Masjid e Nabwi ki Tameer aur Madina me Islami Riasat ka Qayam

 مسجد نبوی اسلام کا نیا مرکز


        یہاں تشریف لاتے ہی حضور ﷺ نے سب سے پہلے حضرت ابوایوب انصاریؓ کے گھر کے سامنے زمین کے خالی قطعہ پرایک مسجد تعمیر کرنے کی طرف توج دی۔ یہ زمین دو یتیم لڑکوں: سہل اور سہیل کی ملکیت تھی، انہوں نے مسجد کی تعمیرکا سن کر زمین ہدیے میں دینا چاہی مگر آپ ﷺ نے اصرار کرکے انہیں قیمت دلوائی اور مسجد کی تعمیر شروع کرادی۔



        مسجد کا قبلہ بیت المقدس کے رخ پر تھا۔ اس کی دیواریں کچی اینٹوں سے ، ستون کھجور کے تنوں سے اور چھت کھجور کی شاخوں سے بنائی گئی۔ لمبائی ۱۰۵فٹ اور چوڑائی۹۰ فٹ تھی۔

        حضور ﷺ نے مسجد کی تعمیر میں بذات خود حصہ لیا۔ آپ اینٹیں اُٹھا اُٹھا کر لاتے اور مسلمان یہ دیکھ کر مزید جوش اور جذبے سے کام کرتے۔ آپ ﷺ ان کی ہمت اور دلچسپی دیکھ کر فرماتے۔

اللهم إن الآجر أجر الآخرة
فرحم الأنصار والمهاجرة 

" اے اللہ! اصل اجرت تو آخرت کی اجرت ہے۔ 
پس تو انصار اور مہاجرین پر رحم فرما۔

مواخاة ، اسلامی بھائی چارہ:

        حضور ﷺ کے سامنے ایک اہم ترین مسئلہ مہاجرین کی آباد کاری تھا جو اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں آگئے تھے، چنانچہ آپ نے اس کے حل کے لیئے "مواخاة "کا معاہدہ کراکے ہر بے کس مہاجر کوکسی نہ کسی خوشحال انصار کا بھائی بنادیا تاکہ اسے تکلیف اور پریشانی کے وقت یہاں رشتہ داروں کی کمی محسوس نہ ہو ۔ انصار نے اس موقع پر بے مثال ایثار کا ثبوت دیا۔ اپنے مہاجر بھائیوں کو مکانات، باغات اور دولت میں سے نصف کی پیش کش کردی ۔ مہاجرین نے جواب میں قناعت اور شکرگزاری کا مظاہرہ کیا اور بقدر ضرورت مدد لینے پر ہی اکتفا کیا۔

اہل وعیال کی مکہ سے مدینہ منتقلی اور ان کی رہائش کا انتظام:

        حضور اقدس ﷺ سات ماہ تک حضرت ابوایوب انصاریؓ کے مکان میں رہائش پذیر رہے۔ اس دوران آپ نے اپنے خادموں: زید بن حارثہ اور ابورافعؓ  کو خفیہ طور پرمکہ بھیج کر پیچھے رہ جانے والے اہل وعیال : حضرت سودہؓ ، حضرت ام کلثومؓ اورحضرت فاطمہؓ کومدینہ بلوالیا۔ حضرت رقیہؓ پہلے ہی حضرت عثمانؓ کے ساتھ مدینہ آچکی تھیں۔ البتہ بڑی صاحبزادی حضرت زینبؓ اپنے شوہرابوالعاص کے ہاں مکہ میں تھیں۔

        اسی طرح حضرت ابوبکرؓ نے اپنی بیٹیوں : حضرت اسماءؓ، حضرت عائشہ صدیقہؓ اور بیٹے حضرت عبد اللہؓ کو بلوایا۔ جب مسجد نبوی اور پھر اس کے ساتھ حضور ﷺ کی رہائش گاہ کی تعمیر مکمل ہوگئی تو آپ اپنے مکان میں تشریف لے گئے۔ آپ ﷺ کی اس رہائش گاہ میں حضرت سودہؓ اور حضرت عائشہؓ کے لئے الگ الگ حجرے تعمیر کیے گے۔ اس موقع پر حضرت عائشہ صدیقہؓ کی رخصتی نہایت ہی سادگی سے عمل میں آئی اور وہ حضور ﷺ کے گھراپنے حجرے میں منتقل ہو گئیں۔ یہ شوال سن ۱ ہجری کا واقعہ ہے۔

اصحاب صفہ، پہلا اسلامی مدرسہ

        قرآن مجید کا نزول مسلسل جاری تھا اور مدینہ کی نئی اسلامی ریاست کے ماحول کے مناسب آیات نازل ہوتی جارہی تھیں جن میں احکام کا تناسب مکی سورتوں سے بہت زیادہ تھا۔ مہاجرین میں سے بہت سے افراد ایسے نادارتھے کہ اب تک ان کے گھر بار اور معاش کا کوئی انتظام نہیں ہوسکا تھا۔ ان کو مسجد نبوی کے جنوبی گوشے میں جو حضور ﷺ کے حجرے کے قریب تھا، ایک چبوترے پر جگہ دے دی گئی تھی جسے صفہ کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ جو اصحاب صفہ کے نام سے مشہور ہوئے دن بھر وہی رہتے، قرآن کریم کی آیات اور حضور ﷺ کے ارشادات سنتے اور انہیں یاد کرتے ۔ رات کے وقت نبی اکرم ﷺ انہیں کھانے کے لیے ان دیگر صحابہ کے ساتھ بھیج دیا کرتے تھے جو اپنی معاش کا انتظام کرچکےتھے۔ صفہ کے بعض فقراء کو خود نبی اکرم ﷺ  اپنے ساتھ گھر لے جایا کرتے تھے۔

ظہر، عصر اور عشاء میں چار رکعات کی فرضیت ۔ اذان کی مشروعیت:

        اب تک ظہر،عصراورعشاء کی فرض نمازیں دو، دو رکعت پڑھی جاتی تھیں۔ مدینہ میں آنے کے کچھ دنوں بعد دو دو کی جگہ چار چار رکعات فرض کردی گئیں۔

        مسلمان اس وقت تک اوقات صلوۃ کا اندازہ کرکے مسجدوں میں جمع ہوجاتے تھے۔ نماز کے لیے بلانے کا کوئی طریقہ مقررنہیں تھا۔ یہودیوں اور نصرانیوں کے طریقے مثلًا با جے یا گھنٹیاں بجانے کو حضور ﷺ نے پسند نہیں فرمایا۔ آخر کار اللہ تعالی نے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو خواب میں اذان کا طریقہ تلقین فرمایا اور حضور ﷺ نے اس طریقے کوجاری فرما دیا۔ پہلی اذان کا اعزاز حضرت بلال حبشیؓ  کو ملا اوروه مسجد نبوی کے مستقل مؤذن مقرر ہوئے۔

        اب صدیوں بعد اللہ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ کی زمین پر ایک پر امن ماحول میسر آیا تھا جہاں وہ آزادانہ طور پر اللہ کا نام بلند کرسکتے تھے، اس کی توحید کی دعوت دے سکتے تھے اور اس کے دین کو پھیلانے کی ممکنہ تدابیر کو آزما سکتے تھے۔ یہ وہ معاشرہ تھا جس کی صدیوں سے روحِ انسانی کو تلاش تھی چنانچہ یہودیوں کے عالم عبداللہ بن سلامؓ جو حق کے متلاشی تھے۔ اسلام اور پیغمبر اسلام کی ان خوبیوں کونظر انداز نہ کرسکے جن کا ذکر گزشتہ کتب میں بھی تھا۔ وہ اسلام لے آئے اور اس معاشرے کا ایک حصہ بن گئے۔

         حضرت سلمان فارسیؓ  جو طویل زمانہ پہلے آتش پرستی سے توبہ کرکے ایران سے نکلے تھے اور حق کی تلاش میں کتنے ہی پادریوں اور راہبوں کی خدمت میں رہ چکے تھے پیغمبر آخرالزماں ﷺ کودیکھتے ہی سمجھ گئے کہ دنیا کی نجات اس ہستی کی پیروی میں ہے۔ دل کی دھڑکنوں پر لبیک کہتے ہوئے وہ بھی مشرف بہ اسلام ہوگئے۔ سچائی اورحق کی طلب گار روحوں کو مدینہ میں اپنی تشنگی دور کرنے کے لیے چشمہ شیریں مل گیا تھا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic