Safar-e-Hijrat: Nabi Kareem ﷺ ki Makkah se Madina Hijrat ka Waqia

حضوراکرم ﷺ کا سفرِ ہجرت (ربیع الاول ایک ہجری ستمبر ۶۲۲)

        نبی اکرم ﷺ کو اللہ کی طرف سے ابھی تک ہجرت کا حکم نہیں ملا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ بھی حضور ﷺ کے اشارے پر رکے ہوئے تھے۔ ان کی یہی تمنا تھی کہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کی معیت نصیب ہوجائے ۔ انہوں سفر کے لیے دواونٹنیاں لے لیں اور چارماہ تک انہیں ببول کے پتے کھلا کر پالتے رہے۔



        صحابہ مکہ سے روانہ ہوتے رہے۔ عثمان بن عفان، عبدالرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص، زبیر بن عوام ، طلحہ بن عبیدالله ، زید بن خطاب ، حمزہ بن عبد المطلب اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہم سمیت رفتہ رفتہ سبھی ہجرت کرگئے ۔ صرف چند ایسے بے کس مسلمان پیچھے رہ گئے جو کفار کے چنگل میں پھنسے ہوئے تھے اور ہجرت سے بالکل عاجز تھے۔

        حجاز کے دیگر علاقوں میں بعض صحابہ ایسے تھے جن کے پاس محفوظ پناہ گاہیں تھیں۔ وہ چاہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ انہیں شرف میزبانی بخشیں۔ ان میں یمنی قبیلے روس کے ایک سرفروش طفیل بن عمرو رضی اللہ عنہ خود رسول الله ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور اپنے مضبوط قلعے میں تشریف لانے کی درخواست کی مگر یہ شرف اللہ نے انصار کے نصیب میں رکھا تھا، اس لیے رسول اللہ ﷺ  نے طفیل بن عمر رضی اللہ عنہ کی درخواست قبول نہ کی۔

قاتلانہ حملے کی سازش:

        قریش کو مسلمانوں کی ہجرت سے یہ خدشہ لاحق ہوگیا کہ وہ ایک مرکز بنانے کے بعد مکہ کے لیے خطرہ بن جائیں گے، چنانچہ عمائدِ مکہ نے دارالندوہ میں مجلسِ مشاورت منعقد کی تاکہ پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں ایسا آخری قطعی فیصلہ کیا جائے کہ یہ نیا دین مزید پھیلنے نہ پائے مجلس میں ہر خاندان کے رئیس مثلاً : امیہ بن خلف ، ابوسفیان، ابو جهل ، نظر بن حارث وغیرہ موجود تھے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ حضور ﷺ کو قید کر دیا جائے ۔ کسی نے کہا کہ جلا وطن کر دینا کافی ہے۔ 

        ابوجہل کی رائے یہ تھی کہ قتل کردیا جائے ۔ اہل مجلس نے اس کو ترجیح دی مگر مسئلہ یہ تھا کہ قبائل کی معاشرت میں ہر فرد کی جان پورے قبیلے کی امانت تصور کی جاتی تھی ۔ خدشہ تھا کہ اس صورت میں بنو ہاشم اور بنو عبد مناف کی تمام شاخیں ایک جا ہوکر بدلہ لینے پر اتر آئیں گی اور مکہ میں خانہ جنگی چھڑجائے گی ۔ آخر طویل بحث کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ ہر خاندان کا ایک ایک فرد چن لیا جائے اور ان کی جمعیت آج رات بیتِ نبوی کا محاصرہ کرے اور مشترکہ طور پر قاتلانہ حملہ کرے۔ 

ہجرت کا حکم ۔ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم صدیق اکبر کے گھر پر:

        اسی دن حضور ﷺ کو اللہ کی طرف سے فی الفور ہجرت کا حکم مل گیا۔ قریش کے کئی لوگوں نے اس قدر دشمنی کے باوجود اپنی قیمتی امانتیں حضور ﷺ کے پاس رکھوانے کا معمول ترک نہیں کیا تھا۔ حضور ﷺ نے ان کی امانتیں حضرت علیؓ کے سپرد کیں کہ ان کے مالکوں کو پہنچا کر بعد میں وہ بھی یثرب آجائیں۔

        اب حضور ﷺ اپنے اس گھر سے جدا ہوئے جس میں حضرت خدیجہؓ سے نکاح کے بعد آپ نے زندگی کے اٹھائیس برس گزارے تھے۔ آپ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نہ صرف یہ گھر بلکہ یہ مقدس شہر بھی چھوڑے جارہے تھے۔ آپ اپنی اہلیہ حضرت سودہؓ اور دونوں چھوٹی بیٹیوں: حضرت ام کلثوم، اور حضرت فاطمہؓ کو بھی یہیں چھوڑ کر جارہے تھے۔ بڑی بیٹی زینبؓ بھی مکہ میں اپنے شوہر ابو العاص کے گھر میں تھیں جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ 

        حضور ﷺاپنی روانگی کے بارے میں انتہائی رازداری برتے رہے۔ جب آپ کو اللہ کی طرف سے حکم ملا تو اس دن صبح تک حضرت ابوبکرؓ کو بھی علم نہ تھا کہ روانگی آج ہے۔ حضور ﷺ دو پہر کی شدید گرمی میں سر پر رومال اوڑھے گھر سے نکلے اور سیدھے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے ہاں گئے۔ انہیں بتایا کہ اللہ کی طرف سے ہجرت کا حکم آگیا ہے ۔ وہ بولے: ” میرے ماں باپ آپ پر قربان ! آپ کا ساتھ نصیب ہو؟“

        آپ ﷺ نے فرمایا ” تم ساتھ ہو۔

        صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تشکر اور مسرت کے ملے جلے جذبات سے روپڑے اور عرض کیا:

        "میری ان دو اونٹنیوں میں سے ایک لے لیجئے ۔ آپ نے فرمایا: ہاں مگر قیمت دے کر"۔

        حضرت عائشہ اور حضرت اسماء رضی اللہ عنھم نے نہایت عجلت کے عالم میں سفر کے لیے کھانے پینے کا سامان تیارکیا مگر خوراک کے تھیلے اور پانی کی مشک کا منہ بند کرنے کے لیے رسی نہ لی۔ اساءؓ نے والد محترم سے کہا: " باندھنے کے لیے نطاق( کمر باندھنے کے دوپٹے) کے سوا کچھ نہیں ۔ والد نے فرمایا: اس کو پھاڑ کر ایک سے تھیلے اور ایک سے مشک کامنہ باندھ دو ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اس لیے انہیں " ذاتُ النطاقین ( دُہرے نطاق والی) کہا جانے لگا۔


        سید نا ابوبکر رضی اللہ اپنی بیٹیوں: حضرت اسماءؓ اور حضرت عائشہ صدیقہؓ اور بوڑھے نا بینا باپ ابوقحافہ کو اللہ کے سہارے چھوڑے جارہے تھے ۔ انہوں نے گھر میں موجود ساری رقم نبی اکرم ﷺ کی خدمت کے لیے ساتھ لے لی اور آپﷺ کولے کر عقبی دروازے سے نکل گئے۔

        حضرت ابوقحافہ کوان کے نکلنے کے بعد شک ہوا تو اسماءؓ سے پوچھا:

        مجھے لگتاہے کہ ابوبکرؓ نے تمہیں تکلیف میں ڈال دیا کہ جاتے ہوئے ساری رقم ساتھ لے لی۔"

        حضرت اسماءؓ نے انہیں مطمئن کرنے کے لیے فرمایا: نہیں وہ تو بہت کچھ چھوڑ گئے ہیں۔

        پھر اس طاق میں جہاں رقم رکھی جاتی تھی، کچھ چھوٹے چھوٹے پھتر رکھ کر اوپرکپڑا ڈال دیا اورنابینا دادا کا ہاتھ پکڑ کر اس پر پھیردیا۔ انہیں تسلی ہوگئی اور بولے: چلواگروہ اتنا کچھ چھوڑ گئے ہیں تو اچھا کیا۔ تمہارا گزارا ہو جائے گا۔

سفر ہجرت کی حکمت عملی:

        چونکہ یثرب تک سیدھا جانے میں پورا خطرہ تھا کہ قریش تعاقب کرکے پکڑ لیتے اس لیے بہت سوچ سمجھ کر نکلنے کی تدبیر کی گئی، جس میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کے بیٹے حضرت عبداللہ اور آزاد کردہ غلام عامر بن فُہیرؓ کو شریک کرلیا گیا۔ عبد الرحمن بن ابی بکر ابھی اسلام نہیں لائے تھے۔ انہیں بے خبررکھا گیا۔ طے یہ ہوا کہ دونوں حضرات مکہ کے باہر غار ثور میں چھپ جائیں گے، تین راتیں وہاں چھپ کر گزاریں گے۔ اس دوران اہل مکہ کی خبریں لانے کا کام عبداللہ بن ابی بکر کریں گے، تیسرے دن جبکہ قریش تھک ہارکر بیٹھ چکے ہوں گے، اونٹوں پر سوار ہوکر ایک غیر معروف راستے سے منزل مقصود کا سفر کیا جائے گا۔ غیر معروف راستے میں بھٹکنے سے حفاظت کے لیے عبداللہ بن اُرَیقِط نامی ایک پیشہ ور راہ نما کو اجرت پر ساتھ لینا بھی طے تھا جو مشرک ہونے کے باوجود پیشہ ورانہ رازداری میں پکا تھا۔

اگر میری قوم مجھے نہ نکالتی!

        نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ اونٹنیوں پر سوار ہوکر مکہ سے نکلے، ایک ٹیلے پر چڑھ کرآپ نے اس مقدس شہرکومخاطب کرکے کہا:"اے مکہ! اللہ کی قسم! تو زمین کا بہترین شہراوراللہ کوسب سے زیادہ پیارا ہے۔ اگر مجھے نکال نہ جاتا تومیں تجھ سے ہرگز نہ نکلتا۔ یہ واقعہ جمعہ ۲۸ صفر یکم هجری(۱۰ستمبر ۶۲۲)کا ہے۔

        قریش کا یہ خیال تھا کہ رسول اللہ ﷺ رات کو ہجرت کریں گے ۔ انہوں نے اسی شب بیتِ نبوی کا محاصرہ کرلیا۔ اس دوران حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق حضرت علیؓ  بیت نبوی کے صحن میں بسترِ نبوی پر چادرِ نبوی اوڑھ کر لیٹے رہے۔ قریش دھوکے کا شکار ہوگئے ۔ ان کے ہاں رشتہ داروں کو گھروں میں گھس کر مارنا عار کی بات تھی، لہذا احاطہ کی دیوار چھوٹی ہونے کے باوجود وہ باہر کھڑے رہے۔ صبح حقیقت معلوم ہوئی تو وہ ششدر رہ گئے۔

        ابوجہل سیدھا حضرت ابوبکرؓ کے گھر جا پہنچا اور حضرت اسماءؓ سے پوچھ گچھ کی۔ انہوں نے لاعلمی ظاہر کی تو ابو جہل نے ایسا زور کا طمانچہ مارا کہ کان کی بالی تک ٹوٹ گئی۔ مگر اس اللہ کی بندی نے زبان نہ کھولی۔

غار ثور میں روپوشی اور قریش کی بھاگ دوڑ:

        حضور ﷺ اورحضرت ابوبکرؓ سیدھے غارِثور کو پہنچے اور اونٹنیاں عبداللہ بن اُریقِط کے حوالے کردیں۔ اس سے طے کرلیا گیا تھا کہ تیسری شب وہ سواریاں غار کے پاس لے آئے گا۔ طے شدہ ترتیب کے مطابق اس دوران عبداللہ بن ابی بکرؓ جو نہایت چالاک لڑکے تھے، شام کو اہل مکہ کی بھاگ دوڑ اور مشوروں کی خبریں غارتک لاتے اور رات غارہی میں گزارتے ۔ عامر بن فہیرہؓ  سارا دن بکریاں چراتے اور عشاء کے بعد غار میں آکر بکریوں کا دودھ پیش کرتے۔ قریش نے حضور ﷺ  اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کو شہر میں نہ پاکر ہر راستے پر آپ کی تلاش شروع کر دی تھی۔

         ان مقدس ہستیوں کو قتل یا گرفتار کرنے والے کے لیے سو اونٹوں کے انعام کا اعلان کردیا گیا تھا۔ اس خطیر انعام کی حرص میں درجنوں لوگ اس مہم پر نکل کھڑے ہوئے تھے۔ ایک موقع پر کھوج لگانے والے کچھ لوگ غارِثور کے دہانے تک آگئے تب سیدنا ابو بکرؓ کی بے چینی نا قابل بیان تھی۔ آپ ﷺ کی جان کا خوف انہیں لرزائے دے رہا تھا۔ وہ سرگوشی میں بولے: "یا رسول اللہ! اگر یہ لوگ اپنے پیروں کی طرف جھانک کر دیکھ لیں تو ہم نظر آجائیں گے۔ حضور اقدس ﷺ پورے اطمینان سے بولے: اے ابوبکر گھبراؤ نہیں۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“ 

        قریشی اتنے قریب پہنچ کر بھی نا کام واپس لوٹ گئے ۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic