فتحِ مکہ (رمضان 8 ہجری)
صلحِ حدیبیہ کے خاتمے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی سرعت سے جنگ کی تیاری شروع کردی اور پوری کوشش کی کہ یہ خبر مکہ والوں کو نہ ملنے پائے۔ راز داری کی انتہا یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کو سفر کا سامان تیار کرنے کا حکم تو دیا مگر یہ نہ بتایا کہ کہاں کا سفر ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ یکدم مکہ والوں کے سروں پر جا پہنچیں تاکہ وہ مقابلہ نہ کرسکیں اور یوں مکہ کی مقدس سرزمین کسی خون ریزی کے بغیر اپنے اصل وارثوں کو واپس مل جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں خصوصی دعائیں کیں اور فرمایا:
"یا اللہ! قریش کا کوئی مخبر اپنا کام نہ کر پائے اور ہم اچانک ان تک پہنچ جائیں۔"
جب سفر کی تیاری مکمل ہوگئی تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کو آگاہ فرمایا کہ ہم کس طرف جانے والے ہیں۔
اس موقع پرایک مخلص مسلمان حاطب بن ابی بلتعہؓ نے ایک عورت کےذریعے قریش کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی لشکر کشی کا اطلاعی رقعہ روانہ کردیا۔ یہ ایک سنگین غلطی تھی جو کسی اور سے سرزد ہوتی تو اس پر نفاق کا شبہ کیا جاتا مگر حضرت حاطبؓ مخلص اور پرانے صحابی تھے، اس اضطرابی حرکت کی وجہ صرف یہ تھی کہ مکہ میں ان کے اہل و عیال بے سہارا تھے، کوئی اور رشتہ دار وہاں ان کا حمایتی نہ تھا۔ انہیں خطرہ ہوا کہ کہیں قریش مسلمانوں کو حملہ کرتے دیکھ کر میرے بیوی بچوں کو یرغمال نہ بنالیں۔ اس لیے قریش سے یہ بھلائی کرکے وہ اپنے اہل وعیال کے حق میں ان کے نیک سلوک کے مستحق بننا چاہتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس کی اطلاع دے دی۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ، حضرت زبیرؓ اور حضرت مقداد بن اسودؓ کو اس عورت کے پیچھے بھیجا۔ انہوں نے سرپٹ گھوڑے دوڑا کر مدینہ کے مضافاتی مقام "روضۂ خاخ"میں اسے جالیا اور حضرت حاطبؓ کا رقعہ برآمد کرلیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حاطبؓ سے پوچھا تو انہوں نے مکہ میں اپنے اہل و عیال کے بے آسرا ہونے کا عذر بیان کیا اور کہا:
"مکہ میں میرے اہل وعیال کا کوئی قرابت دار نہیں۔ میں نے چاہا کہ مکہ والوں پر کوئی احسان کردوں تاکہ وہ میرے قرابت داروں کا لحاظ رکھیں۔"
حضرت عمرؓ نے اس عذر کو تسلی بخش نہ سمجھا اور غضب ناک ہوکر کہا: "یا رسول اللہ! اجازت دیں تو میں اس منافق کی گردن اڑا دوں؟"مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت حاطبؓ کی سابقہ خدمات خصوصاً غزوۂ بدر میں ان کی شرکت کو ملحوظ رکھتے ہوئے عذر قبول کرکے انہیں معاف کردیا اور حضرت عمرؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا:
"تمہیں کیا معلوم کہ اللہ نے اہلِ بدر کی طرف توجہ فرما کر کہا تھا کہ جو چاہو کرو، میں تمہاری بخشش کرچکا ہوں۔''
مکہ کی سمت یلغار:
آخرکار حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دس ہزار سرفروشوں کے لشکرِ جرار کے ساتھ ۱۰رمضان المبارک سن ۸ ہجری کو مدینہ سے کوچ کیا۔ یہ سفر شدید گرمی کے موسم میں تھا۔ رمضان کے روزے بھی تھے۔ سفر کی رفتار بھی دوگنی رکھی گئی تھی۔ چونکہ مسافر کو روزہ نہ رکھنے کی شرعی رخصت ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ روزے نہ رکھیں۔ آپ نے فرمایا: "اپنے دشمن کے مقابلے میں قوی رہو۔"مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود عزیمت پر عمل پیرا ہوکر روزہ دار تھے۔
