مشرق و مغرب کی فتوحات کی پیش گوئی
کھدائی کے دوران ایک جگہ سخت چٹان آگئی۔ صحابہ کرام اسے توڑنے سے عاجز آگئے تو آکر رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی ۔ آپ خود تشریف لائے اور کدال سے اس سخت چٹان پر تین وار کیے۔ وہ ریزہ ریزہ ہوگئی ۔ چٹان پر وار کرتے وقت ہر بار کچھ شعاعیں سی چمکیں۔
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ چمک کیسی تھی؟“
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھے پہلی ضرب پر یمن کی، دوسری پر شام اور مغرب کی اور تیسری پر مشرق کی فتح کی خوش خبری دی ۔ صحابہ کرام نے یہ سن کر خوشی سے تکبیر کا نعرہ بلند کیا۔
حال یہ تھا کہ صحابہ نے تین دن سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ منافقین جو اپنی ساکھ بچانے کے لیے با دل نخواست ساتھ تھے باتیں بنانے لگے کہ جان کے لالے پڑے ہیں مگر مشرق و مغرب کی فتوحات کے مژدے سنائے جا رہے تھے۔
ایک صحابی کے ہاں دعوت اور معجزے کا ظہور:
حقیقت یہ تھی کہ اس وقت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم خود فاقے سے تھے۔ مگراللہ کے وعدوں پر آپ کو اور سچے مسلمانوں کو پورا یقین تھا۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور پر فاقہ کشی کے اثرات بہت نمایاں محسوس کیے، ان سے برداشت نہ ہوسکا۔ تیزی سے گھر گئے تاکہ کچھ پکوائیں مگر وہاں بھی جو کے تھوڑے سے دانوں اور بکری کے ایک بچے کے سوا کچھ نہ تھا۔ ان کی اہلیہ نے جلدی جلدی وہی جَو پیس کر آٹا گوندھا اور بکری کے بچے کو ذبح کرکے چولہے پر ہنڈیا چڑھا دی۔ ادھر حضرت جابرؓ حضور ﷺ کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ میں کچھ کھانا تیار کررہا ہوں، آپ ایک دو حضرات کے ساتھ تشریف لے آئیں۔
حضور ﷺ نے پوچھا: کتنا کھانا ہے؟“
انہوں نے مقدار بتائی تو حضور ﷺ نے فرمایا: اچھا خاصا ہے۔“
پھر حضور ﷺ نے تمام مہاجرین وانصار کو جو وہاں موجود تھے ، ساتھ لیا اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لے گئے ۔ رسول اللہ ﷺ نے روٹیوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیے، خود روٹی سالن نکال نکال کر سب کو دیتے گئے ۔ یہ آٹھ سو کے لگ بھگ افراد تھے جو خوب سیر ہوکر اٹھے مگر حضرت جابرؓ کی ہنڈیا اسی طرح سالن سے بھری ہوئی تھی اور روٹیاں بھی باقی تھیں۔
پندرہ دن کی شبانہ روز مشقت کے بعد آخر خندق مکمل ہوگئی ۔
احزاب کی آمد اور مدینہ کا محاصرہ:
ادھر سے قریش کا لشکر بھی نمودار ہوا اور اُحد پہاڑ کو پشت پر رکھ کر مدینہ کے شمال میں پھیل گیا۔ ان کے ساتھ احابیش، بنوغطفان ،بنی کنانہ، اہل نجد اور تہامہ کے مشرکین بھی تھے۔ اپنے سامنے ایک گہری اور وسیع خندق کھودی دیکھ کر وہ حیران رہ گئے اور بولے: ” بخدا! یہ تو ایسا رویہ ہے جو اس سے پہلے عربوں نے کبھی نہیں آزمایا۔
نبی اکرم ﷺ نے فوری طور پر پندرہ سال سے کم عمر تمام بچوں کو جو اب تک کھدائی میں شریک تھے، خواتین کے ساتھ انصار کے قلعہ نما حویلیوں میں پناہ لینے کا حکم دیا۔ زیادہ تر خواتین اور بچوں کو اُطمِ حسان میں رکھا گیا؟؟ جو کہ مدینہ کی وسیع ترین عمارت تھی اور حضرت حسان بن ثابتؓ کی جائداد تھی ۔
رسول اللہ ﷺ نے اب فوج کا پڑاؤ خندق سے پیچھے ہٹاکر جبل سلع کے ساتھ خیمے لگوائے تاکہ کفار کی تیر اندازی سے حفاظت رہے۔ خود آپ کا خیمہ اس پہاڑ کی بلندی پر نصب کردیا گیا ۔ آپ ﷺ یہیں نمازیں ادا فرماتے تھے۔ بعد میں یادگار کے طور پر یہیں مسجدِ فتح تعمیر کی گئی جو آج تک موجود ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے مہاجرین اور انصار کے دو الگ الگ لشکر ترتیب دیے، زید بن حارثہؓ کو مہاجرین کا اور سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو انصارکا امیر مقرر کرکے انہیں پرچم دیے اور خندق کے کنارے مورچہ بندی کرائی۔ اس کے ساتھ آپ ہر ساتھ ساتھ آپ نے مسلمہ بن اسلمؓ کو دوسو افراد کے ساتھ مدینہ کی رکھوالی پر مقرر کیا تاکہ پیچھے سے شہر پر کوئی حملہ نہ ہوسکے۔ خصوصاً بنوقریظہ کوئی شر انگیزی نہ کرسکیں۔
بنوقریظہ کی سازش:
مدینہ میں اب یہودیوں کا فقط ایک قبیلہ بنوقریظہ باقی رہ گیا تھا اور شہر کے اندر وہی مسلمانوں پر کاری ضرب لگا سکتا تھا۔ اُدھر قریش نے بنوقریظہ کو بغاوت کی ترغیب دینے کے لیے بنونضیر کے رئیس حُیَیّ بن اخطب کو خفیہ طور پر روانہ کیا جس نے جاکر بنوقریظہ کو جنگ پر ابھارا۔ انہوں نے شروع میں انکار کیا مگر جب حیی بن اخطب نے یقین دلایا کہ قریش اور اس کے اتحادی اس بار مسلمانوں کا صفایا کرکے ہی دم لیں گے تو بنوقریظہ نے اتحادیوں میں شامل ہونے کی حامی بھر لی۔
یہ خبررسول اللہ ﷺ کو بھی مل گئی ، مسلمانوں کو سب سے زیادہ خطرہ بنوقریظہ ہی کی بغاوت کا تھا۔ مدینہ کی لڑنے والی تمام نفری مل کر تین ہزار تھی جو بمشکل دس ہزار مسلح دشمنوں کے سامنے چھ کلو میٹرلمبا محاذ سنھالے ہوئے تھی۔ ان میں کمی کرکے ایک حصے کو بنوقریظہ کے مقابلے پرلگانا ممکن نہیں تھا۔ دوسری طرف بنوقریظہ کے جنگجو سات سو سے کم نہ تھے۔ اگر وہ حملہ کرتے تو پورے شہرمیں خون کی ندیاں بہادیتے۔ مسلمانوں کے بیوی، بچے ان کے قیدی بن جاتے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے انصار کے دو معزز ترین سرداروں: سعد بن معاذؓ اور سعد بن عبادہؓ کو بنوقریظہ سے بات چیت کے لیے بھیجا مگر ان بدبختوں نے بڑی بد تمیزی کا سلوک کیا اور بولے:
ہم نہیں جانتے کون رسول اللہ۔ ہمارا ان سے کوئی عہد و پیمان نہیں۔“
یہ الفاظ کھلی غداری کا اعلان تھے۔ حضور ﷺ نے اپنے سفیروں کو بھیجتے وقت ہدایت کردی تھی کہ یہود کی وفاداری برقرار دیکھو تو واپس آکر واضح الفاظ میں بیان کرنا ( تا کہ سب سن لیں اور ان کا حوصلہ بڑھ جائے ) لیکن اگر معاملہ برعکس ہو تو صورتحال اشارے میں بیان کرنا۔
"چنانچہ ان حضرات نے واپس آکر اشارے میں کہا: " عضل اور قارہ۔
حضور ﷺ یہ سن کرکچھ دیر کے لیے چپ چاپ رہ گئے مگر پھر دوسروں کو بد دلی سے بچانے کے لیے فرمایا:
مسلمانو!تمہیں فتح و نصرت کی بشارت ہو۔
سخت ترین آزمائش شروع ہوگئی تھی، منافقین اب آپ ﷺ سے اجازت لے کر اپنے گھروں کو جارہے تھے بہانہ یہ تھا کہ گھر غیرمحفوظ ہیں۔ آپ ﷺ چشم پوشی کا معاملہ فرماتے ہوئے انہیں جانے دے رہے تھے۔
ادھر بنوقریظہ کی طرف سے مثبت جواب ملتے ہی اتحادیوں کے لشکر نے خندق کے گرد محاصرہ کرلیا تھا اور تیراندازی اور سنگ باری کے ذریعے مسلمانوں کو خندق سے دور دھکیلنے کی کوشش شروع کردی تھی۔ مسلمان برابرشہر کا دفاع کررہے تھے اورجوابی نشانہ بازی کے ذریعے انہیں خندق کے قریب آنے سے روکتے رہے تھے۔ ایک دن صبح سے شام تک مشرکین کے حملوں کا اتنا دباؤ رہا کہ حضور ﷺ اور صحابہ کرام کی تین نمازیں قضا ہوگئیں۔
