Dawat-e-Islam ki Ibtida aur Khufia Tableegh

 دعوتِ اسلام کیا تھی؟


        اسلام کی یہ ابتدائی دعوت صرف لا الہ الا اللہ محمد رسول الله کے اقرار پر مشتمل تھی۔ توحید ورسالت وہ بنیادی پیغام تھا جس سے اس عظیم دعوت کی ابتدا ہوئی۔ لالہ الا اللہ کا مطلب تھا: کائنات کی تمام چیزوں کا خالق اللہ ہے، تمام اُمور کا مالک اللہ ہے، کامیابی اور ناکامی، بیماری اور شفاء، زندگی اور موت ہر چیز اس کے قبضے میں ہے۔ سب کچھ اس کے حکم سے ہوتا ہے۔ اس کے حکم اور اجازت کے بغیر مخلوق کچھ نہیں کرسکتی ۔ بتوں اور ان سے منسوب دیوی ، دیوتاؤں کے پاس کوئی اختیار نہیں۔ سب کچھ کرنے والی با اختیار ذات صرف اللہ کی ہے، اس لیے عبادت بھی اس کی ہونی چاہیے۔



        محمد رسول اللہ کا مطلب تھا محمد اللہ کے آخری رسول ہیں ، ان کی بتائی ہوئی تمام باتوں پر اعتماد کرنا ضروری ہے ۔ انہی کی پیروی میں دنیا و آخرت کی کامیابی ہے اور ان کی تعلیمات کی مخالفت میں دونوں جہانوں کا خسارہ ہے۔“

        چونکہ مکہ کے مشرکانہ ماحول میں یہ ایک نامانوس آواز تھی اور قریش کے سرداروں کی طرف سے شدید مزاحمت کا اندیشہ تھا، اس لیے ابتدا میں دعوت کا کام خفیہ طورپرکیا گیا۔ حق کی متلاشی روحوں نے یہ پیغام سنتے ہی محسوس کیا جیسے انہیں نجات کا راستہ نظر آگیا ہو، چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دعوت سے عثمان بن عفان، زبیر بن العوام ، عبدالرحمن بن عوف سعد بن ابی وقاص اور طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنھم جیسے غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل افراد ایمان لائے ۔ دعوت میں کسی قبیلے یا خاندان کی تخصیص نہیں تھی بلکہ ہر اس شخص کو دعوت دی جارہی تھی جس میں حق کو قبول کرنے کے آثار نظر آتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جہاں ابو عبیدہ بن جراح ، ارقم بن ابی الارقم ، عبيدة بن الحارث ، عثمان بن مظعون اور سعید بن زید رضی اللہ عنھم جیسے قریشی جوان اسلام لائے وہاں اس خفیہ پیغام کی آواز مکہ کے کمزور اور مفلس لوگوں اور غلاموں تک بھی جا پہنچی ۔

        امیہ بن خلف کے حبشی غلام بلال بن رباحؓ نے کلمہ پڑھ لیا۔ خباب بن الأرتؓ جو ایک مال دار عورت کے غلام تھے اور لوہار کا کام کرتے تھے، اسلام لے آئے۔ صہیب رومی رضی اللہ عنہ جو غیر ملکی نوجوان تھے  حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ یاسر کا گھرانہ جو انتہائی تنگ دست تھا شروع ہی میں مسلمان ہوگیا تھا اس میں حضرت یاسر،  ان کی اہلیہ سُمیہ ، ان کے بیٹے عمار بن یاسر  شامل تھے۔ عبد اللہ بن مسعودؓ لڑکے تھے اور عقبہ بن ابی مُعیط کی بکریاں چراتے تھے، ایک بار جنگل میں رسول اللہ ﷺ سے آمنا سامنا ہو گیا اور دعوتِ توحید سنتے ہی کلمہ پڑھ لیا۔ 


        قرآن مجید کا نزول بھی اب مسلسل ہونے لگا ۔ دعوت اسلام کے انہی ابتدائی دنوں میں اللہ تعالی کی طرف سے حضور ﷺ کو نماز سکھائی گئی۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نمودار ہوئے ۔ انہوں نے وضو کرکے اور نماز پڑھ کر آپ ﷺ کو بتایا کہ طہارت اور رب کی عبادت کا شرعی طریقہ کیا ہے ۔ حضور ﷺ نے دیگر مسلمانوں کو اس طرح وضو اور نماز کی تعلیم دی۔

        دوسری طرف قریش کے سردار ابو جہل ، نَضر بن الحارث، عاص بن وائل ، ولید بن مغیرہ اور عقبہ بن ابی مُعَیط ایک مدت تک اس خفیہ دعوت سے بالکل لاعلم رہے حتی کہ خود حضور ﷺ  کے سگے چچا ابولہب کو بھی کچھ پتا نہ لگ سکا۔

دعوت اسلام میں راز داری اور احتیاط

        حضور اکرم ﷺ کی حکمت عملی تھی کہ متشدد اور متعصب لوگ چاہے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، انہیں دعوت کی سن گن بھی نہ ملنے پائے رسول اللہ ﷺ اور مشرف بہ اسلام ہونے والے تمام لوگ اس احتیاط کو پوری طرح ملحوظ رکھتے تھے، چونکہ ابولہب چچا ہونے کے باوجود متعصب اور متشدد مزاج مشرک تھا، اس لیے اسے بھی لا علم رکھا گیا۔ اس سے حضور ﷺ کے تدبر ، دانش اور منصوبہ بندی کی صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

        بنو ہاشم کے بڑوں میں سے صرف حضور اکرم ﷺ کے چچا ابو طالب ، اس دعوت سے آگاہ تھے مگر انہیں بھی علم یوں ہوا تھا کہ انہوں نے اتفاقیہ طور پر حضور ﷺ اور حضرت علیؓ  کو ایک گھاٹی میں چھپ کر نماز ادا کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ وہ ایمان نہ لانے کے باوجود حضور ﷺ کے حامی، رازدار اور سر پرست تھے۔

         انہوں نے حضرت علیؓ کے اسلام قبول کرنے پر کوئی اعتراض نہ کیا بلکہ اپنے دوسرے بیٹے جعفر کو بھی جو حضرت علیؓ  سے دس سال بڑے تھے، حضور ﷺ کے حلقہ بگوشوں میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔ یوں جعفر بن ابی طالب المسابقون الاولون (ابتداء میں اسلام لانے والوں ) میں شمار ہوئے۔

        حضرت عباسؓ کو بھی اس دعوت کا علم ہوگیا تھا۔ انہوں نے اس دعوت پر لبیک تو نہ کہا مگر مخالفت بھی نہ کی بلکہ جہاں تک ممکن ہوا، وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں کی پشت پناہی کرتے رہے۔

        آہستہ آہستہ قریش کے کئی سرداروں کو توحید کے اس پیغام کا پتا چل گیا جو ان کے بتوں کی مخالفت پر مشتمل تھا۔ مگر رسول اللہ ﷺ کی دعوت یوں چپکے چپکے جاری تھی کہ کوئی اشتعال کا موقع پیدا نہیں ہورہا تھا۔ مسلم اور مشرک کہیں بھی آمنے سامنے تن کر کھڑے نہ ہوتے تھے۔ سردارانِ قریش کے خاموش رہنے کا ایک سبب بنو ہاشم کا احترام بھی تھا۔ اس کے علاوہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھانے کے باوجود وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ پیغام چند کمزور لوگوں تک محدود رہے گا اور پھر خود بخود مٹ جائے گا۔ 

        غالبا انہوں نے اس دعوت کو زمانۂ جاہلیت کے امیہ بن ابی صلت اور زید بن عمرو بن نُفیل جیسے مشاہیر کی مذہبی سوچ پر محمول کیا تھا جو الہیات پر گفتگو کیا کرتے تھے اور ایک معبود کے قائل تھے۔ مگر اسلام کی دعوت ان سابقہ مصلحین کی خیال آرائیوں کی بہ نسبت بے پناہ طاقت رکھتی تھی۔

