اسلامی ریاست کو لاحق خطرات
مدینہ منورہ میں امن وامان کا ماحول ملنے کے باوجود اسلامی ریاست خطرات کی زد سے باہر نہ تھی۔ مدینہ منورہ میں دو گردہ مسلمانوں کے سخت مخالف تھے۔
(۱) منافقین (۲) یہودی
منافقین وہ بدقسمت لوگ تھے جو اسلام کی روشنی کو اتنے قریب سے دیکھ کر بھی محروم تھے ۔ یہ وہ لوگ تھے جو نفاق کے مریض تھے۔ نفاق یا دوغلاپن ایک نفسیاتی کمزوری اور اخلاقی بیماری ہے جس کی ابتدا حسد، جلن اور نفرت سے ہوتی ہے۔ یہ ایسے ماحول میں پروان چڑھتی ہے جہاں دشمنی نکالنے کا کھلا موقع نہ ملے، جہاں کسی سے کھلم کھلا ٹکر لینا خطرناک ہو ۔ اس مرض کا زیادہ تر وہ لوگ شکار ہوتے ہیں جو طبعی طور پر کینہ پرور ، حاسد اور مغرور ہوں اس لیے حق بات انہیں ہضم نہ ہوتی ہو، اس کے ساتھ بزدل مگر مکار، چالاک اور چرب زبان ہوں ۔ ایسے لوگ بزدلی کی وجہ سے حق کی کھلی دشمنی اختیار کرتے ہوئے ڈرتے ہیں اور چالاکی وچرب زبانی کی صلاحیت استعمال کرتے ہوئے اپنے منفی خیالات اور تخریبی عزائم پر وفاداری، خیر خواہی اور ہمدردی کا پردہ ڈال لیتے ہیں۔
مکہ میں دشمنوں کو اسلام کے خلاف سب کچھ کر گزرنے کی طاقت تھی ، اس لیے وہاں نفاق کا سوال ہی نہیں تھا۔ مدینہ میں اسلام کو قوت حاصل ہوگئی تھی ، اس لیے یہاں اسلام اور نبی کریم ﷺ کے مخالفین دب گئے اور ان کی مخالفت نے منافقت کا رنگ اختیار کرلیا ۔ اکثر منافقین کا تعلق اوس اور خزرج ہی سے تھا جن کی اکثریت سچے مسلمانوں پر مشتمل تھی مگر انہی گھرانوں میں کہیں کہیں منافقین بھی چھپے ہوئے تھے۔
عبد اللہ ابن اُبَی : رئیس المنافقين
منافقانہ روش میں سب سے آگے خزرج کا سردار عبد اللہ بن اُبی بن سلول تھا جسے کچھ مدت پہلے اوس اور خزرج اپنا مشترکہ حکمران ماننے پر آمادہ تھے، اس کی رسمِ تاج پوشی باقی تھی کہ شمعِ رسالت کی روشنی نے اس کے عقیدت مندوں کو اپنا حلقہ بگوش بنالیا۔ اس دن سے وہ حضور نبی کریم صلی علیم وسلم سے سخت حسد اور نفرت کرنے لگا ، وہ حضور ﷺ کو اپنی بنی بنائی بادشاہت کے خاک میں مل جانے کا ذمہ دار سمجھتا تھا ، اس لیے اس نے مدینہ کے انقلاب سے ایک قسم کی لاتعلقی اختیار کرلی اور پس منظر میں چلاگیا۔ حضور ﷺ کی تشریف آوری کے بعد بھی وہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے میں ٹال مٹول کرتا رہا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ اکثر منافقین سن رسیدہ اور ادھیڑ عمرلوگ تھے۔ ان میں ایک دو کے سوا کوئی نوجوان نہ تھا، اس کی وجہ یہ ہے کہ نوجوانوں میں نئی سچائی قبول کرنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اور وہ حق کے لیے قربانی دینے پر جلد آمادہ ہوجاتے ہیں، جبکہ بڑے بوڑھے اپنے تجربے اور مرتبے کے زعم میں عمومًا حق کے سامنے جھکنے سے انکار کردیتے ہیں۔ مکہ میں اسلام لانے والے بھی زیادہ تر نوجوان تھے۔ مدینہ میں یہ تجربہ پھر سامنے آیا۔ خود عبداللہ ابن اُبی کے بیٹے عبداللہ اوربیٹی جمیلہ سچے دل سے اسلام لے آئے تھے مگر وہ اپنے نفاق پر بدستور جمارہا۔