اس صورت حال میں عقب سے شہریوں پر بنوقریظہ کے حملے کا خدشہ مسلسل لاحق تھا۔ حضرت ابوبکرؓ جیسے مضبوط دل گردے والے آدمی کا یہ حال تھا کہ بار بار سلع پہاڑی کی چوٹی سے مڑ مڑ کر مدینہ کی طرف دیکھتے اور جب خاموشی محسوس ہوتی تو اللہ کا شکر ادا کرتے کہ ابھی تک بنوقریظہ نے حملہ نہیں کیا۔
حضرت صفیہ بنت عبد المطلب اور زبیر بن عوام کی بہادری:
مگر حقیقت یہ تھی کہ بنوقریظہ نے نہ صرف مدینہ کی آبادی پر شب خون مارنے کی تیاری کرلی تھی بلکہ ان حویلیوں کا طرف جن میں عورتیں اور بچے پناہ لیے ہوئے تھے، کچھ مسلح افراد کو روانہ کردیا تھا تاکہ وہ جائزہ لے آئیں کہ حویلیوں کا حفاظت کے لیے مسلح پہرے دار تعینات ہیں یا نہیں۔ اور اگر ہیں تو کتنے؟
ان میں سے ایک یہودی حضرت حسان رضی اللہ عنہ کی حویلی کے آس پاس منڈلانے لگا جو سب سے بڑی اور محفوظ قلعہ نما عمارت تھی ، اس وقت یہاں سب خواتین اور بچے ہی تھے، مردوں میں سے حسانؓ کے سوا کوئی نہ تھا۔
حضور ﷺ کی پھوپھی حضرت صفیہؓ حویلی کی چھت پر کھڑی نگرانی کر رہی تھیں ۔ انہوں نے یہودی کو چکر لگاتے دیکھا تو پریشان ہوگئیں، پہلے حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے کہا: ” آپ جاکر اسے مار دیں ورنہ یہ جاکر دوسرے یہودیوں کو اطلاع دے دے گا کہ اس حویلی کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں ہے۔“
مگر وہ بڑھاپے اور کمزوری کی وجہ سے ہمت نہ کرسکے۔ آخر صفیہؓ نے خود ہی ایک بھاری بانس اٹھایا، آہستہ سے حویلی کا دروازہ کھولا ، دبے پاؤں باہر نکلی اور پشت کی طرف سے جاکر یہودی پر ایسے پے در پے وار کیے کہ وہ وہیں موت کے گھاٹ اترگیا۔
اِدھر رسول اللہ ﷺ نے بنوقریظہ کی حرکتوں پر نظر رکھنے کے لیے حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو مقرر کردیا تھا ۔ وہ جان ہتھیلی پر رکھ کرتنِ تنہا گھوڑا دوڑاتے ہوئے مدینہ سے گزر کر بنوقریظہ کے قلعوں تک جاتے ، صورت حال کا جائزہ لیتے اور پھر سیدھے خندق پر آکر آپ ﷺ کو اطلاع دیتے ۔ آپ ﷺ نے اس بہادری پر بے ساختہ فرمایا:
"تجھ پر میرے ماں باپ قربان۔
نوفل بن عبد الله مارا گیا:
مشرکین کی طرف سے خندق پر دھاوے برابر جاری تھے ۔ ابوسفیان، عمرو بن العاص، خالد بن الولید، عکرمہ بن ابی جہل اور قریش کے دیگر نامی گرامی سردار گھڑ سوارں کو لے کر باری باری حملے کرتے۔ ایک دن ان کا نامور سردار نوفل بن عبداللہ خندق عبور کرنے کی کوشش میں گھوڑے سمیت خندق میں جاگرا۔ مسلمانوں نے اوپر سے اسے پتھروں کا نشانہ بنانا شروع کیا تو اس نے آواز لگائی: ” اے عربو! تلوار سے قتل بہتر ہے۔
یہ سنتے ہی حضرت علیؓ شمشیر سونت کر خندق میں کود گئے اور ایسا وار کیا کہ اس کے دو ٹکڑے ہوگئے ۔ مشرکین پر اس کی موت بڑی گراں گزری ۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا کہ نوفلل کی لاش ہمارے سپرد کردیں ہم اس کے عوض دس ہزار درہم دینے پر تیار ہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے معاوضہ لینے سے انکار کردیا اور صحابہ سے فرمایا:
لاش ان کے حوالے کردو۔ یہ بھی ناپاک ہے اور اس کا عوض بھی۔

