا گلدستہ تیار کیا تھا جس میں ہر رنگ کے پھول (مذاہب) کو اپنی خوشبو بکھیرنے کی آزادی تھی۔ ان اکابرین کی بصیرت کے بغیر ہندوستان کی آزادی اور آئین نامکمل ہے۔
ہمارا دستور دنیا کا عظیم ترین دستور ہے جو ہر شہری کو وقار کے ساتھ جینے کا حق دیتا ہے۔
- دفعہ 14 (Article 14): قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔
- دفعہ 19 (Article 19): اظہارِ رائے کی مکمل آزادی۔
- دفعہ 25 (Article 25): ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور ضمیر کی آزادی کا حق۔
- دفعہ 326 (Article 326): ہر بالغ شہری کو ووٹ دینے کا حق، جو جمہوریت میں ہمارا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
موجودہ دور: سلب ہوتی آزادی اور آئینی بحران
آج جب ہم ترنگا لہراتے ہیں، تو ہمیں ان تلخ حقائق سے آنکھیں نہیں چرانی چاہئیں جو ہماری جمہوریت کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں:
- اظہارِ رائے پر قدغن: سچ بولنے والے صحافیوں اور سوال اٹھانے والے طلبہ (جیسے عمر خالد و دیگر) کو برسوں بغیر ٹرائل کے قید رکھنا آئین کی روح پر حملہ ہے۔
- مذہبی شناخت پر حملے: حجاب، اذان اور مساجد کو نشانہ بنانا محض مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ شہری حقوق کی پامالی ہے۔ حجاب مسلمان عورت کی عزت اور آئینی شناخت ہے، اسے تعلیم کی راہ میں رکاوٹ بنانا سنگین مسئلہ ہے۔
- سیاستِ نفرت: آج کی سیاست "ترقی" پر نہیں بلکہ "لاشوں" پر کھڑی ہے۔ مذہب کے نام پر نفرت کی آگ بھڑکا کر کرسیوں کو محفوظ کیا جارہا ہے۔ مبلنچنگ (Mob Lynching) کے واقعات اور پھر مجرموں کی حوصلہ افزائی اس بات کی گواہی ہے کہ انسانیت سسک رہی ہے۔
- میڈیا کا کردار: جب میڈیا "گودی میڈیا" بن جائے اور حق کے بجائے نفرت بیچے، تو جمہوریت کا چوتھا ستون گر جاتا ہے۔
وٹر لسٹ سے ناموں کا اخراج: ایک گہری سازش
موجودہ دور کا سب سے بڑا چیلنج وہ منظم سازش ہے جس کے تحت وٹر لسٹوں سے مخصوص طبقات، بالخصوص مسلمانوں کے نام خارج کیے جا رہے ہیں۔
- سیاسی بائیکاٹ: ووٹ کا حق چھیننا کسی شہری کو "سیاسی طور پر یتیم" کر دینے کے مترادف ہے۔ بی ایل او (BLO) کی سطح پر لاپروائی یا جان بوجھ کر نام کاٹنا، پتے کی تبدیلی یا Spellings کی غلطیوں کو ہتھیار بنا کر مخالف ووٹوں کو کم کیا جا رہا ہے۔
- سپریم کورٹ کا موقف: عدالتِ عظمیٰ نے واضح کیا ہے کہ "ووٹ کا حق ایک قانونی اور آئینی حق ہے، کسی کو اس سے محروم کرنا جمہوریت کا قتل ہے"۔
عدلیہ سے امید کی کرن
شدید اندھیروں میں عدلیہ کے بعض فیصلے امید کی کرن ہیں۔ حال ہی میں سپریم کورٹ نے "بلڈوزر جسٹس" کے خلاف سخت ریمارکس دیے کہ "صرف ملزم ہونے کی بنیاد پر کسی کا گھر مسمار کرنا غیر آئینی ہے"۔ یہ مشاہدہ ان علاقوں کے لیے مرہم ہے جہاں اقلیتوں کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔
ہم کیا کریں؟ (عملی لائحہ عمل)
اس یومِ جمہوریہ پر ہمیں محض جذباتی تقریریں نہیں کرنی، بلکہ عملی قدم اٹھانا ہے:
- وٹر لسٹ کی پڑتال: ہر فرد اپنا نام چیک کرے۔ نئے اندراج کے لیے فارم نمبر 6 اور کٹوتی کے خلاف فارم نمبر 7 کے استعمال سے واقفیت حاصل کریں۔
- تعلیم اور قانونی شعور: اپنے حقوق کے لیے آئین کا سہارا لیں۔ جذبات کے بجائے دلیل اور قانون سے بات کریں۔
- اتحاد: ملی اور سماجی سطح پر متحد ہو کر ان سازشوں کا مقابلہ کریں۔
اختتامی کلمات اور عہدِ نو
آج کا دن ہمیں پکار کر کہہ رہا ہے کہ آزادی ایک نعمت ہے جس کی حفاظت کرنا ہماری شرعی اور قومی ذمہ داری ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا نہ کیا، تو آنے والی نسلیں ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گی۔
ہم بولیں گے، ہر حال میں بولیں گے
یہ حق ہے ہمارا، اور ہم لے کے رہیں گے۔
آزادی کے نغمے لگائیں گے، آزادی کا جشن منائیں گے
قربانیوں کو یاد کریں گے، شہیدوں کو سلام کہیں گے
نفرت چھوڑ کر محبت سے، ہم نیا سویرا لائیں گے
ایمان، اتحاد، یقین کے ساتھ، ہندوستان کو آگے بڑھائیں گے
وما علینا الا البلاغ۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین!