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چند صحابہ کے ساتھ گدھے پر سوار محلہ بنو الحارث بن خزرج کی طرف تشریف لے جارہے تھے ۔ مدینہ میں کچھ لوگ ابھی تک اسلام سے محروم تھے اس لیے راستے میں ایک جگہ غیرمسلم عرب، یہودی اورمسلمان اکٹھے بیٹھے دکھائی دیے، عبداللہ بن اُبی ان میں نمایاں تھا۔ سواری کے گزرنے سے گرد اڑی تو ابن اُبی نے کپڑے سے منہ ڈھانک لیا اور حقارت آمیز لہجے میں بولا : ” دھول مت اڑاؤ"
نبی اکرم ﷺ دعوت کی نیت سے وہاں ٹھہرگئے ، سب کو سلام کیا اور قرآن مجید کی چند آیات سنائیں۔ عبداللہ بن ابی کہنے لگا " صاحب اگر تمہاری بات سچ بھی ہو پھربھی مجھے یہ انداز پسند نہیں ، ہماری محفلوں میں آکر ہمیں تبلیغ مت کیا کرو۔ جو تمہارے پاس جائے اس کو سنایا کرو۔"
اس جسارت پر حضور اقدس ﷺ کے ہمراہی مشتعل ہوگئے ، لوگ ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے، ایک ہنگامہ مچ گیا۔ آپ ﷺ نے بمشکل سمھا بجھا کر سب کوٹھنڈا کیا، بہرحال اس واقعے سے یہ پتا چل گیا کہ عبداللہ بن ابی کے دل میں حسد کی آگ شدت سے بھڑک رہی ہے۔
مدینہ مں عبداللہ بن اُبی کے ہم خیال کچھ لوگ اور بھی تھے جن کے نزدیک وہ سچ مچ مدینہ کی بادشاہت کا حق دارتھا اور مہاجرین اس کی حق تلفی کا سبب بنے تھے، چنانچہ انہوں دلوں میں رسول اللہ ﷺ اور مہاجرین سے نفرت پال لی ۔ ان سب نے اسلام کی سچائی کے روشن دلائل سے آنکھیں بن کرلی تھی اور آپ ﷺ کی دعوت کو سیاسی مفات کے حصول کا ایک ڈھونگ تصور کرلیا تھا۔ یہ لوگ سہل پسندی اور بزدلی کے مریض تھے کسی بھی معاملے کو زمینی حقائق کے مطابق پرکھنے کی بجائے اسے اس پہلو سے دیکھتے تھے کہ اس میں اپنی جان و مال کا کتنا تحفظ ہے اور اس میں دولت، سرداری اور منصب کے حصول کے کتنے مواقع ہیں مگر دوسری طرف ان کے اکثر رشتے دار مسلمان ہوچکے تھے ان سے کٹ کر رہنا بھی خود کوسخت آزمائش میں ڈالنے کے مترادف تھا۔ اس لیے عبداللہ ابن اُبی اور اس کے کئی منافق دوستوں نے کچھ عرصہ بعد ظاہری طور پر اسلام قبول کرلیا مگر اندر ہی اندر اس نئے مذہب کی جڑیں کاٹنے اور اپنی گم شدہ سرداری واپس لینے کے لیے بے چین رہے۔
یہودی
منافقین سے بھی بڑا اندرونی مسئلہ یہود کے پڑوس کا تھا جو مسلح جنگجو بھی تھے اور اقتصاد معیشت میں مسلمانوں پر غالب بھی ۔ اگرچہ یہودی عقیدۂ توحید و رسالت اور آسمانی کتب پر ایمان کے ساتھ ساتھ کئی شرعی احکام میں بھی مشرکین کی بہ نسبت مسلمانوں سے قریب تھے اور حضور ﷺ کی ہجرت سے پہلے اُن کا کردار مسلمانوں اور قریشِ مکہ کے معاملہ میں غیرجانب دارانہ تھا مگر اب آپ کی تشریف آوری سے ان کے مفادات کو سخت زک پہنچی تھی۔ اس سے پہلے وہ اپنی عددی کمی کے باوجود اوس اور خزرج کے مقابلے میں ایک مضبوط قوت مانے جاتے رہے تھے کیوں کہ دونوں عرب قبلے باہم دست و گریباں تھے۔ مگر اب حضور ﷺ کے پرچم تلے ان کے پائیدار اتحاد کا صاف مطلب یہ تھا کہ یہود کو مدینہ میں دب کر رہنا پڑے گا۔
جہاں تک حضور ﷺ کی رسالت کا تعلق ہے، یہودیوں سے زیادہ آپ ﷺ کی صفات اور علامات سے کوئی اور قوم واقف نہیں تھی مگران کا خاندانی گھمنڈ اور نسلی غرور انہیں اجازت نہیں دیتا تھا کہ وہ نسلِ اسرائیلی کے سواکسی اور قوم کے نبی پر ایمان لائیں۔ ان وجوہ سے مدینہ تشریف لاتے ہی آپ ﷺ نے یہودیوں کی جانب سے کسی ممکنہ شرانگیزی سے بچاؤ کو ضروری سمجھا تھا۔
مثاقِ مدینہ:
حضور ﷺ ریاست کو مضبوط خطوط پر استوار کرنے اور اسے اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ رکھنے کے حتی الامکان انتظامات فرمانا چاہتے تھے، چنانچہ آپ نے مدینہ، اس کے اطراف میں بسنے والے قبائل اور یہود سے ایک معاہدہ کرلیا جو قانون کی بالادستی ظلم وزیادتی کے خلاف یکجہتی، بیرونی حملہ آوروں کے مقابلے میں اتحاد، مذہبی معاملات میں آزادی، ایک دوسرے کے احترام، باہم مکرو فریب سے اجتناب، معاشرے کے کمزور اور نادار افراد کی امداد اور سابقہ اچھی روایات کی برقراری کی یقین دہانی پر مشتمل تھا۔ اس معاہدے کو "میثاق مدینہ“ کہا جاتا ہے جو دنیا کی پہلی اسلامی ریاست کا شہری دستور تھا ۔ اس معاہدے کے ذریعے حضور ﷺ نے مہاجرین وانصار کے علاوہ مدینہ میں آباد تمام قوتوں کو ایک صف میں متحد کردیا تھا۔
معاہدے کی اہم شقیں یہ تھیں:
(۱) ہم سب غیروں کے مقابلے میں متحد ہیں۔
(۲) خون بہا اور قیدیوں کی رہائی کے لیے فدیے کا سابقہ رواج برقرار رہے گا۔
(۳) مجرم کو سب پکڑکر سزا دیں گے، چاہے وہ ہم میں سے کسی کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔
(۴) مسلمان، کافروں کے مقابلے میں باہم تعاون کریں گے۔
(۵) معاہدے میں شریک غیرمسلم قریش کے کسی شخص کو پناہ نہیں دیں گے۔
(۶) یہودی اپنے مذہبی معاملات میں آزاد ہوں گے۔ مسلمان اپنے دین پر اور یہود اپنے دین پر چلیں گے۔
(۷) یہودی اور مسلمان اپنے اپنے مصارف الگ الگ اٹھائیں گے۔ جنگوں میں یہودی مسلمانوں سے مالی تعاون کریں گے۔
(۸) مدینہ پرحملہ آور لشکرکے مقابلے میں، اس معاہدے میں شریک تمام فریق متحد ہوکر لڑیں گے۔
(۹) معاہدے میں شریک فریقوں کا ہراختلاف اور تنازع رسول ﷺ کی عدالت میں پیش ہوگا۔
ان انتظامات کے ذریعے رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کی اس مختصرسی شہری ریاست کو ایسی مثالی مملکت کی اساس بنا دیا جہاں انسانوں کو دین وایمان ، عزت و آبرو اور جان ومال کا مکمل تحفظ حاصل تھا۔ یہ انسانوں کو ان کے رب کی طرف سے دیے ہوئے حقوق فراہم کرنے کی پہلی کامیاب کوشش تھی ۔ یہ ایک ایسے پر امن معاشرے کا قیام تھا جو بہت جلد مدینہ سے نکل کر نہ صرف پورے جزیرۃ العرب بلکہ پوری دنیا پر غیر معمولی اثرات مرتب کرنے والا تھا۔

