Ghazwa-e-Khandaq: Madina Ka Difaa aur Khandaq ki Khudaai | Ghazwa Ahzab Details

غزوۂ خندق (شوال ۵ھ/ فروری ۶۲۷ء)

        اب تک مسلمانوں کی مشرکینِ مکہ ، یہودیوں اور دیگر عرب قبائل سے تمام جنگیں الگ الگ ہوئی تھیں۔ کفار سمجھ گئے تھے کہ کوئی قوت تنہا اسلام کا راستہ نہیں روک سکتی چنانچہ اسلام دشمن طاقتیں اب مسلمانوں کے خلاف متحدہ اقدامات پر غور کرنے لگیں۔ اس منصوبے کے اصل محرک بنونضیر کے وہ یہودی رؤسا تھے جنہیں کچھ مدت پہلے مدینے سے جلا وطن کیا گیا تھا، ان میں حُی بن اخطب پیش پیش تھا۔ یہ رؤسا پہلے مکہ گئے اور قریش کے سرداروں سے مل کر ریاستِ مدینہ کے  خلاف ایک متحدہ محاذ بنانے کا معاہدہ کیا۔ پھر وہ مدینہ کے جنوب مشرق میں نجد کی حدود میں آباد غَطَفان کے جنگجو قبائل سے ملے اور انہیں بھی اس اتحاد میں شامل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔



        آخر شوال سن ۵ ہجری میں اتحادیوں کا سیلاب مدینہ منورہ کی طرف امنڈ پڑا۔ قریش نے اپنے جوانوں ، حلیف قبائل اور احابیش سے چار ہزار جوانوں کی نفری فراہم کی تھی جن میں تین سو گھڑ سوار تھے، بنوغطفان نے سات سو جنگجو پیش کیے تھے جن کی قیادت عُیَینَہ بن حصن کررہا تھا۔ بنومرہ کے چار سوسپاہیوں کا سالار حارث بن عوف تھا۔ مِسعر بن رُحیلہ بنواشجع کے ۴۰۰ سورماؤں کو ساتھ لایا تھا، راستے میں بنواسد اور بنوسُلیم کی فوجیں بھی ہم رکاب ہوگئیں۔ اس طرح حملہ آوروں کی تعداد دس ہزار تک جاپہنچی۔ قریشی سالارابوسفیان بن حرب کے پاس تمام فوجوں کی عمومی کمان تھی۔

        حضور اکرم ﷺ نے اتحادیوں کی روانگی کی اطلاعات پاتے ہی شہر کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا۔ جنوب میں باغات کی دیواروں اور مشرق و مغرب میں "حرہ" کے دشوار گزار ٹیلوں نے حملہ آوروں کی راہیں مسدود کر رکھی تھیں۔ اسی لیے اصل خطرہ شمال کی طرف تھا۔ عام حالات میں یہاں صرف مورچے بناکر بھی دفاع کیا جاسکتا تھا۔ اگر دشمن شہر میں گھس آتا تو شہر کی گلیوں میں جابجا واقع انصار کی قلعہ نما حویلیوں سے ان پر پتھراؤ اور تیر اندازی کرکے انہیں چھٹی کا دودھ یا دلایا جاسکتا تھا، جیسا کہ غزوۂ احد میں نبی اکرم ﷺ کا ابتدائی منصوبہ یہی تھا۔

        لیکن اب دشمن کی افرادی طاقت اتنی زیادہ اور انتظامات اتنے مکمل تھے کہ یہ معمولی دفاعی حربے کار آمد نہیں ہوسکتے تھے کھلے میدان میں لڑنے کے نقصانات جنگ احد میں سامنے آچکے تھے، اس لیے رسول اللہ ﷺ نے خصوصی طور پر شہر کے دفاع کے بارے میں مشورہ کیا جس میں اکابر ہی نہیں ، عام صحابہ کو بھی رائے پیش کرنے کا پورا موقع دیا گیا تھا۔

        فارس سے آئے ہوئے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی تجویز سب سے الگ تھی۔ انہوں نے بتایا کہ فارس میں ایسے مواقع پر خندقیں کھود کر حملہ آور کی پیش قدمی روک دی جاتی ہے۔ حضور ﷺ نے اس مشورے کو بڑے غور سے سنا اور پھر بلاتاخیر اس پر عمل کا فیصلہ کرلیا۔ یہ اس زمانے کی ترقی یافتہ جنگی تکنیک تھی جس سے عرب نا آشنا تھے۔ 

خندق کی نقشہ سازی اور کھدائی :

        حضور ﷺ گھوڑے پر سوار ہوکر چند مہاجرین وانصار کے ساتھ نکلے اور مدینہ کے آس پاس گشت کرکے دفاع کے لیے مناسب نقشہ تیارکیا۔ آپ نے حکم دیا کہ مجاہدین جن کی تعداد تین ہزار تھی، کوہِ سَلع کے دامن میں پڑاؤ ڈالیں ار مدینہ کے مشرقی ٹیلے حرۂ واقم“ سے مغربی ٹیلوں ”حرۂ وبرہ" تک کمان کی شکل میں ایک لمبی خندق کھودیں۔

        کھدائی سے قبل اس سارے علاقے کی پیمائش کی گئی جو تقریباً ساڑھے تین میل (ساڑھے پانچ کلومیٹر تھی۔ اس طویل پٹی پر خندق کی کھدائی کے لیے حضور ﷺ نے نشانات لگائے اور حد بندی کی۔ آپ ﷺ کے ساتھ تین ہزار صحابہ تھے، آپ ﷺ نے دس، دس افراد کی ٹولیاں بنائیں اور بیس بیس میٹر رقبے کی کھدائی ہ ٹولی کے ذمے لگادی۔

         مہاجرین اور انصار میں سے ہر شخص قوی البدن غریب الوطن صحابی سلمان فارسیؓ کو اپنی ٹولی میں لینا چاہتا تھا۔ اختلاف اتنا بڑھا کہ رسول اللہ ﷺ کوفیصلہ کرنا پڑا فرمایا: ” سلمان ہمارے اہل بیت میں سے ہیں۔

         خندق کی گہرائی پندرہ فٹ اور چوڑائی تیس فٹ کے لگ بھگ رکھی گئی تھی، تاکہ گھڑ سوار بھی اسے آسانی سے نہ پھلانگ سکے۔ چونکہ وقت کم تھا اس لیے بہت تیزی سے کام شروع کیا گیا۔ حضور ﷺ نے وقت کی نزاکت کا اندازہ کرتے ہوئے سب کو اس کام میں لگا دیا۔ موقع اتنا نازک تھا کہ کوئی بچہ، بڑا اس کام سے پیچھے نہیں رہ سکا۔

        اگر کسی کو تھوڑی دیر کے لیے بھی جانا ہوتا تو حضور ﷺ سے اجازت لیے بغیر نہیں جا سکتا تھا۔

        جو کڑیل جوان تھے وہ کدالوں اور پھاوڑوں سے زمین کھود رہے تھے۔ باقی لوگ مٹی اٹھا اٹھا کر کناروں پر جمع کررہے تھے،جس سے خندق کے اندرونی کنارے پر تقریبا چھ، چھ فٹ بلند پشتہ بنایا جارہا تھا۔
        
        مٹی اٹھانے والوں میں حضرت ابوبکروعمر رضی اللہ عنہما جیسے بزرگ حضرات بھی شامل تھے ۔ جلدی میں سب کو ٹوکریاں نہیں مل سکتی تھیں، اس لیے حضرت ابوبکرصدیقؓ کپڑوں میں مٹی دھو رہے تھے۔

         حضوراکرم ﷺ کام کی نگرانی اور صحابہ کی حوصلہ افزائی کے لیے بذات خود خندق کے پاس ایک پہاڑی پر خیمہ لگا کر وہیں مقیم ہوگئے ۔ خندق جہاں جہاں کسی پہاڑی حصے سے گزرتی تھی وہاں پہاڑیوں پر مجاہدین کا پہرہ لگا کر چوکیاں قائم کردی گئی تھیں۔ حضور ﷺ بھی خندق سے متصل ایسی ہی ایک چوکی پر قیام پذیر تھے۔