ابوذر غفاری مشرف بہ اسلام ہوئے

        مکہ کعبۃ اللہ کی وجہ سے مرجعِ خلائق تھا جہاں بیرونی زائرین کی آمد ورفت رہتی تھی ۔ ان مسافروں کو بھی حسب موقع دعوت دینے کا کام شروع کردیا گیا۔ ان کے ذریعے اسلام کی خبر بہت جلد دور دراز کے علاقوں تک پہنچ گئی اور حق کی تلاش میں سرگرداں اِکادُکا لوگ مکہ آکر رسول اللہ صلی علیم وسلم سے ملنے لگے ۔ سردارانِ مکہ پہلی بار چونکے اور حضور ﷺ سے ملنے جلنے والوں پر نظر رکھنے لگے۔ حضور ﷺ نے بھی نئے لوگوں سے ملنے میں بہت احتیاط کرنے لگے۔

        انہی دنوں ڈاکوؤں کے قبیلے غِفار کے ایک نوجوان ابوذرغفاری نے جو بت پرستی سے بے زار تھے، اپنے بھائی سے ایک نئے نبی اور نئے دین کی خبر سنی ۔ وہ سیدھا مکہ پہنچے۔ انہیں معلوم تھا کہ نبوت کا دعوی کرنے والے سے ملاقات کرنا مصیبت مول لینے کے مترادف ہے، لہذا وہ مسجد الحرام میں ٹھہر کر منتظر رہے کہ کسی دن رسول الله ﷺ  کی زیارت ہو جائے ۔ آخر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کا حال احوال پوچھا اور انہیں حضور ﷺ سے ملایا۔

آپ ﷺ نے پوچھا : کہاں کے ہو؟“

بولے: "غِفار کا۔"

رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر حیرت و مسرت سے اپنی پیشانی تھام لی۔

        ابوذر غفاری اسلام لے آئے ۔ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے انہیں اسلام کو خفیہ رکھنے کی تاکید کی مگر واپس جانے سے پہلے انہوں نے مسجد الحرام کا رخ کیا اور اہل مکہ کے بھرے مجمع میں کھل کر کلمہ توحید بلند کیا۔

        یہ حق کا پہلا والہانہ نعرہ تھا جسے قریش بالکل برداشت نہ کرسکے اور اس درویش بے نوا پر ٹوٹ پڑے۔ حضرت عباس یہ دیکھ کر تیزی سے لپکے اور یہ کہ کر لوگوں کو پیچھے ہٹایا:

        بد بختو! یہ شخص ( ڈاکوؤں کے قبیلے ) غِفار کا ہے۔ تمہارے شام کے قافلے انہی کے علاقے سے گزرتے ہیں ۔ لوگ یہ سوچ کر ہٹ گئے کہ ان کی تجارت ڈاکوؤں کی انتقامی کارروائیوں کی وجہ سے خطرے میں نہ پڑجائے۔ اگلے دن اس مجاہد نے پھر اسی طرح مسجد الحرام میں کلمۂ توحید بلند کیا، مار کھائی اور حضرت عباس نے انہیں بچایا۔ 

        ابوذرؓ نے اپنے قبیلے میں واپس جا کر پہلے اپنی والدہ اور بھائی کو دعوت دے کر مشرف بہ اسلام کیا۔ اس کے بعد پورے قبیلے کو اسلام کی دعوت دی اور دیکھتے ہی دیکھتے ڈاکوؤں کا یہ پورا قبیلہ مسلمان ہوگیا۔

        اسی طرح پنو بجیلہ کے عَمرو بن عبسہ بھی اپنے علاقے سے نکلے، عُکاظ کے میلے میں حضور ﷺ سے ملے اور اسلام قبول کرکے لوٹے ۔ حضور ﷺ نے انہیں ہدایت کی کہ جب ہمارے غالب آنے کی خبر نہ سنو تب دوبارہ آنا۔

         تین سال تک دعوت کا خفیہ سلسلہ جاری رہا۔ حضرت ارقم بن ابی الارقمؓ کا مکان جو صفا پہاڑی کے دامن میں واقع تھا، اس عظیم جد وجہد کا پہلا مرکز تھا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic