Shabay Abi Talib: Banu Hashim Ka Samaji Muqata Aur Musalmano Ki Mushkilat

 سماجی مقاطعه ( محرم ۸ نبوی )

        حبشہ میں مسلمانوں کو ایک محفوظ ٹھکانا میسرآنے،نیزحضرت حمزہ اور حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ جیسے بہادر افراد کے اسلام لانے سے قریش وقتی طور پرگھبرا گئے تھے مگر جلد ہی اُن کے جذبۂ انتقام نے پھر انگڑائی لی اور انہوں نے فیصلہ کرلیا اب اسلام کو مٹادیں۔ انہوں نے طے کیا کہ حضورﷺ کو قتل کر کے ہی وہ اپنا ہدف حاصل کر سکتے ہیں۔ 



        ابو طالب کو قریش کے ان ناپاک عزائم کی اطلاع ملی تو فورًا بنی ہاشم کے لوگوں کو جمع کیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ جناب رسول اللہ ﷺ کو فورا کسی محفوظ جگہ لے جائیں اور ارد گرد پہرا دیں تا کہ کوئی شخص آپ ﷺ کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ قریش کو پہلے ہی یہ خطرہ تھا کہ ان کے ارادے کے راستے میں بنو ہاشم ہی سب سے بڑی رکاوٹ بن کرسامنے آئیں گے۔ چنانچہ اب انہوں نے طے کیا کہ بنو ہاشم سے سماجی و معاشرتی تعلقات ختم کردیے جائیں اورانہیں حضور ﷺ کی حمایت ترک کرنے میں مجبور کردیا جائے ۔ انہوں نے مل کر ایک معاہدہ تحریر کیا جس کا خلاصہ یہ تھا:

        "بنو ہاشم سے نہ نکاح اور رشتوں کا کوئی معاملہ کیا جائے گا نہ ہی ان سے خرید وفروخت کی جائے گی"۔

        معاہدے کی توثیق کے لیے اسے کعبہ میں لگا دیا گیا۔ رسول اللہ ﷺ کی عمر کا یہ ۴۸ واں سال تھا۔

شعب ابی طالب کی اذیت ناکیاں:

        سن رسیده ابو طالب نے بنو ہاشم کے گھرانوں کے ساتھ مکہ کی اس پہاڑی گھاٹی میں ڈیرہ ڈال دیا جو ان کی خاندانی ملکیت تھی ، اسے شعب بنی ہاشم کہا جاتا تھا۔ محصور ہونے والوں میں خواتین اور معصوم بچے بھی شامل تھے۔ ان میں سے جو اسلام لا چکے تھے، وہ دینی جذبے کے ساتھ اور جو ایمان نہیں لائے تھے وہ خاندانی غیرت کے تحت حضور ﷺ کا ساتھ دے رہے تھے ۔ صرف ابولہب نے ساتھ نہ دے کر اپنی اسلام دشمنی کا ثبوت فراہم کیا اور بنو ہاشم سے الگ رہا۔

        آپ ﷺ اپنی اہلیہ حضرت خدیجہؓ اور بچوں کے ساتھ گھاٹی میں فروکش رہے۔ چچا حضرت حمزہؓ یہاں آپ کے محافظ تھے۔ "حضرت عباسؓ بھی یہیں تھے اور اس گھاٹی میں عبد اللہ بن عباسؓ نے کی ولادت ہوئی۔

        بنو ہاشم کھانے پینے کا جتنا سامان لے جاسکتے تھے لے گئے مگر چند ہفتوں میں سب کچھ ختم ہوگیا اورفاقوں کی نوبت آگئی۔ معصوم بچے بھوک سے بلکتے تو ان کے رونے کی آوازیں دور دور تک سنائی دیتیں۔ قریش کا یہ سماجی مقاطعہ اتنا سخت تھا کہ بنو ہاشم کو مکہ کے بازاروں میں گزرنے تک سے منع کر دیا گیا تھا۔