            بعد میں یادگار کے طور پر یہاں ایک مسجد بنادی گئی جو "مسجد ذباب" کے نام سے مشہور ہے۔ ان چوکیوں کے سامنے خندق کو بوقت ضرورت عبور کرنے کا انتظام بھی کیا گیا تھا تا کہ مسلمانوں میں سے کسی کو جاسوسی وغیرہ کے لیے دشمنوں کی طرف جانا ہو تو جاسکے۔ ایسے راستے یا پل کو "باب" کا نام دیا گیا۔ "مسجد ذباب" اصل میں "ذوباب" تھی یعنی "دروازے والی" ۔ مطلب یہ ہے کہ رسول ﷺ کا خیمہ جہاں مسجد ذوباب قائم ہے، ایسے مقام پر تھا جس کے سامنے خندق پر دروازہ لگا تھا جو پل وغیرہ کی شکل کا ہوگا ، اس لیے اس جگہ کو ذوباب کہا گیا۔

        حضور ﷺ دس آدمیوں کی ایک ٹولی میں بذات خود شامل تھے اور موقع بموقع نہ صرف کھدائی میں شرکت فرمانے تھے بلکہ مٹی اٹھا اٹھا کر پھینکنے میں بھی حصہ لیا کرتے تھے۔ یہ سخت سردی کے ایام تھے اور شہر میں کھانے پینے کے زخائر بہت کم رہ گئے تھے، اس لیے صحابہ کرام کو پیٹ بھر کر کھانا بھی نصیب نہ تھا مگر پھر بھی وہ خندق کی کھدائی میں پورے جوش و جذبے سے شریک تھے۔ کھدائی کا کام روزانہ صبح سویرے شروع ہوتا اور اندھیرا پھیلنے تک جاری رہتا۔


 شب خون کے دفاع کا انتظام :

        اس دوران مشرکین کی پیش قدمی کی خبریں متواتر پہنچ رہی تھیں اور کھدائی مکمل ہونے سے چند دن پہلے یوں لگتا تھا کہ مشرکین کے ہر اول دستے کسی بھی شب چھاپہ مار حملے شروع کردیں گے۔ ممکنہ شب خون میں کھلبلی سے بچنے کے لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

        اگرتم پر شب خون مارا جائے تو اپنوں کی پہچان کے لیے شناختی جملہ حٰمٓ لايُنصَرُون ہوگا۔

صحابہ کے رجزیہ العتیہ اشعار:

        حملے سے قبل کھدائی مکمل کرنے کے لیے مسلمان اپنی ساری قوت صرف کیے دے رہے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ صحابہ کی یہ محنت و مشقت دیکھ کر ان کا حوصلہ بڑھاتے اور فرماتے تھے۔  

"اللهم لا عيشَ إِلَّا عيش الآخِرَة، فَاغْفِرِ الأَنصارَ وَالْمُهاجرة۔

        "اے اللہ ! اصل زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے
 پس تو انصار اور مہاجرین کو بخش دے۔" 

        صحابہ کرام رسول الله لﷺ کی دعائیں سن کراپنی محبت اور ولولے کا ظہار کرتے ہوئے پر رجز پڑھتے۔

نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا علَى الْجِهَادِ مَا بَقِنا أَبَدًا

 "ہم وہ ہیں جو محمد ﷺ سے بیعت کرچکے ہیں جہاد کی
 ۔ جب تک ہم باقی رہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے"۔

        مٹی لادتے ہوئے رسول اللہ ﷺ اپنے صحابی عبد اللہ بن رواحہ انصاریؓ کے یہ اشعاردہراتے تھے۔

وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنا
وَلا تَصَدَّقُنَا وَلَا صَلَّيْنَا

"اللہ کی قسم اللہ کی توفیق نہ ہوتی تو ہم ہدایت نہ پاتے
 نہ صدقہ و خیرات کرتے ، نہ نمازیں پڑھا کرتے“ 

فاُنزِلَنْ سَكِينَة عَلَيْنَا وَثَبَتِ الاقْدَامَ إِنْ لاقينا

پس الٰہی ! تو ہم پر سکون نازل فرما...
اور اگر مقابلہ ہو تو ہمارے قدموں کو جما دے۔“

اِنّ الأُلى قَدْ بَغَواعَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا

بے شک ان لوگوں نے ہم پر چڑھائی کی ہے۔ 
وہ جب بھی ہمیں آزما ئیں گے ہم ہار نہیں مانیں گے۔ 

        صحابہ کرام بھی رسول ﷺ کے ساتھ آواز ملا کر دھراتے ہم ہار نہیں مانیں گے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic