غزوۂ حنین
فتح مکہ کی خبر آناً فاناً پورے عرب میں پھیل گئی۔ اسلام اب جزیرہ العرب میں ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن چکا تھا، تاہم کفروشرک کے ترکش میں ابھی کچھ تیرباقی تھے۔ طائف کے قریب آباد "ہوازِن" کے لوگ جو شجاعت اور سپہ گری میں بڑے نامور تھے، مکہ کے فتح مند لشکر سے مقابلے کے لیے تیار ہورہے تھے۔ ہوازن کے رئیس عوف بن مالک نے اپنے قبیلے کے ساتھ بنوثقیف، بنوسعد، نصراورجُشم کے جنگجوؤں کو بھی متحد کرلیا تھا۔
(یہ بنوسعد وہی قبیلہ ہے جہاں آپ ﷺ نے بچپن میں حلیمہ سعدیہؓ کا دودھ پیا تھا)
رسول اللہ ﷺ نے مکہ معظمہ میں اٹھارہ دن قیام فرمایا۔ اس دوران بنو ہوازِن اور ان کے اتحادیوں کی جنگی تیاریوں کی خبریں ملنے لگی تھیں۔ آپ ﷺ کے حکم سے حضرت عبداللہ بن ابی حَدرَد رضی اللہ عنہ ان کی جاسوسی کے لیے گئے اور انہوں نے آکر دشمنوں کی عسکری قوت اور انتظاماتِ حرب کا جو چشم دید حال سنایا اسے نظرانداز کرنا ممکن نہ تھا۔ مدینہ کا فتح مند لشکر اگر اس مہم سے کتراتا تو اس کے واپس جاتے ہی پانسہ پلٹ جاتا۔ اس لیے نبی اکرم ﷺ نے تیزی سے فوج کشی کےانتظامات مکمل کیے۔ آپ نے صفوان بن امیہ سے یہ کہہ کر سو(۱۰۰) زرہیں لیں کہ انہیں پوری ذمہ داری سے واپس کیا جائے گا۔
۵ شوال ۸ ہجری کو بارہ ہزار سپاہیوں کا لشکرِ جرار مکہ مکرمہ سے جنوب مشرق کی طرف روانہ ہوا۔ دس ہزار سپاہی وہی تھے جو فتحِ مکہ میں آپ ﷺ کے ساتھ تھے، جبکہ دو ہزار وہ تھے جو فتح مکہ کے موقع پر اسلام لائے۔ لشکر غیرمعمولی آن بان کے ساتھ آگے بڑھتا رہا۔ مسلمانوں کو توقع تھی کہ دشمن ان سے مرعوب ہوکر پسپا ہوجائے گا اور اگر مڈ بھیڑ ہوئی بھی تو کسی دشواری کے بغیر فتح نصیب ہوجائے گی۔ یہ خیال بے محل نہیں تھا، اس لیے کہ کئی برسوں سے مسلمان کم ہوتے ہوئے بھی کئی گنا بڑے لشکروں کو شکستیں دیتے آ رہے تھے جبکہ آج تو وہ خود عرب کی سب سے بڑی فوج تھے۔ سہ پہر کے وقت حضور ﷺ نے پڑاؤ کا حکم دیا اور نمازِ ظہر کی تیاری فرمانے لگے۔ اس دوران مخبر خبرلایا کہ حریف لشکر اپنے مویشیوں کے ریوڑوں سمیت حنین کے پہاڑی علاقے میں ہے اور مورچہ بندی کررہاہے۔ حضور اکرم ﷺ یہ سن کر مسکرائے اور فرمایا: "یہ سب کل مسلمانوں کا مالِ غنیمت بنے گا۔"
دشمن زیادہ دور نہیں تھا اس لیے آپ ﷺ نے شب بیداری سے قبل گھاٹیوں پر گھڑ سوار سپاہیوں کا کڑا پہرہ لگوا دیا تاکہ بنو ہوازن کے چھاپہ مار شب خون نہ مار سکیں۔ یہ ۱۳ شوال کا واقعہ ہے۔
اگلے دن (۱۳ شوال کو) دشمن سے آمنا سامنا ہوگیا۔ ہوازن کے سینکڑوں تیرانداز اس پہاڑی سلسلے کی گھاٹیوں اور غاروں میں گھات لگائے ہوئے تھے۔ جونہی مسلمان ان کی زد پر آئے انہوں نے تیروں کی بارش کردی۔ مسلمان اس حملے کے لیے تیار نہیں تھے، ان میں افراتفری پھیل گئی۔ اس اثناء میں ہوازن کے گھڑسواروں نے بھی ہلہ بول دیا اور اسلامی لشکر ان کے دباؤ کی تاب نہ لاکر درہم برہم ہونے لگا۔ اس وقت حضرت علی بن ابی طالب، حضرت ابوسفیان بن الحارث، حضرت فضل بن عباس، حضرت اسامہ بن زید اور ان کے بھائی حضرت ایمن رضی اللہ عنہم رسول اللہ ﷺ کے جلو میں تھے۔ آپ ﷺ نے یہ صورتحال دیکھی تو بلند آواز سے پکار کر مسلمانوں کو روکنے کی کوشش کی، حضور اکرم ﷺ فرما رہے تھے:
"لوگو! کہاں جا رہے ہو؟ ادھر آؤ! میں اللہ کا رسول ہوں۔"
اس کے ساتھ حضور اکرم ﷺ خود اپنے خچر پر سوار برابر آگے بڑھتے رہے۔حضرت ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ آپ کے خچر کی لگام تھامے ساتھ ساتھ دوڑ رہے تھے۔ حضور ﷺ کی زبان پر یہ رجز تھا:
''أنا النبی لا کذب، أنا ابن عبدالمطلب''
(میں جھوٹا نبی نہیں، میں عبدالمطلب کی اولاد ہوں)۔
حضور اکرم ﷺ کے حکم سے حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے انصارکو پکارا: "اے انصاریو! اے درخت کے نیچے بیعت کرنے والو!" وہ بلند آواز اور دراز قامت تھے، ان کی آواز دور دور تک گونج گئی اور جواب میں مسلمان "لبیک، لبیک" کہہ کر واپس پلٹنے لگے۔ جس کسی کی سواری نے مڑنے میں دیر لگائی، وہ سواری سے کود کر پیدل آپ ﷺ کی طرف دوڑ پڑا۔ جونہی آپ ﷺ کے گرد سو کے لگ بھگ افراد جمع ہوئے، آپ نے انہیں لے کر دشمن پر جوابی حملہ کردیا۔ مسلمان اور کفار آپس میں گڈ مڈ ہوگئے۔ آپ ﷺ نے انہیں ایک دوسرے پر جھپٹتے دیکھ کر فرمایا: "لڑائی کی بھٹی اب گرم ہوئی ہے۔" زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ بنو ہوازن کی ہمت پست ہوگئی۔ ان میں سے بہت سے مارے گئے اور زیادہ تر فرار ہوگئے۔ ان کا رئیس عوف بن مالک بھی بھاگنے میں کامیاب ہوگیا۔ مفرورین کے اونٹوں اوربکریوں کے ریوڑ مسلمانوں کو مالِ غنیمت کے طور پر مل گئے۔
محاصرہ طائف:
بنوہوازِن اور ان کے اتحادیوں کو اگرچہ میدان میں شکست ہوئی مگر اس جنگ کا دوسرا مرحلہ ابھی باقی تھا۔ ہوازن کا سردار عوف بن مالک اپنے لشکر کے باقی ماندہ افراد کے ساتھ پسپا ہوکر "طائف" کے فصیل بند شہر میں مورچہ زن ہوگیا تھا۔ پورے عرب میں یہ محفوظ ترین قلعہ بندی تھی اور پہاڑ پر ہونے کی وجہ سے اس پر حملہ کرنا خاصا مشکل تھا، کیونکہ حملہ آور فصیل کے تیر اندازوں کی زد میں رہتے تھے، جبکہ خود ان کے تیر فصیل پر مورچہ بند لوگوں تک نہیں پہنچ پاتے تھے۔
حضور ﷺ کو اس معرکے کی ان مشکلات کا اندازہ تھا، اس لیے آپ نے غزوہ حنین سے پہلے ہی حضرت عروہ بن مسعود ثقفی اور بعض دوسرے صحابہ کرام کو آلاتِ محاصرہ مثلاً منجنیق اور دبابہ حاصل کرنے اور ان آلات کی تکنیک سیکھنے کے لیے یمن کی اسلحہ ساز بستی "جُرَش" بھیج دیا تھا۔ ابھی تک وہ لوگ فن سیکھ کر واپس نہیں آئے تھے۔ بہرحال دشمن کو زیادہ وقت دینا مناسب نہیں تھا، اس لیے طائف کی طرف کوچ کردیا گیا۔ شہر کے قریب پہنچ کر خیمے لگائے گئے اور صحابہ کرام نے فصیل کا محاصرہ کرلیا۔
نبی اکرم ﷺ نے خونریزی کے امکانات کم سے کم کرنے کے لیے اعلان کرایا کہ شہریوں میں سے جو بھی باہر آجائے، وہ مامون ہوگا۔ جو غلام ہم سے آملیں گے، وہ آزاد شمار ہوں گے۔ اس اعلان پر طائف کے کچھ غلام فرار ہوکر اسلامی لشکرمیں آگئے۔ ان میں سے نُفیع بن مسروح نامی ایک غلام نے چرخہ نما رسی سے لٹک کرنیچے اترنے میں کامیابی حاصل کی اور اسلام قبول کیا۔ چونکہ چرخہ کو عربی میں "بَکرۃ" کہتے ہیں، اس لیے انہیں "ابوبکرہ" کی کنیت سے شہرت ملی۔ نبی اکرم ﷺ نے حسبِ وعدہ انہیں غلامی سے آزاد کردیا۔
جنگ بڑے ہولناک انداز میں چھڑی۔ طائف کے محصورین نے مسلسل تیراندازی کرکے مسلمانوں کو زیادہ آگے نہ بڑھنے دیا۔ کئی مجاہدین زخمی اور شہید ہوگئے۔ مسلمانوں کو مجبوراً پیچھے ہٹ کر اپنی خیمہ گاہ شہر سے دور منتقل کرنا پڑی۔ طائف کا محاصرہ تقریباً تین ہفتوں تک جاری رہا۔ اس دوران عروہ بن مسعود جُرَش سے ایک منجنیق اور دو دبابے لے کر آگئے۔ شہر پر سنگ باری شروع کی گئی۔ اسلام کی تاریخ میں یہ دور مار بھاری ہتھیار کا پہلا استعمال تھا۔ ساتھ ساتھ مجاہدین نے دبابوں کی مدد سے فصیل کے پھاٹک تک پہنچنے کی کوشش بھی کی مگر طائف کے جنگجوؤں نے ایک دبابے کو ناکارہ بنا دیا اور مجاہدین کو تیروں کا نشانہ بنا کر ایک بار پھر پسپائی پر مجبور کردیا گیا۔
حضور ﷺ نے دشمن کی سخت مزاحمت کو دیکھتے ہوئے صحابہ کرام کو واپسی کا مشورہ دیا تھا مگر ابتدا میں وہ شہر فتح کیے بغیر لوٹنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ تاہم جب جانی نقصانات بڑھ گئے اور ایک بار پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "کل ان شاء اللہ تعالی واپسی ہوگی۔" سب نے بخوشی تائید کی، کیونکہ وہ محاصرے سے خود بھی تنگ آ چکے تھے۔
رضاعی بہن شیما رضی اللہ عنہا سے ملاقات:
اس مہم کا میدان اسی علاقے میں تھا جہاں رسول اللہ ﷺ نے اپنی شیر خواری کا زمانہ گزارا تھا۔ دائی حلیمہ کے قبیلے "بنوسعد" نے بھی اس لڑائی میں ہوازن کے شانہ بشانہ حصہ لیا تھا اور اب اس کے مرد و زن بھی قیدی بن چکے تھے، جن میں حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی شیما رضی اللہ عنہا بھی شامل تھیں۔ جب انہوں نے مسلمانوں کو بتانے کی کوشش کی کہ وہ حضور ﷺ کی رضاعی بہن ہیں تو کسی کو یقین نہ آیا۔ آخر انہیں آنحضرت ﷺ کے پاس لایا گیا۔ شیما جن کی عمر اب ۷۰ سال کے قریب تھی، دوبارہ اسی محمد ﷺ کو دیکھ رہی تھیں جسے وہ گود میں لیے طرح طرح سے بہلایا کرتی تھیں۔ درمیان میں ساٹھ برس سے زیادہ طویل زمانہ گزرچکا تھا مگر حضرت محمد ﷺ وہی تھے۔ سب سے الگ، سب سے ممتاز۔ شیما حضور اکرم ﷺ کے سامنے آکر گویا ہوئیں:
حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: "اس کی کوئی نشانی ہے؟"
کہنے لگیں: "کیا یہ نشانی کافی نہیں کہ میں نے آپ کو اٹھائے ہوئے تھی اور آپ نے میری پشت پر کاٹ لیا تھا۔ اس کا نشان موجود ہے۔" حضور ﷺ کو اپنے غیر معمولی حافظے کی بنا پر بچپن کی وہ بات یاد آنے میں دیر نہ لگی۔ آپ ﷺ نے ان کے اعزاز میں اپنی چادر مبارک بچھا کر انہیں پاس بٹھا لیا اور فرمایا: "آپ چاہیں تو میرے ساتھ ہی رہیں۔" انہوں نے اپنی قوم کے ساتھ واپس جانا پسند کیا اور آپ ﷺ نے انہیں ایک غلام اور ایک باندی ہدیے میں دے کر بڑی عزت کے ساتھ رخصت فرمایا۔
حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات اور ان کا اکرام:
طائف سے واپسی پر رسول اللہ ﷺ نے 'جعرانہ' میں قیام کیا۔ یہاں بنو ہوازن کا وفد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس دوران ایک عمر رسیدہ دیہاتی خاتون آتی دکھائی دیں۔ حضور اکرم ﷺ نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا، اپنی چادر مبارک بچھائی اور انہیں ساتھ بٹھا کر نہایت ادب کے ساتھ ان سے گفتگو فرمانے لگے۔ صحابہ نے اتنی عزت افزائی دیکھ کر پوچھا: "یا رسول اللہ! یہ محترمہ کون ہیں؟"
بنو ہوازن کے قیدیوں کی رہائی:
بنو ہوازن کے وفد سے شرفِ باریابی ملا تو انہوں نے اسلام قبول کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ ان کے چھ ہزار قیدی جن میں عورتیں اور بچے بھی تھے، مسلمانوں کی تحویل میں تھے۔ وفد کے ایک رکن ابو بُرقان جو رسول اللہ ﷺ کے رضاعی چچا (تعلق کے لحاظ سے) تھے، انہوں نے درخواست کی کہ انہیں آزاد کر دیا جائے۔
حضور ﷺ نے ان لوگوں کے اسلام قبول کرنے اور اپنے رضاعی رشتوں کے اکرام میں صحابہ سے مشورہ کرکے تمام قیدیوں کو آزاد فرما دیا۔
مالِ غنیمت میں زیادہ تر بھیڑ بکریاں تھیں جو مجاہدین میں تقسیم کردی گئیں۔ آپ ﷺ نے اس میں سے بڑا حصہ ان لوگوں کو دیا جو اسلام کی طرف راغب ہورہے تھے مگر ابھی کلمہ نہیں پڑھا تھا۔ انہیں"مؤلفۃ القلوب" کہا جاتا تھا، یعنی وہ لوگ جن کی دل داری کی جائے۔
غزوہ حنین کا اہم ترین سبق:
غزوہ حنین کا سب سے سبق آموز پہلو، جس کی طرف قرآن مجید میں بطور خاص توجہ دلائی گئی، یہ ہے کہ مسلمانوں کو بھرپور اسبابِ حرب جمع کرنے کی ہر ممکنہ کوشش کے باوجود، کبھی اور کسی حال میں بھی اپنی افواج اور اسلحے پر مغرور نہیں ہونا چاہیے بلکہ اصل اعتماد اور بھروسہ محض اللہ تعالیٰ پر کرنا چاہیے، دعا اور توکل کا ہر لمحہ اہتمام کرنا چاہیے؛ کیونکہ اگر اللہ کا حکم نہ ہو تو بڑی سے بڑی فوج اور زیادہ سے زیادہ اسلحہ جمع کرکے بھی فتح حاصل نہیں کی جاسکتی۔
ابو محذورہ کا قبولِ اسلام:
حنین سے واپسی پر راستے میں وادی جعرانہ میں پڑاؤ ڈالا گیا۔ اس دوران اذان دی گئی تو دراز زلفوں والے ایک مقامی نوجوان ''ابو محذورہ'' نے مذاقاً اس کی نقل اتارنا شروع کردی۔ آواز بلند اور دلکش تھی۔ حضور ﷺ کے کانوں میں یہ آواز پڑی تو اس نوجوان کو بلوا لیا، ڈانٹ ڈپٹ کی بجائے شفقت سے اس کی زلفوں پر ہاتھ پھیرا اور اسے اپنے سامنے دوبارہ اذان کی تلقین کی۔ ابو محذورہ پر اس کا ایسا اثر ہوا کہ اسلام قبول کرلیا۔ حضور ﷺ کی طرف سے ان کو ''مسجد الحرام کا مؤذن'' مقررکردیا گیا۔انہوں نے عمر بھر وہ زلف نہ کاٹی جسے دستِ رسالت مآب ﷺ نے چھوا تھا۔
مکہ سے مدینہ واپسی:
مکہ پہنچ کر عمرے کی ادائیگی کے بعد حضور ﷺ فی الفور مدینہ منورہ روانہ ہو گئے۔ ۲۴ ذوالقعدہ کو مکہ اور حنین کا فاتح لشکر مدینہ منورہ میں داخل ہوا۔ اس طویل مہم میں دو ماہ سولہ دن خرچ ہوئے۔ آپ ﷺ کی عدم موجودگی میں مدینہ کے امیر حضرت ابو رُہم کلثوم بن حصین انصاری رضی اللہ عنہ رہے۔
عَتّاب بن اَسِید کی قیادت میں حج:
حضور ﷺ نے مکہ کے ایک قریشی نوجوان عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مکہ اور مضافات کا حاکم مقرر کردیا تھا۔ ان کی عمر فقط ۲۱ سال تھی مگر وہ نہایت عابد وزاہد اور باصلاحیت نوجوان تھے۔
فتح مکہ کے تین ماہ بعد حج انہی کی امارت میں ادا ہوا جو حسبِ معمول مکی ذوالحجہ میں تھا۔ ابھی مشرکین کو حج سے منع نہیں کیا گیا تھا؛ کیونکہ اسلام کا مزاج تدریجی اصلاح کا ہے۔ چنانچہ مشرکین حسبِ معمول اپنی تمام رسوم کے ساتھ اس میں شریک ہوئے۔