تاہم بعض صحابہ آپ کی طرف سے افطار کے حکم کے باوجود روزے رکھتے رہے۔ انہیں گوارا نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر مشقت میں ہوں اور وہ کھاتے پیتے رہیں۔ جب ''العرج'' کے مقام پر پڑاؤ ڈالا گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پیاس یا تپش کی وجہ سے سر پر پانی ڈالنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مشقت دیکھ کر بعض صحابہ نے چاہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم افطار کرلیں۔ انہوں نے عرض کیا:
"یا رسول اللہ! آپ نے روزہ رکھا ہے تو بعض لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہوا ہے۔"
تاہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھتے رہے مگر جب مکہ 90 کلومیٹر دور رہ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے "کدید" کے نخلستان میں پڑاؤ ڈالا اور سب کے سامنے ایک پیالہ پانی منگواکر نوش فرمایا۔ یہ دیکھ کر سب لوگوں نے روزے رکھنا چھوڑدیے۔
حضرت عباسؓ سے ملاقات:
لشکر کی نقل و حرکت اتنی خاموش اور تیز تھی کہ قریش کو آخر تک کچھ پتا نہ چلا اور مسلمانوں نے دو ہفتوں کی مسافت صرف ایک ہفتے میں طے کرلی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ''حضرت عباسؓ'' بھی آپ کی روانگی سے بے خبر تھے اور اپنے اہل وعیال کو لے کر ہجرت کے ارادے سے نکل پڑے تھے۔ مکہ سے ۸۲ میل دور ''جحفہ'' کے مقام پر انہیں مسلمانوں کا عظیم لشکر نظر آیا تو حیران رہ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ کر بے حد خوش ہوئے اور انہیں ہم رکاب فرمالیا۔
ابوسفیان بن الحارث مسلمان ہوگئے:
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے قریب "مرّالظہران" پہنچ کر پڑاؤ ڈالا۔ جب قریش کو ہوش آیا تو وہ مکہ کے دروازوں پر اتنی بڑی فوج دیکھ کر سراسیمہ ہوگئے۔ یہاں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ قریش کے متعصب اور سرکردہ لوگوں میں سے دو افراد نے اسلام قبول کر لیا، دونوں "ابوسفیان" تھے۔ ایک ابوسفیان بن حرب، دوسرے ابوسفیان بن الحارث۔
ابوسفیان بن الحارث بنوہاشم کے ممتاز رکن اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد تھے۔ بچپن اور جوانی کے دوست تھے۔ شاعری میں بھی انہیں کمال حاصل تھا مگر انہوں نے شانِ رسالت میں نازیبا اشعار کہہ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو بڑا دکھ پہنچایا تھا۔ تاہم اب ان کے دل میں اسلام کی سچائی کا یقین گھر کرگیا تھا۔ انہیں اپنے ماضی پر اتنی ندامت ہوئی کہ دل بھر آیا اور وہ اپنے ایک کم سن بچے کو ساتھ لیے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خیمہ گاہ میں حاضر ہوئے۔ آپ کو ان کی آمد کی اطلاع ملی تو ان کے دیے ہوئے زخم یاد آگئے، آپ نے فرمایا: "میں ملنا نہیں چاہتا۔"
انہیں معلوم ہوا تو بے تاب ہو کر کہنے لگے: "اللہ کی قسم! اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ملنے کی اجازت نہ دی تو میں اپنے چھوٹے بچے کا ہاتھ تھام کر کسی صحرا میں نکل جاؤں گا اور ہم وہیں بھوکے پیاسے مرجائیں گے۔"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات بتائی گئی تو تڑپ اٹھے، انہیں بلایا اور مشرف بہ اسلام فرمایا۔ ابوسفیان بن الحارثؓ اب اپنے ماضی کی کوتاہیوں کی تلافی کرنے کے لیے بے چین تھے۔
ابوسفیان بن حرب کا قبولِ اسلام:
ادھر ابوسفیان بن حرب جو قریش کے سب سے جری اور نامور سردار تھے، دو ساتھیوں کے ہمراہ لشکرِ اسلام کا جائزہ لینے کے لیے نکلے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مسلمانوں نے اپنے خیموں کے سامنے الاؤ روشن کر رکھے تھے، مکہ والے دور سے سینکڑوں روشنیاں جگمگاتی دیکھ کر مرعوب ہو رہے تھے۔ ابوسفیان بن حرب بھی یہ منظر دیکھ کر بے ساختہ پکار اٹھے: "ایسا لشکر اورایسی روشنیاں میں نے زندگی بھر نہیں دیکھیں۔" ان کی بلند آواز رات کے سناٹے میں دور تک گئی۔ حضرت عباسؓ جو اب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر میں شامل تھے، اپنے خچر پر قریب ہی گشت کررہے تھے۔ انہوں نے تاریکی میں آواز پہچان لی اور بولے:"ارے اللہ کے بندے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار مسلمانوں کے ساتھ آچکے ہیں۔ آج تم ان سے مقابلے کی تاب نہیں رکھتے۔"ابوسفیان بولے:"بچنے کی کوئی صورت؟"
حضرت عباسؓ جانتے تھے کہ اگر کسی مسلمان نے ابوسفیان کو دیکھ لیا تو ان کا بچنا مشکل ہوجائے گا۔ اس لیے فوراً ابوسفیان کو اپنے خچر پر ساتھ بٹھا لیا اور اسے سرپٹ دوڑا کر لشکر کے مختلف حصوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے سیدھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گئے۔ ادھر حضرت عمر فاروقؓ بھی پیچھے پیچھے آئے اور اجازت مانگنے لگے کہ دشمنوں کے سردار کا سر قلم کردیا جائے۔ مگرحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوسفیان جیسے دشمن کو بھی کامیاب دیکھنا چاہتے تھے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دعوتِ اسلام دیتے ہوئے فرمایا:
"ابوسفیان! کیا اب بھی وقت نہیں آیا کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟"
ابوسفیان یہ سلوک دیکھ کر پسیج گئے۔ بولے:"میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ کیسے مہربان، کتنے دریا دل اور کتنے با مروت ہیں۔ اللہ کی قسم! میں سمجھ گیا ہوں کہ اگر اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتا تو آج میرے کام ضرور آتا۔"
گویا ابوسفیان کو مسئلۂ توحید سمجھ آگیا تھا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چاہا کہ اب وہ اپنی زبان سے کلمہ شہادت پڑھ لیں اور توحید و رسالت دونوں کا اقرار کریں۔ اسی لیے فرمایا:
"اورکیا اب تک اس بات کا وقت نہیں آیا کہ تم مان لو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟"
ابوسفیان بولے:"بلاشبہ آپ رحیم و کریم ہیں مگر اس معاملے میں ابھی تک مجھے کچھ تردد ہے۔"
حضرت عباسؓ ساتھ کھڑے یہ سب دیکھ رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ابوسفیان پر حقیقت واضح ہوچکی ہے مگر صرف ایک رئیسانہ نخوت انہیں اللہ کی غلامی اور بارگاہِ رسالت کی حلقہ بگوشی سے روک رہی ہے، انہوں نے فوراً اس شیطانی وسوسے کو دور کرنے کے لیے کہا:
"اللہ کے بندے! اس سے پہلے کہ تمہاری گردن اڑا دی جائے اسلام قبول کرلو۔"
