Ghazwa-e-Khandaq: Ansar Ka Jazba-e-Jihad Aur Toofani Hawao Se Allah Ki Madad

 انصار کا قریش کے سامنے جھکنے سے انکار

        جیسے جیسے محاصرہ زیادہ شدت اختیار کرتا گیا اہل مدینہ کی تکلیفیں دیکھ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کا اضطراب بھی بڑھتا گیا، آپ ﷺ کو یہ خدشہ بھی تھا کہ کہیں انصار ہمت نہ ہار جائیں، اس لیے آپ ﷺ نے دشمن کو کمزور کرنے کے لیے ان کے دو رئیسوں، عُیَیَنہ بن حِصن اور حارث بن عوف سے جو غطفان کے سردار تھے خفیہ طور پر مراسلت کی اور انہیں پیش کش کی کہ اگر وہ اپنے گروہوں سمیت قریش کا ساتھ چھوڑکر چلے جائیں تو انہیں مدینہ کی پیداوار کا تہائی دیا جاتا رہے گا۔ یہ دونوں سردار قریش سے چھپ کر آپ ﷺ سے ملنے آگئے اور صلح میں دلچسپی ظاہر کی مگر ساتھ ہی اصرار کیا کہ نصف پیداوار لیں گے ، رسول اللہ ﷺ نے تہائی سے زائد دینے سے انکار کردیا، آخر غطفانی سردار اسی پر راضی ہوگئے۔ معاہدے کی عبارت لکھ لی گئی مگر دستخط کرنے سے پہلے حضور ﷺ نے اوس اور خزرج کے سرداروں، حضرت سعد بن معاذ اور سعد بن عبادہؓ کو اعتماد میں لینا ضروری سمجھا اور انہیں بلا کر ساری بات بتائی۔




        وہ بولے: اللہ کے رسول ! اگر یہ اللہ کا حکم ہے تو ٹھیک ہے۔“

        آپ نے فرمایا: اللہ کا حکم ہوتا تو میں تم سے مشورہ نہ مانگتا۔ مگر میں نے جب دیکھا کہ تمام عرب والے تمہارے خلاف متحد ہوگئے ہیں تو میں نے چاہا اس طرح ان کی قوت کم کردوں۔“

        یہ سن کر سعد بن معاذؓ نے کہا: اللہ کے رسول!اگر یہ وجہ ہے تو سنیے، جب ہم مشرک تھے تب بھی یہ لوگ ہماری پیداوار ہڑپ نہیں کرسکتے تھے، اب تو اللہ نے ہمیں اسلام کی ہدایت دے دی ہے، آپ کے ذریعے ہمیں معزز بنادیا ہے۔ اب کیسے ممکن ہے کہ یہ لوگ ہماری پیداوار میں حصہ دار بنیں۔ اللہ کی قسم ! ہمارے پاس ان کے لیے تلوار کے سوا کچھ نہیں۔"

        رسول الله ﷺ ان کا جذبہ دیکھ کر خوش ہوئے ، آپ نے معاہدے کے مسودے کو چاک کروادیا اور غطفان کے دونوں سرداروں سے کہا: جاؤ، اب تلوار ہی سے فیصلہ ہوگا۔

سعد بن معاذ کا زخم :

        خندق کے کنارے اس طرح محصورانہ جنگ رہی۔ تیروں اور پتھروں کا تبادلہ ہوتا رہا۔ اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذؓ  دراز قامت تھے اور زرہ چھوٹی تھی، جس سے ان کے دونوں ہاتھ باہر دکھائی دیتے تھے۔

        ایک دن قریش کے ایک ماہر تیر انداز حِبّان بن عَرِقہ نے تاک کر ان پر تیر چلایا جس سے ان کی کلائی کی شہ رگ کٹ گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے مسجد ہی میں ایک خیمہ لگوا دیا تاکہ اپنے قریب رکھ کر ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کی جاسکے۔ مگر خون بند ہونے کانام نہ لیتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے ایک سلاخ گرم کرکے زخم کو داغا مگر نصیب میں شفا نہ تھی، ہاتھ پھول گیا۔ پھر زخم پھٹا اور خون دوبارہ جاری ہوگیا۔ نبیٔ اکرم ﷺ نے دوبارہ زخم کو داغا، اس حالت میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے دعا کی: " الہی ! مجھے اس وقت تک موت نہ دے جب تک میری آنکھوں کو بنی قریظہ (کے انجام سے) ٹھنڈی نہ کر دے۔“

        یہ دعا ایسی قبول ہوئی کہ خون بہنا فورًا بند ہوگیا۔ تاہم حالت خطرے سے باہر نہ تھی؛ کیوں کہ زخم شہ رگ کا تھا۔

عمرو بن عَبْدِ وَدّ کا قتل:

        ایک دن غیرمعمولی واقعہ ہوا ، حریف کے چند نامور شہ سواروں نے اپنے اپنے گھوڑوں کو ایڑ لگائی اور ایک نسبتًا کم چوڑی جگہ سے جست کرکے خندق کے پار آگئے، ان میں عرب کا مانا ہوا شمشیر زن عمرو بن عبد ودّ بھی تھا۔ اس نے للکار کر کہا: "ہے کوئی جو مقابلے پر آئے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ سے عرض کیا : ” میں اس سے لڑوں گا۔"

        مگر حضور ﷺ نے روکا اور فرمایا: "علی! یہ عمرو بن عبدِ ودّ ہے۔

        عمرو بن عبدِ ودّ نے دوبارہ سہ بارہ آواز لگائی اور جواب میں خاموشی پا کر کہنے لگا:

        کہاں ہے تمہاری وہ جنت جس میں تم مرکر جانے کا یقین رکھتے ہو۔“

         حضرت علیؓ بے قرار ہوکر اٹھنے لگے، رسول اللہ ﷺ نے پھر فرمایا: علی! بیٹھ جاؤ یہ عَمرو بن عبدِ ودّ ہے۔

        وہ بولے: " چاہے وہی ہو۔

        حضور ﷺ نے اجازت دے دی، یہ تلوار سونت کر پیدل نکلے۔ عمرو بن عبدِ ودّ انہیں آتا دیکھ کر گھوڑے سے اتر پڑا اور شعلے کی طرح چمکتی شمشیر لے کر حملہ آور ہوا۔ حضرت علیؓ نے وار ڈھال پر روکا مگر عمروبن عبد ودّ کا ہاتھ اتنا زوردار تھا کہ تلوار ڈھال کو کاٹتی ہوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیشانی تک پہنچ گئی تاہم زخم کاری نہ تھا۔ حضرت علیؓ نے فورا سنبھل کر اس کے کاندھے اور گردن کے بیچ ایسی ضرب لگائی کہ خون کا فوارہ ابل پڑا عمرو بن عبدِ ود کے ڈھیر ہوتے ہی مسلمانوں نے خوشی سے نعرۂ تکبیر بلند کیا۔ جو مشرک خندق کے پار آگئے تھے فرار ہوگئے۔

اتحادیوں میں پھوٹ:

        اس دوران اتحادیوں میں پھوٹ کے اسباب بھی پیدا ہوگئے۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ بعض یہودیوں کو یہ خدشہ ہونے لگا تھا کہ اگر شکست ہوگئی تو کہیں اتحادی ہمیں مسلمانوں کے آگے چھوڑ کر اپنے اپنے علاقوں کو فرار نہ ہوجائیں۔ جنگ سے پہلے ہی انہوں نے حُیَیّ بن اخطب سے کہہ دیا تھا: "ہمیں تمہارے اتحادیوں پر بھروسہ نہیں۔ ان کے پاس جاکر کہو کہ وہ ہر گروہ کے شرفاء میں سے کچھ افراد ہمارے پاس یرغمال کے طور پر رکھوادیں۔“

        چنانچہ حُیی بن اخطب اتحادی قیادت سے ملا اور طے کرلیا کہ ستر شرفاء بنوقریظہ کے پاس یرغمالی رہیں گے۔

         مگر جنگ شروع ہونے کے بعد اتحادیوں نے یہ وعدہ پورا کرنے کا نام بھی نہیں لیا اس صورتِ حال میں یہودیوں کے خدشات پختہ ہونے لگے کہ اتحادی انہیں دھوکہ دے کر بھاگ جائیں گے۔ آخرانہوں نے خفیہ طور پر رسول اللہ ﷺ کواس شرط کے ساتھ صلح کا پیغام بھیجا کہ ان کے ہم قوم بنونضیر کو جو جلا وطن کرکے خیبر بھیج دیے گئے تھے، دوبارہ مدینہ میں بسنے کی اجازت دے دی جائے۔
    
            انہی دنوں بنوغَطفان کے ایک صاحب نُعیم بن مسعود اشجعی نے اسلام قبول کیا تھا مگر ان کے اسلام قبول کرنے کا کسی کو علم نہ تھا۔ وہ باتیں ادھر سے اُدھر پہونچانے کے ماہر تھے اور غالبًا اس بناء پر یہود سمیت مختلف قبائل اور طبقات میں ان کا خاصا اٹھنا بیٹھنا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بلایا اور فرمایا:

        "تم سے ایک راز کی بات کہنی ہے۔ مجھے یہود نے صلح کا پیغام بھیجا ہے ، شرط یہ رکھی ہے کہ میں بنونظیر کو مدینہ میں دوبارہ آباد ہونے کی اجازت دے دوں۔

        نعیم بن مسعودؓ نے یہ باتیں سنیں اور یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے:مجھےاجازت دیں کہ میں ان لوگوں سے جو چاہوں بات کرلوں۔

        رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم اگرچہ اکیلیے آدمی ہو مگر جس قدر ہوسکے اتحادیوں کو ہم سے ہٹاؤ۔

         ان کے جانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

        جنگ فریب کا نام ہے۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ اس طرح ہمارے لیے کوئی صورت نکال دے۔

        نعیم بن مسعودؓ پہلے بنوقریظہ کے پاس گئے اور ان سے کہا:

        "میرا تم سے دوستی اور خیرخواہی کا معاملہ ہے۔ یہ قریش اور غطفان تمہارے جیسے نہیں۔ یہ تمہارا علاقہ ہے جس میں تمہاری عورتیں اور بچے آباد ہیں۔ تم یہاں سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے ۔ تم قریش اور غطفان کا ساتھ دے رہے ہو لیکن اگر انہیں شکست ہوگئی تو وہ تمہیں چھوڑ کر اپنے علاقوں کو بھاگ جائیں گے۔

        یہود پہلے ہی اتحادیوں سے بد دل ہورہے تھے، ان باتوں سے ان کے خدشات مزید بڑھ گئے۔ اب نعیمؓ قریش کے پاس چلے گئے اور ہمدردی کے پیرایے میں انہیں بتا دیا کہ بنوقریظہ مسلمانوں سے صلح کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ نئی اطلاع ملتے ہی پڑاؤ میں کھلبلی مچ گئی۔ اکثر لوگ کہنے لگے: " ہمارا خیال ہے، اب واپسی کرنی چاہیے۔

        "اتحادی قائدین اس وقت یرغمال کے طور پر بھیجنے کے لیے کچھ لوگوں کو نامزد کرچکے تھے جنہوں نے یہ خبر سنتے ہی شور مچادیا " ہم تو کھی بھی یہودیوں کے قلعے میں نہیں جائیں گے۔ ہمیں اپنی جان کا خوف ہے۔"

        اس کے باوجود ابوسفیان نے آخری کوشش کے طور پر عکرمہ بن ابی جہل کو بنوقریظہ کے پاس یہ پیغام دے کر بھیجا: "کل بروز ہفتہ ہم فیصلہ کن حملہ کریں گے۔ تم بھی قلعے سے نکل کر ہمارے ساتھ جنگ میں حصہ لینا۔

        "جواب ملا ہفتے کو ہمارے ہاں جنگ جائز نہیں۔ آپ یرغمالی بھیج دیں ۔اتوار کوہم حملے میں شریک ہوجائیں گے"۔

       عکرمہ بن ابی جہل نے واپس آکر ابو سفیان اور دیگر سرداروں کو ماجرا سنایا تو سب کو یہود کی غداری کا یقین ہوگیا۔

طوفانی موسم اور احزاب کی نا کام واپسی :

        محاصرے کو تین ہفتے گزرگئے تھے، موسم سرد تر ہوتا جا رہا تھا۔ محصورین اور حملہ آور دونوں خستہ حال تھے ، ساتھ ہی طوفانی ہوائیں چلنا شروع ہوگئی تھیں ۔ یہ اللہ کی غیبی مدد تھی جس نے اتحادیوں کے حوصلے پست کردیے ۔ ایک طوفانی اور اندھیری شب میں حضور ﷺ نے حضرت حذیفہؓ  کو دشنوں کی جاسوسی کے لیے روانہ کیا۔ انہوں نے جاکر دیکھا ، طوفانی ہوا سے اتحادیوں کے خیمے اکھڑ رہے ہیں، جانور ہلاک ہورہے ہیں، ہانڈیاں الٹ الٹ کر گر رہی ہیں۔ مشرکین کے رؤساء جو ایک الاؤ کے گرد ہاتھ تاپ رہے تھے، زور وشور سے واپس چلنے پر بحث کررہے تھے۔ آخر اتحادیوں کے امیرِ لشکر ابوسفیان نے واپسی کا فیصلہ سنا دیا۔

        حضرت حذیفہؓ نے واپس آکر آنحضرت ﷺ کو یہ خوش خبری سنائی۔ آپ ﷺ مسکرادیے۔ حذیفہؓ نے تاریکی میں دندان مبارک کی چمک صاف دیکھی۔ اگلے دن اتحادی افواج اپنے خیمے ڈیرے سمیٹ کر واپس جارہی تھیں۔ تین ہفتوں تک جنگ کی گھٹاؤں میں گھرے رہنے کے بعد شہرِمدینہ کا افق پھر صاف ہوگیا۔

        حضور ﷺ نے اتحادیوں کی واپسی پر تبصرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: "اب حملہ ہماری طرف سے ہوگا"۔ وہ ہم پر چڑھائی نہیں کرسکیں گے۔ یہ پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔ اہلِ مکہ پھر بھی مدینہ پرلشکرکشی نہ کرسکے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic