حضرت ابو بکر صدیقؓ کی حبشہ کی طرف ہجرت اور راستے سےواپسی(۹نبوی)
بنو ہاشم کے محصور ہونے کے بعد حالات سخت ترین ہوگئے ۔ ایسا لگتا تھا کہ مسلمانوں کا اب دنیا میں کوئی سہارا نہیں ہے۔ ان حالات میں حضرت ابو بکرؓ جیسے کوہِ استقامت بھی حبشہ کی طرف ہجرت پر مجبور ہوگئے۔
"جب میں نے ہوش سنبھالا تو اپنے والدین کو دین پرعمل پیرا دیکھا ۔ کوئی دن ایسا نہ گزرتا تھا کہ حضور ﷺ صبح وشام ہمارے ہاں تشریف نہ لاتے ہوں ۔ جب مسلمان تکالیف میں مبتلا کیے گئے تو حضرت ابوبکرؓ نے حبشہ کی طرف ہجرت کا ارادہ کیا۔ وہ مکہ سے نکل کر حبشہ کی طرف روانہ ہوئے۔جب برکِ غِمادمیں پہنچے(جومکہ سے پانچ منازل سمندرکی سمت واقع ہے) تو انہیں قبیلہ قارہ کا سردار ابن دَغِنہ ملا۔
ابن دَغنہ نے ان سے پوچھا : ” ابوبکر ! کہاں کا ارادہ ہے؟“
انہوں نے فرمایا: مجھے میری قوم نے نکال دیا ہے۔ میں نے سوچا کہ زمین میں سفر کرکے اپنے رب کی عبادت کروں۔
ابن دغنہ نے کہا:ابوبکر! تم جیسا آدمی نہ نکل سکتا ہے، نہ نکالاجاسکتا ہے۔ تم مفلسوں کے لیے کماتے ہو. صلہ رحمی کرتے ہو، معاشرے کے نادار لوگوں کی کفالت کرتے ہو۔ مہمان کی خاطر مدارات کرتے ہو۔ سچائی کے کاموں میں مدد کرتے ہو۔ میں تمہیں پناہ دیتا ہوں۔ واپس چلو اور اپنے شہر میں اپنے رب کی عبادت کرو۔"
پس ابن دغنہ روانہ ہوا اور حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ (مکہ) آگیا۔ وہاں ابن دغنہ قریش کے سرداروں کے پاس گیا اور ان سے کہا: " ابوبکر جیسا آدمی نہ نکل سکتا ہے، نہ نکالا جاسکتا ہے۔ کیا تم ایسے آدمی کو نکالتے ہو جو مفلسوں کے لیے کماتا ہے ، صلہ رحمی کرتا ہے، معاشرے کے نادار لوگوں کی کفالت کرتا ہے۔ مہمان کی خاطر مدارات کرتا ہے۔ سچائی کے کاموں میں مدد کرتا ہے۔
قریش نے ابن دغنہ کی پناہ کو مان لیا ، حضرت ابو بکرؓ کے لیے امان قبول کی اور ابن دغنہ سے کہا: ابوبکر سے کہو کہ اپنے رب کی عبادت گھرمیں کریں۔ اس میں نماز ادا کریں اور جو جی چاہے پڑھیں۔ لیکن اپنی تلاوت سے ہمیں تنگ نہ کریں۔ آواز بلند نہ کریں کیوں کہ ہمیں ڈر ہے کہ ہمارے بیوی بچے فتنے میں نہ پڑجائیں۔"
ابن دغنہ نے یہ باتیں حضرت ابوبکرؓ سے کہہ دیں۔ حضرت ابو بکرؓ کچھ عرصے تک ان شرائط پر قائم رہے۔ اپنے گھر ہی میں عبادت کرتے رہے۔ اپنی نماز میں بلند آواز سے قراءت نہیں کرتے تھے۔ نہ ہی اپنے گھر کے سوا کہیں تلاوت کرتے تھے۔
پھر ایک دن ان کے جی میں آئی تو اپنے گھر کے باہر میدان میں ایک مسجد بنالی۔اس میں نماز پڑھنے لگے۔ قرآن مجید کی تلاوت شروع کردی۔
مشرکین کی عورتیں اور بچے ان کے پاس جمع ہوجاتے تھے۔ وہ ان کی قرآءت کو پسند کرتے اور انہیں دیکھا کرتے تھے۔ حضرت ابو بکرؓ بہت رونے والے آدمی تھے۔ جب وہ قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو اپنے آنسو نہ روک پاتے۔ قریشی زعماء اس سے گھبرائے اور ابن دغنہ کو بلوالیا۔ جب وہ ان کے پاس آیا تو بولے:
ہم نےابوبکرؓ کو اس شرط پر پناہ دی تھی کہ وہ اپنے رب کی عبادت اپنے گھرمیں کریں گے مگر وہ اس حد سے باہر نکل گئے۔ گھرکے باہرمسجد بنالی۔ نمازاورقرآت علانیہ شروع کردی۔ ہمیں ڈرہے کہ اس طرح ہمارے بیوی بچے فتنے میں پڑجائیں گے۔ تم ان کے پاس جاؤ، اگر وہ مان جائیں کہ اپنے رب کی عبادت اپنے گھر ہی میں کریں گے تو ٹھیک۔ اور اگر وہ اعلانیہ عبادت پر اصرار کریں تو انہیں کہو کہ وہ تمہاری پناہ لوٹا دیں۔ کیوں کہ ہمیں یہ پسند نہں کہ تمہاری امان کی توہین کریں۔ ہم ابو بکر کی علانیہ عبادت کو باقی نہیں رہنے دیں گے۔“
ابنِ دغنہ ابو بکرؓکے پاس آیا اور کہنے لگا:
"تمہیں معلوم ہے کہ میں نے کس شرط پر تم سے معاہدہ کیا تھا۔ اگر تم اس پر کاربند رہتے ہو تو ٹھیک ہے ورنہ میری امان واپس کردو کہ میں نہیں چاہتا کہ عرب میں شہرت ہو کہ میں نے ایک شخص کو امان دی لیکن میری امان ضایع کردی گئی۔
حضرت ابو بکرؓ نے کہا میں تمہاری پناہ واپس کرتا ہوں اور اللہ کی امان پر راضی ہوں ۔
شعب ابی طالب سے رہائی:
شعب ابی طالب میں محصوری کا یہ سلسلہ کم و بیش اڑھائی سال تک چلا۔ آخر کار اللہ تعالی نے بعض قریشی زعماء کے دلوں کو نرم کیا ۔ ان میں ہشام بن عمر وہ زہیر بن ابی امیہ او مطعم بن عدی نمایاں تھے۔ انہوں نے عمائدِ مکہ کو شرم دلا کر اس معاہدے سے دست بردار کرا دیا۔ اس طرح یہ مقاطعہ ختم ہوا اور بنو ہاشم کو گھاٹی کی جاں سوز قید سے رہائی ملی۔
حضرت خدیجہؓ کی وفات:
شعب ابی طالب کی صعوبت نے ۸۵ سالہ ابو طالب کی صحت پر بہت برا اثر ڈالا تھا اور وہ بستر سے لگ چکے تھے۔ اس طرح حضورﷺ کی اہلیہ محترمہ حضرت خدیجۃ الکبریؓ بھی جو پینسٹھ سال کی ہوچکی تھیں، اس طویل مشقت نے نیم جاں کر دیا تھا۔ چنانچہ گھاٹی کی قید سے رہائی کے کچھ عرصہ بعد حضرت خدیجتہ الکبریؓ دنیا سے رخصت ہوگئیں۔ یہ سانحہ دس نبوی رمضان کو پیش آیا۔ حضور ﷺ نے انہیں حَجون کے قبرستان میں دفن کیا۔ خود مرقد میں اترے۔ اس وقت نماز جنازہ مشروع نہیں ہوئی تھی۔ حضرت خدیجہؓ کے ساتھ حضور ﷺ نے پورے پچیس سال گزارے تھے۔ وہ ہرموقع اور ہرقدم پر آپ کی مونس وغم خوار رہی تھیں ۔ ایسی بے مثل رفیقہ حیات سے جدائی کے باعث آپ ﷺ پر رنج اور صدمے کی ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ آپ کی جان گھلنے لگی۔
جناب ابو طالب کی رحلت
حضرت خدیجہؓ کی وفات کے پینتیس دن بعد ابو طالب بھی دارفانی سے کوچ کر گئے۔یہ نبوت کا گیارہواں سال تھا۔ حضور ﷺ کے لیے یہ دن انتہائی غم و حزن کے تھے۔ اس لیے اس سال کو عام الحزن (غم کا سال) کہا جاتا ہے۔ آپ کی زندگی کے پینتالیس سال ابو طالب کے سایہ شفقت میں گزرے تھے جو ہرموقع پر آپ ﷺ کے حامی اور سرپرست رہے تھے۔ اہلیہ اور چچا کی رحلت کے بعد حضور ﷺ خود کوتنہا محسوس کرنے لگے۔
حضرت سودہ اور حضرت عائشہؓ سے نکاح
رسول اللہ ﷺ کی نجی زندگی کی تنہائی میں کچھ کمی اس وقت آئی جب ایک صحابی سکران بن عَمروؓ کی بیوہ حضرت سودہ بنت زمعہؓ آپ ﷺ کے نکاح میں آئیں ۔ یہ رمضان ۱۱ نبوی کا واقعہ ہے۔
معجزه شق القمر:
انہی ایام میں مشرکین نے حضور اکرم ﷺ کو زِچ کرنے کے لیے مطالبہ کیا کہ اگر آپ سچے نبی ہیں تو چاند پر اپنا اثر ڈال کر دکھائیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کے ہاتھ پر یہ معجزہ بھی ظاہر فرمادیا، آپ کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہوگیا ، چند لمحوں بعد دونوں ٹکڑے پھر جڑگئے مگر مشرکین پھر بھی نہ باز آئے ، انہوں نے اسے جاد و قراردیا،انکی ضد اپنی جگہ باقی رہی۔