        اگر باہر سے کوئی سوداگر اناج لے کرآرہا ہوتا تو قریش اس کی بھی تاک میں رہتے اور اس سے فورا سب کچھ خرید کر اپنے گوداموں میں بھر لیتے تا کہ بنو ہاشم کو کچھ ملنے نہ پائے۔ اگر کوئی مسلمان یا بنو ہاشم کا کوئی ہمدرد گھاٹی کی طرف اناج یاغلہ لے کرجاتا ہوا نظرآتا تو قریش اسے بھی پکڑ کرسب کچھ چھین لیتے۔ کبھی کبھار ایسا ہوتا کہ کوئی شخص خفیہ طور پر کچھ خوراک پہنچا دینے میں کامیاب ہو جاتا جس سے محصور افراد کو زندگی کی رمق باقی رکھنے کے لیے کچھ لقمے میسر آجاتے ورنہ اکثر جھاڑیوں کے پتے کھانے پڑتے۔ گرا پڑا خشک چمڑا چبانے کی نوبت بھی آتی رہتی تھی۔

فاقہ کشی کا ایک منظر:

        بنو ہاشم کے علاوہ دیگر بہت سے مسلمان بھی اس قید و بند میں شریک تھے ۔ سعد بن ابی وقاصؓ جو ہاشمی نہیں بلکہ بنوزہرہ ( یعنی اولاد عبد مناف) سے تھے ، اس گھاٹی میں بند ہوکر مصائب میں سب کے ساتھی رہے۔ خود فرماتے تھے۔ ایک دن پیشاب کرنے بیٹھا تو زمین میں سرسراہٹ محسوس ہوئی ، دیکھا تو اونٹ کی خشک کھال کا ٹکڑا تھا۔ میں نے اسے دھویا جلایا ، پیسا اور پانی میں ملا کر پھانک لیا، اس طرح تین دن گزار لیے۔

        اس ایک واقعے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ گھاٹی کے محصورین کی فاقہ کشی کا کیا عالم تھا!

         فقط حج کے موسم میں جب کفاردشمنوں سےلڑنا حرام سمجھتے تھے، ان حضرات کوکچھ آزادی مل جاتی تھی حضور ﷺ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر حاجیوں میں تبلیغ کے لیے نکل پڑتے مگر ابولہب پیچھے لگا رہتا اور آوازیں کستا۔ اس دوران بنو ہاشم کے سوا جو دیگر مسلمان خاندان تھے ، وہ بھی اپنے گھروں میں ایک طرح سے محصور تھے۔

روم و فارس کی جنگ اور قرآن کی پیش گوئی

        یہی زمانہ تھاجب (۸ نبوی میں) روم اور فارس کے مابین گھمسان کی جنگ ہوئی جس میں فارسی نے رومیوں کو فیصلہ کن شکست سےدوچارکیا۔ مشرکین، جومسلمانوں کودبا کرپہلے ہی مغرور ہو رہے تھے، مزید اترانے لگے کیوں کہ عقیدے کے لحاظ سے وہ خود کو فارس کے مشرکین سے اور مسلمانوں کو رومی اہل کتاب سے قریب تر سمجھتے تھے۔

         چنانچہ وہ تکبرمیں آکر کہنے لگے کہ جس طرح ہمارے فارسی بھائیوں نے رومی اہل کتاب کو کچل ڈالا ہے ، اس طرح ہم تمہیں ختم کردیں گے۔ مشرکین کی اس لن ترانی کے جواب میں سورہ روم کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں جن میں خبر دی گئی کہ رومی شکست کھانے کے باوجود چند سالوں میں دوبارہ فتح یاب ہوں گے۔

        مشرکین نے مذاق اڑایا کہ ایسی زبر دست شکست کے بعد رومی دوبارہ کیسے غالب آسکتے ہیں۔ اس کے جٓواب میں حضرت ابوبکرؓ نے شرط لگائی کہ اگر پانچ سال کے اندر رومی فتح یاب نہ ہوئے تو تم جیتے ورنہ ہم ۔  ہارنے والے پر جیتنے والے کو دینے کے لیےٓ ہرجانہ بھی طے کرلیا گیا۔ 

        رسول اللہ ﷺ کو اس شرط کا پتا چلا تو قرآن مجید کے الفاظ "بِضع سِنین" کے پیش نظر حضرت ابوبکرؓ  کو شرط میں پانچ سال کی جگہ نو سال کی ترمیم کرانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ سات سال بعد قرآن کی پیش گوئی سچ ثابت ہوئی اور رومیوں نے اہل فارس کو عبرت ناک شکست دے ڈالی ۔


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic