غارِ ثور سے دار ہجرت کی سمت
تین راتوں کی روپوشی کے بعد رات کے آخری پہر حضور ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ غار سے نکلے۔ دونوں اونٹنیاں سواری کے لیے تیار تھیں۔ رہبر عبد اللہ بن اُریقِظ بھی آگیا تھا اورعامر بن فُہیرؓ بھی۔ اب چار افراد کا یہ قافلہ ایک پیچیدہ راستے سے جو معروف شاہراہ کی بہ نسبت ساحل سے قریب تھا، پیر یکم ربیع الاول (۱۳ ستمبر ۶۲۲ء) کو اپنی منزل کی سمت روانہ ہوا۔ رات اور اگلے دن دو پہر تک سفر تیزی سے جاری رہا۔ گرمی کی شدت تھی۔ دور دور تک آدم تھا نہ آدم زاد۔ گرمی اور تھکن کی وجہ سے ظہر کے وقت یہ حضرات سایہ تلاش کرنے لگے۔آخر ایک اونچی چٹان نظر آئی جس کا کچھ سایہ تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے زمین کو ہموار کرکے اس پر اپنی چادر بچھائی اور نبیٔ اکرم ﷺ سے عرض کیا: یا رسول اللہ ! آپ آرام فرمائیے۔"
حضور ﷺ استراحت فرما ہوئے اور حضرت ابوبکرؓ گشت کرنے لگے تاکہ کوئی تعاقب میں آرہا ہو تو دیکھ لیں۔ کچھ دیر بعد ایک کم سن چرواہا اپنے ریوڑ سمیت سایہ تلاش کرتے ہوئے ادھر سے گزرا۔ حضرت ابوبکر صدیق ﷺ نے اس سے پوچھا: تم کس کے چرواہے ہو؟ اس نے ایک قریشی شخص کا نام لیا۔ صدیق اکبرؓ نے پوچھا: تمہارے پاس دودھ والی بکریاں ہیں؟“ اس نے اثبات میں جواب دیا تو فرمایا: ” ہمیں دودھ نکال دوگے ؟"
چرواہا حامی بھرکر ایک بکری کا دودھ نکالنے بیٹھ گیا مگر حضرت ابوبکرؓنے کہا کہ پہلے بکری کا تھن گرد و غبارے صاف کرو اور اپنے ہاتھ بھی۔ اس نے تھنوں کو صاف کیا، پھر اپنے ہاتھ جھاڑے اور دودھ نکال کر پیش کردیا۔
حضرت ابوبکرؓ آقائے نامدار ﷺ کو جگانا نہیں چاہتے تھے مگر جب دودھ لے کر پلٹے تو آپ مﷺ بیدار ہوچکے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے اپنے پاس موجود منہ بند چھاگل سے صاف پانی نکال کر دودھ میں ملایا اور یہ ٹھنڈا مشروب پیش کرتے ہوئے فرمایا : یا رسول اللہ ! یہ نوش فرما لیجئے ! حضور ﷺ نوش فرما چکے تو خادمِ بارگاہ رسالت نے کہا: یا رسول اللہ! کیا روانگی کا وقت نہیں ہوگیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں بالکل!
اب سورج ڈھل چکا تھا، چنانچہ آگے سفر شروع ہوا۔ ویران راستہ ختم ہوگیا اور کہیں کہیں حضرت ابوبکرؓ کے شناسا قبائلی ملنے لگے جو رسول اللہ ﷺ سے متعارف نہ تھے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دیکھنے میں عمر رسیدہ لگتے تھے اور حضور ﷺ بالکل سیاہ ریش اورجوان۔ لوگ پوچھتے: ”ابوبکر ! یہ آپ کے ساتھ کون ہیں؟“ وہ فرماتے:
هَذَا الرَّجُلُ يَهْدِينِي السَّبِيل"( یہ صاحب ہمارے راہ نما ہیں۔)
لوگ سمجھتے کہ یہ راستے کے راہبر ہیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی مراد تھی کہ یہ راہ ہدایت دکھانے والے ہیں۔
رسول الله ﷺ پورے اطمینان سے قرآن مجید کی تلاوت کررہے تھے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ چوکنا انداز میں مسلسل ہر طرف نگاہ رکھے ہوئے تھے کیوں کہ تعاقب کا خطرہ موجود تھا۔ اور حقیقت یہ تھی کہ واقعی خطرہ سرپر تھا۔
بنومُدلج کے ایک گھڑ سوار سراقہ بن مالک نے قریش کی طرف سے سو اونٹ کے انعام کا شہرہ سنا تو حضور ﷺ کی تلاش شروع کردی۔ آخر صحرا میں قافلۂ نبوت نظر آگیا۔ سراقہ نے گھوڑے کو ایڑ لگا کر تیزی سے فاصلہ طے کیا یہاں تک کہ حضور ﷺ کی قرآت کی آواز سنائی دینے لگی۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک گھڑ سوار کو یوں تیزی سے آتے دیکھا تو کہا:
گھڑ سوار ہم تک پہنچے کو ہے! حضور ﷺ نے فرمایا گھبراؤ نہیں۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“
پھر دعا کی۔ یا اللہ اسے گرادے۔ اس وقت سراقہ بن مالک کا گھوڑا پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ سراقہ بن مالک کو آپ ﷺ کے سچے ہونے اورعن قریب غالب آنے کا یقین ہوگیا، لہذا فورًا معافی مانگی اور امان نامہ طلب کیا۔
حضورﷺ کے حکم سے عامر بن فُہیرؓ نے انہیں چمڑے کے ایک ٹکڑے پرامان نامہ لکھ دیا۔
پھر حضور ﷺ نے فرمایا تم اس راستے میں رہو۔ کسی کو ہم تک نہ آنے دینا۔ سراقہ نے وعدہ کرلیا۔
سراقہ بن مالک کو خوش خبری
حضور ﷺ نے عین اس حالت میں جبکہ دین، اسلام اپنی تاریخ کے نازک ترین گھڑی سے گزر رہا تھا اور خود اس دین کے بانی کی زندگی شدید خطرات میں گھری تھی ، سراقہ بن مالک کو ایک ایسی خوشخبری دی جو اسلام کی حقانیت کی دلیل اور اس کے ماننے والوں کے روشن ترین مستقبل نوید تھی۔ حضور ﷺ نے فرمایا:
"سراقہ" تمہاری کیا کیفیت ہوگی جب کسرٰی کے کنگن تمہارے ہاتھوں میں پہنائے جائیں گے۔“
واپس جاتے ہوئے سراقہ بن مالک کو شدید حیرت بھی تھی، اور حضور ﷺ کے کمالات کا اعتراف بھی۔ کون سوچ سکتا تھا کہ صرف پندرہ برس بعد نبی ﷺ کے دوسرے خلیفہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ کے دور میں کسری کا خزانہ مسلمانوں کے قدموں میں اور نوشیروان کے کنگن سراقہ کے ہاتھوں میں ہوں گے۔
سراقہ بن مالک نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اس سمت آنے والے ہر مشرک کو یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ میں اس سمت کا جائزہ لے چکا ہوں ۔ بعد میں سراقہ نے اسلام قبول کر لیا اور صحابہ کی صف میں شامل ہوئے۔ رضی اللہ عنہ
آخر یہ مبارک قافلہ منزل کے قریب پہنچ کر معروف شاہراہ پر آگیا۔ یہاں سب سے پہلے ان کی ملاقات شام سے مدینہ لوٹنے والے مسلمانوں کے ایک تجارتی قافلے سے ہوئی جس میں رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی زاد اور حضرت ابوبکرؓ کے داماد حضرت زبیرؓ بھی شامل تھے۔ مقدس ہستیوں کے کپڑے سفر سے گرد آلود ہوچکے تھے۔ حضرت زبیرؓ نے انہیں نئے سفید کپڑے پیش کیے۔
قارئین پر یہ واضح ہوچکا ہوگا کہ اس تاریخ ساز سفر میں شروع سے آخر تک حضرت ابوبکرصدیقؓ کا گھرا حضور ﷺ کا ہم دم و ہم ساز دکھائی دیتا ہے۔ ہجرت شروع بھی انہی کے گھر سے ہوئی۔ غار کے راز دار اور راستے کے خدمت گار بھی یہی حضرات رہے۔ آخری مرحلے پر بھی اس گھرانے کو ہدایا پیش کرنے کی سعادت ملی۔ اس سے حضور اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے مابین گہرے رشتے اور حد درجہ اعتماد کے تعلق کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق کا مقام آیت غار کی روشنی میں:
ہجرت کے اس یادگار اور تاریخ ساز سفر کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے ۔ حق تعالٰی شانہ نے غار ثور کی تنہائیوں میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حضرت ابو بکر صدیقؓ کی معیت کو خاص طور پر بیان کیا ہے۔
ارشاد باری ہے:
(إِلَّا تَنْصُرُوهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللَّهُ إِذْ أَخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوْاثانِيَ اثْنَيْنِ إِذْهُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ
لِصَاحِبِهِ لَا تَحْزَنُ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا۔)
اگر تم اس (رسول) کی مدد نہیں کروگے تو(رسول کا کچھ نقصان نہیں ؛ کیوں کہ) اس کی اللہ نے اس وقت بھی مدد کی جب اس کو نکالا تھا کافروں نے ، اس حال میں کہ وہ دو میں سے دوسرا تھا، جب وہ دونوں تھے غارمیں، جب کہ رہاتھا وہ اپنے رفیق سے تو غم نہ کر، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے، پھر اللہ نے اتاری اپنی طرف سے اس پر تسکین اور اس کی مدد کو وہ فوجیں بھیجیں کہ تم نے نہیں دیکھیں۔
امام رازی کی نکتہ دانی:
امام رازیؒ نے تفسیر کبیر میں اس آیت کے ذیل میں حضرت سیدنا صدیق اکبرؓ کی کئی خصوصیات پرروشنی ڈالی ہے جن کا خلاصہ یہ ہے:
* ہجرت کا سفر قریش کی تکلیف اور دشنی سے بچنے کی خاطر کیا گیا تھا۔اگر حضور ﷺ کو حضرت ابوبکرؓ کے ایمان و اخلاص میں ذرا بھی شک ہوتا تو انہیں اپنے ہمراہ ہرگز نہ لے جاتے ، کیوں کہ ایسے میں خدشہ ہوتا کہ کہیں وہ دشمنوں کو اطلاع نہ کردیں۔ صرف حضرت ابوبکرؓ کو اپنے ساتھ لے جانا ان پر مکمل اعتماد کا یقینی ثبوت اوراس حقیقت کی پختہ دلیل ہے کہ وہ سچے دل سے بارگاہ رسالت کے وفادار تھے۔
* ہجرت اللہ تعالی کے امرِخاص سے تھی۔ سینکڑوں صحابہ میں سے حضورﷺ کے قریبی رشتہ داروں کو بھی چھوڑ کر فقط حضرت ابوبکرؓ کا انتخاب ان کے تمام صحابہ سے افضل ہونے کا ثبوت ہے۔
* اللہ تعالی نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو "ثانی اثنین" کہا ہے اور تاریخی حقیقت بھی یہ ہے کہ وہ اکثرمقامات اور مراتب میں حضور ﷺ کے ثانی یعنی قریب ترین رہے ہیں۔ حضور ﷺ کے بعد وہی دوسرے مرد تھے جو سب سے پہلے عقیدہ توحید سے مالا مال ہوئے۔وہی اسلام کے دوسرے داعی تھے جن کی مساعی سےحضرت طلحہ ، حضرت زبیر، حضرت عثمان غنی اور کئی اولین جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم مشرف بہ اسلام ہوئے ۔ جب حضور ﷺ ہجرت کرکے پہنچے تو معیت میں صرف حضرت ابوبکرؓ تھے۔ انصار نے حضور ﷺ کے ساتھ جس دوسرے فرد کو دیکھا وہ صرف حضرت ابوبکرؓ تھے۔ حضرت ابوبکرؓ ہرغزوہ میں خدمت اقدس میں رہے اور ایک لمحہ بھی الگ نہ ہوئے۔
*حضوراکرم ﷺ کے مرض وفات میں نماز پڑھانے میں بھی وہی"ثانی اثنین" بنے۔
* حضور اکرم ﷺ کے پہلو میں سب سے قریب مدفون ہوکر اس دنیا میں بھی ثانی اثنین قرار پائے ۔ جب غار میں حضرت ابوبکر صدیقؓ حضور اکرم ﷺ کی حفاظت کے لیے غم زدہ ہوئے تو اس نازک موقع پر حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
ٓٓ
مَا ظَنُّكَ بِاثْنَيْنَ اللَّهُ ثالثهُمَا؟
(ان دوکے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے؟)
* یہ الفاظ حضرت ابوبکرؓ کے لیے ہمیشہ ہمیشہ معیت نبویہ اور معیت الہیہ کا تمغہ ہیں جس سے بڑا کوئی اور اعزاز نہیں ہوسکتا۔
مفسرین کا اتفاق ہے کہ إِذْ يَقُولُ لِصاحبه " سے حضرت ابوبکرؓمراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے لصاحبه" کہہ کر حضرت ابوبکرؓ کو رسول اللہ ﷺ کا صحابی قرار دیا ہے لہذا علماء کا کہنا ہے کہ جو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو صحابی نہ مانے وہ اس آیت کا منکر ہونے کی وجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج ہوجائے گا ۔

