قریش کی طرف سے مسلمانوں کو مدینہ سے نکلوانے کی کوششیں
اسلام کا یہ نخلِ نوخیز آندھیوں سے محفوظ نہ تھا۔ قریش برابر مدینہ کی ٹوہ لے رہے تھے۔ وہ اسلام کو پھلتا پھولتا کہاں دیکھ سکتے تھے عملی اقدام کے طور پر سب سے پہلے انہوں نے مدینہ کے رئیسوں کو ورغلانے کی کوشش کی اور انہیں دھمکایا کہ مسلمانوں کو پناہ دینے کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ انہوں نے خزرج کے سردار عبداللہ بن ابی کو خط لکھا:
تم نے ہمارے آدمی کو اپنے ہاں پناہ دی ہے ، ہم اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ اگرتم ان کو اپنے ہاں سے بے دخل نہیں کروں گے تو ہم اپنا لشکر لے کر تم پر چڑھ دوڑیں گے تمہیں قتل کرکے تمہاری عورتوں کو باندیاں بنائیں گے۔
قریش کو اس وقت تک قطعا اندازہ نہیں تھا کہ عبداللہ بن ابی خود مسلمانوں کی آمد سے کتنا بد دل ہے اور انہیں مدینہ سے نکال باہر کرنا چاہتا ہے، مگر چونکہ اس وقت تک خود عبد اللہ بن ابی کا اکثر قبیلہ مسلمان ہوچکا تھا اس لیے وہ چاہتے ہوئے بھی قریش کے اس مطالبے کی تعمیل نہیں کرسکتا تھا۔
قریش کی طرف سے راستوں کی ناکہ بندی:
اس کے ساتھ ساتھ قریش نے مدینہ کی ناکہ بندی کرنے کی بھی پوری کوشش شروع کردی ۔ مکہ سے مدینہ تک آباد اکثر قبائل قریش کے حلیف تھے، قریش نے سب کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا دیا اور جنوب کی طرف سے بھی مسلمانوں کی راہ بند کردی۔ یہی وجہ تھی کہ یمن اور اس کے گرد و نواح میں اسلام قبول کرنے والے لوگوں کا مدینہ آنا جانا ایک مدت تک بہت مشکل رہا؛ کیوں کہ انہیں قریش اور اس کے حلیف قبائل کے درمیان سے گزر کرجانا پڑتا تھا۔
مدینہ پر قریش کے حملے کا خطرہ:
قریش کی ان سرگرمیوں سے مسلمانوں کو ہرلحظہ یہ خطرہ رہتا تھا کہ کسی وقت مدینہ پر حملہ نہ ہو جائے ، اسی وجہ سے مدینہ میں مسلمانوں کو ہر گھڑی مدافعت کے لیے تیار رہنا پڑتا تھا ان کا معمول تھا کہ ہتھیار باندھ کر مسلح حالات میں سوتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کو قریش کے ناپاک عزائم کی خبروں سے اس قدر تشویش تھی کہ راتوں کو چوکنا اور بیدار رہا کرتے تھے۔ اس دوران ایک بار مکہ کے ایک رئیس کُرز بن جابر فہری نے مدینہ کی چراگاہوں پر حملہ بھی کیا اور حضور ﷺ کے مویشی لوٹ لیے۔ یہ واقعہ ربیع الاول سن ۲ ہجری کا ہے۔
.
جہاد کی اجازت:
قریش کے یہ تمام اقدامات خطرے کی گھنٹی تھے۔ اب مدینہ کی اسلامی ریاست کا خاموش بیٹھے رہنا اپنی بقا وسلامتی کو نظر انداز کرنے کے مترادف تھا۔ یہی وہ زمانہ تھا جب قرآن مجید نے جہاد کی اجازت دی۔
سورۂ حج کی آیات نازل ہوئیں:
أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ* الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِھم بغیرِ حقِِّ اِلّا ان يَقُولُوا رَبُّنَا اللهُ وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجدُ یُذكَرُ فیھا اسْمُ اللهِ كَثِيراً وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِیز*
"وہ لوگ جن سے لڑائی کی جارہی ہے، انہیں (جہاد) کی اجازت ہے کیوں کہ ان پر ظلم ہوا ہے اور اللہ انکی مدد پر بلا شبہ قدرت رکھتا ہے، یہ وہ لوگ ہے جنہیں انکے گھروں سے ناحق نکالا گیا ہے، صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے۔
اس ابتدائی مرحلے میں جہاد کی اجازت دی گئی تھی ، فرضیت کا حکم ابھی نہیں آیا تھا، شاید اس تدریجی انداز سے صحابہ کی ہمت اور ولولے کو جانچا جا رہا تھا ۔ آیت کے ظاہری الفاظ سے اجازت جھلک رہی تھی مگر حالات کا دباؤ اس اجازت سے فائدہ اٹھا کر بلاتاخیر لڑنے پر مجبور کررہا تھا۔
مکہ میں جہاد کی اجازت کیوں نہ دی گئی ؟
مکہ میں جہاد کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ وہاں حکم تھا: (كُفُّو اَيْدِ یکم) (اپنے ہاتھ تھام کررکھو)۔ اگرچہ وہاں بھی حضرت عمر، حضرت حمزہ ، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنھم جیسے بہادر اسلام لاچکے تھے۔ یہ اتنے طاقتور اور دلیر ضرور تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارے پر حسبِ ضرورت کفار کے مظالم کا جواب تلوار سے دے سکتے تھے کسی ہنگامی موقع پر دوچار مشرکین کو مار سکتے تھے، ان کی حویلیوں اور تجارتی گوداموں کو نذرِ آتش کرسکتے تھے مگران جذباتی کوششوں سے مزید اشتعال پھیلتا اور دعوت کی تھوڑی بہت گنجائش بھی مسدود ہوجاتی اور مسلمانوں کے مصائب میں اضافہ ہوتا۔ اس لیے صبر اور برداشت کا حکم دیا گیا۔ اب حالات بدل گئے تھے، ایک ریاست مل گئی تھی۔ ریاستی امور کو سنھالنے کا نام سیاست ہے اور سیاست کا ایک حصہ عسکری معاملات ہیں جو دین کی سربلندی کے لیے ہوں تو انہیں اسلام "جہاد" کا نام دے کر ایک عظیم عبادت قرار دیتا ہے۔
مکہ میں چونکہ اسلامی ریاست نہ تھی اس لیے سیاست ممکن تھی نہ جہاد ۔ مدینہ میں ریاست مل گئی تھی اور ظاہر بات ہے کہ ریاست کی تشکیل کے ساتھ ہی اربابِ حکومت پر اس کی حفاظت اوردفاع کی ذمہ داری بھی عائد ہوجاتی ہے اسی طرح ریاست کے دشمنوں سے نمٹنا اور ان کی ہروقت سرکوبی کرنا بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ اس لیے اس حقیقی ضرورت کے پیدا ہوتے ہی جہاد کو مشروع کردیا گیا۔
جہاد کا مقصد:
جہاد کا مقصد یہ نہیں تھا کہ لوگوں کو زبردستی اسلام میں داخل کیا جائے ۔ اسلام تو دل سے ایک سچائی کو مان لینے کے بعد زبان سے اس کا اقرار کرنے کا نام ہے۔ یہ حقیقت کہ دل کے فیصلے زبردستی نہیں ہوتے رسول اللہ ﷺ سے بہتر کون جان سکتا تھا، اس لیے آپ کی سیرت میں ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی جس سے کسی کو جبرًا مسلمان بنانا ثابت ہوسکے۔ مکہ کے مہاجر ہوں ، مدینہ کے انصار ہوں یا دیگر علاقوں کے مسلمان ، سب نے دعوت سے متاثر ہوکر اپنی رضا اور خوشی سے اسلام قبول کیا، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسلام ایک عقیدے کی حیثیت سے اپنی اشاعت میں توار چلانے کا نہیں، ترغیب دینے اور دلائل پیش کرنے کا قائل ہے۔ تلوار کی ضرورت اسلام کو درپیش خطرات کی روک تھام اور اسلام مخالف قوتوں کی بالا دستی کے خاتمے کے لیے پڑتی ہے؛ کیوں کہ کہ عمومًا افراد جب ایک جمعیت یا حکومت کی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس حیثیت میں وہ مخالف فریق کی دعوت سننے کے روادار نہیں ہوتے بلکہ قومی حمیت اور مذہبی تعصب میں دُھت ہوکر ریاستی طاقت کا مظاہرہ کرنے میں زرا دیر نہیں لگاتے ، ایسے میں وہ صرف طاقت کی زبان مانتے ہیں، لہذا اسلام بھی مخالف قوتوں کو سرنگوں کرنے ، ریاستی حیثیت سے اپنی بالا دستی قائم کرنے اور اسلامی نظام کو نافذ کرکے انسانیت کو دیگر باطل نظاموں کی زیادتیوں سے آزاد کرانے کے لیے جہاد کا راستہ اختیار کرتا ہے اور اپنے پیرو کاروں کو اس کا حکم دیتا ہے۔
فرضیت جہاد کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ لوگوں کی گردنوں پر تلوار رکھ کر کہا جائے کہ مسلمان ہوجائیں ، اسلام جہاد کے ساتھ ہی جزیہ کی صورت کھلی رکھتا ہے اور کفار کو اسلامی مملکت کا غیرمسلم شہری (زمی) بناکر ان کے جان و مال کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اسلام کبھی بھی غیرمسلموں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا۔
پھر اسلام نے جہاد کے بھی اصول اور آداب مقرر کر دیے ہیں، عین جنگ کے دوران بھی اسلام صرف انہی لوگوں کو قتل کی اجازت دیتا ہے جو برسر میدان آتے یا اسلام کو مٹانے کے منصوبے بناتے ہیں۔ عورتیں، بچے، بوڑھے اور مذہبی قائدین جو لڑائی میں حصہ نہیں لیتے مامون قرار دیے گئے ہیں۔ وہ لوگ جو کسی دباؤ سے مجبور ہوکر مقابلے پر آگئے ہوں انہیں بھی محفوظ رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔
غزوہ بدر میں رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا۔ بنی ہاشم میں سے کوئی سامنے آئے تو اس کو قتل نہ کرنا؛ کیوں کہ وہ اپنی خوشی سے جنگ میں شریک نہیں ہوئے بلکہ ان کو زبردستی لایا گیا ہے۔
اسلامی جہاد کسی مغربی قوم کی طرح اندھا دھند لڑائی نہیں ، جس میں مرد عورتوں اور بچوں سمیت شہروں کے شہر انتہائی بے دردی سے ملیا میٹ کر دیے جاتے ہیں۔ یہ امن کے دشمنوں کو مٹانے ، مظلوموں کو انصاف دلوانے ، ظالم کوجھکانے، دعوتِ توحید کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور اسلام کو سربلند کرنے کی خاطر کی جانے والی جد و جہد ہے، جسے مسلمان اللہ کی رضاء، اخروی ثواب اور جنت کے حصول کی نیت سے لڑتے ہیں