یہ نسخہ کارگر ثابت ہوا۔ ابوسفیان تمام وسوسوں کو جھٹک کر اسلام لے آئے۔اس موقع پر حضرت عباسؓ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوسفیان بن حربؓ کو کوئی اعزاز دینے کی سفارش کی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"کیوں نہیں! جو شخص ابوسفیان کے گھر میں پناہ لے وہ مامون ہے، جو حرم شریف میں پناہ لے وہ بھی مامون ہے اور جو اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے وہ بھی مامون ہے۔"
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشکش اس لیے فرمائی تاکہ مکہ کے لوگ عدم تحفظ کا شکار ہوکر لڑنے بھڑنے کی کوشش نہ کریں؛ کیوں کہ بعض اوقات خوف بھی انسان کو حملے پر مجبور کردیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کے لیے امن کی عملی صورتیں مہیا فرماکر اس کا انتظام کردیا کہ مسلمان کسی مزاحمت کا سامنا کیے بغیر مکہ میں داخل ہوجائیں اور مقدس زمین خون ریزی سے پاک رہے۔
لشکرِ اسلام کا نظارہ:
۱۷ رمضان ۸ھ (جنوری۶۳۰ء) جب اسلامی لشکرمکہ میں داخل ہونے کے لیے تیار ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت عباس رضی اللہ عنہ، ابوسفیان بن حرب کو لے کر لشکر کے راستے میں ایک پہاڑی کی گھاٹی پر کھڑے ہوگئے تاکہ وہ انہیں پورے لشکر کا نظارہ کراسکیں۔
تھوڑی دیر بعد اسلامی لشکر کے مختلف دستے اپنے اپنے قبائل کے پرچموں کے ساتھ ان کے سامنے سے گزرنے لگے۔ ابوسفیان ہر دستے کو دیکھ کر پوچھتے: "یہ کن کا دستہ ہے؟" حضرت عباس جس قبیلے کا نام بتاتے تو ابوسفیان کہتے: "ان سے میرا کیا غرض؟" آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین وانصار کے آہن پوش لشکر کے ساتھ تشریف لائے۔ حضرت عباس نے ابوسفیان کو بتایا تو وہ بولے:
"بھلا ان کا کون مقابلہ کرسکتا ہے؟عباس! تمہارا بھتیجا تو بہت بڑا بادشاہ بن گیا ہے۔"
حضرت عباس بولے: "اللہ کے بندے! یہ بادشاہت نہیں، نبوت ہے۔"
ابوسفیان اس کے بعد تیزی سے اہلِ مکہ کے پاس پہنچے اور اعلان کردیا کہ جو میرے گھر میں آجائے یا اپنے گھر میں بند ہوکر بیٹھ جائے یا حرم میں چلا جائے وہ مامون رہے گا۔ لوگوں نے اس پیشکش سے فائدہ اٹھانے میں دیر نہ لگائی، تاہم صفوان بن امیہ اورکچھ لوگوں نے اپنے طور پر مکہ میں داخل ہونے والے اس دستے سے مزاحمت کی جو حضرت خالد بن ولید کی قیادت میں تھا، حضرت خالد نے جوابی حملہ کیا تو چند لوگ مارے گئے اور باقی بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس جھڑپ کے سوا امن وامان کے خلاف کوئی بات نہ ہوئی۔
مکہ میں فاتحانہ داخلہ:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ معظمہ میں داخل ہوئے تو گزشتہ زمانے کا ایک ایک منظر آپ کے سامنے تھا۔ یہی وہ سرزمین تھی جہاں آپ پیدا ہوئے، پلے بڑھے، عزت و احترام کے ساتھ جوانی گزاری، پھر منصبِ نبوت ملنے پر اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے اٹھے اور پورے شہرکی دشمنی مول لی۔ قریش کا ایک ایک ظلم و ستم آپ کو یاد تھا جس کی انتہا ہوئی کہ آپ کو اپنے پیروکاروں کے ساتھ جلاوطنی پر مجبور ہونا پڑا۔ آج وہی شہرآپ کے سامنے سرنگوں تھا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی بڑی فتح کے باوجود دنیا کے دوسرے کسی فاتح کی طرح سرشاری اورفخرکی کیفیت میں نہیں تھے۔آپ اللہ کے حضورمیں عجزونیاز کی تصویر بنے ہوئے تھے، احساسِ شکر سے آپ کا سرمبارک سواری کی زین سے لگا جاتا تھا۔
رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے حرم میں تشریف لائے اور سواری پر ہی اس کا طواف کیا۔ آپ کے ہاتھ مبارک میں ایک چھڑی تھی، طواف کے دوران آپ کعبہ کے صحن میں نصب بتوں کی طرف چھڑی سے اشارہ کرتے گئے اور بت زمین بوس ہوتے چلے گئے۔ اس وقت آپ کی زبانِ مبارک پر یہ آیات تھیں:
"جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقاً"
(حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے کے لیے ہی ہے)۔
اس کے بعد کعبہ کے کلید بردار عثمان بن طلحہ سے چابیاں لے کرکعبہ کا دروازہ کھلوایا۔ اندر دیواروں پرمشرکین کی بنائی ہوئی حضرت ابراہیمؑ اور فرشتوں کی تصویریں نظر آئیں۔ آپ کے حکم سے صحابہ نے ان تصویروں کو مٹا دیا۔ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز ادا فرمائی۔ قریش کے لوگ کعبہ کے صحن میں جمع تھے۔ رحمتِ عالم کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہوکر ان سے مخاطب ہوئے:
"اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی اور تمام لشکروں کو تنہا شکست دی۔ آج زمانۂ جاہلیت کا ہرفخر اور خونریزی میرے قدموں تلے ہے۔ قریش کے لوگو! اللہ نے تمہارے جاہلیت پرمبنی غروروپندار کو توڑدیا۔ سب لوگ آدم کی اولاد ہیں اورآدم مٹی سے بنے تھے۔"
مختصر سے خطبے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے سرداروں سے دریافت کیا: "بتاؤ، آج میں تم سے کیا سلوک کروں؟" سردارانِ قریش کو اپنا ایک ایک جرم یاد تھا مگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رحم کی اُمید کرسکتے تھے،وہ التجاء کے اندازمیں بولے:"بھلائی کا سلوک فرمائیے۔ آپ ایک مہربان بھائی اور مہربان بھائی کے فرزند ہیں۔"
جان لینے والے، جان دینے والے بن گئے:
قریش کے پُرجوش جوانوں میں اب بھی کچھ ایسے تھے جنہیں اسلام لانے میں تردد تھا مگرحقیقت سے کب تک آنکھیں چرائی جاسکتی ہیں۔ پھرحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حد سے زیادہ فیاضانہ سلوک بھی ان کے سامنے تھا، اس لیے زیادہ دن نہیں گزرنے پائے تھے کہ تقریباً سب ہی ایمان لے آئے۔ ان میں سے ایک فضالہ بن عمیر تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پرقاتلانہ حملے کی نیت سے نکلے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کعبہ کا طواف کررہے تھے، یہ قریب پہنچے ہی تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود انہیں مخاطب کرکے پوچھا:
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: "دل میں کیا سوچ کرآئے ہو؟"
یہ گھبرا کربولے: "جی کچھ نہیں۔"
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دیے اورفرمایا: "اللہ سے معافی مانگو۔" یہ کہہ کر بڑی شفقت سے ان کے سینے پر ہاتھ پھیرا۔ ان کا دھڑکتا ہوا دل پرسکون ہوگیا۔ ساتھ ہی ذہنی کیفیت بالکل بدل گئی اورحضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس شدت سے دل میں جاگزیں ہوگئی کہ آپ سے پیارا کوئی نہ رہا۔
ان میں ابوسفیان بن حرب کی بیوی ہند بنت عتبہ بھی تھیں جنہوں نے شروع میں اپنے شوہر کے اسلام لانے پر ان سے سخت جھگڑا کیا تھا مگر رات کو جب حرم میں عبادت کرنے والے مسلمانوں کی گریہ و زاری سنی تو ان کے دل نے گواہی دی کہ یہ لوگ واقعی حقیقی معبود کی عبادت کررہے ہیں، چنانچہ وہ اسلام لے آئیں۔
ان میں صفوان بن امیہ بھی تھے، جنہوں نے مکہ میں فاتحانہ داخلے کے موقع پر مسلح مزاحمت کی تھی اور اس کوشش میں ناکامی کے بعد رنج، نفرت اورغصے سے بے قابو ہوکر جدہ کی بندرگاہ کی طرف روانہ ہوگئے تھے۔ان کے پرانے دوست عمیربن وہب نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے لیے خصوصی امان حاصل کی اوران کے پیچھے گئے۔اس سے پہلے کہ صفوان کسی بحری جہاز یا کشتی میں سوار ہوتے،عمیر ان تک پہنچ گئے اور بولے:
"میرے عزیز دوست! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تمہیں امان کی خوشخبری ہو، اب خود کو ہلاکت میں مت ڈالو۔"
صفوان نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "مجھے قتل کردیے جانے کا خوف ہے۔"
حضرت عمیر نے کہا: "حضور صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری سوچ سے کہیں زیادہ بلند اور زیادہ مہربان ہیں۔"
غرض عمیر بن وہب صفوان کو واپس لانے میں کامیاب ہوگئے۔ صفوان خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے تو اسلام قبول کرنے سے پہلے سوچ بچار کے لیے دو ماہ کی مہلت طلب کی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے چار ماہ کی مہلت دے دی۔ صفوان غوروفکرکرتے رہے اور آخر غزوۂ حنین کے بعد ایمان لے آئے۔
عکرمہ بن ابی جہل یمن کی طرف فرار ہوئے مگر کشتی طوفان میں گھر گئی۔ سب کے منہ سے نکلا: "فقط اللہ کو پکارو، دوسرے معبود یہاں کام نہیں آتے۔" عکرمہ نے عزم کرلیا کہ اگر جان بچ گئی تو اسلام قبول کرلوں گا۔ آخر کشتی یمن کے ساحل سے جا لگی۔ اس دوران عکرمہ کی بیوی امِ حکیم (جو اسلام لاچکی تھیں) ان کے پیچھے یمن پہنچ گئیں اور اطمینان دلاکر واپس لے آئیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر استقبال کیا۔ عکرمہ مشرف بہ اسلام ہوکر جانباز مجاہد ثابت ہوئے۔
جینا مرنا ساتھ ہے:
اللہ کا گھر شرک کی علامتوں سے پاک ہوچکا تھا، حرم کو توحید کا مرکز ہونے کا اعزاز واپس مل چکا تھا۔ قریش کے بڑے بڑے رئیس اور اسلام کی مخالفت میں پیش پیش رہنے والے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کررہے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اب اپنے وطن مکہ والوں کے بھی سردار تھے۔ ایسے میں اگر یہ خیال کیاجاتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اب مکہ مکرمہ ہی میں قیام فرمائیں گے اور اس کو اسلامی ریاست کا مرکز قراردیں گے تو کوئی عجیب بات نہ تھی۔ انصار کے کچھ لوگ یہی باتیں کر رہے تھے کیونکہ ان کو مسلسل یہ دھڑکا لگا ہوا تھا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم صفا پہاڑی پر دعاؤں میں مصروف تھے اور انصار کی نگاہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرجمی ہوئی تھیں کہ دیکھیے آپ اس معاملے میں کیا فیصلہ فرماتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے ان کے خدشات کی خبر مل گئی تھی، اس لیے دعا سے فارغ ہوکر ان سے دریافت فرمایا: "تم کیا کہہ رہے تھے؟ "وہ بولے:"کچھ نہیں یا رسول اللہ!"
مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصرارکیا تو انہوں نے دھڑکتے دلوں کے ساتھ اپنی تشویش سے آپ کو آگاہ کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ان جاں نثاروں کی حوصلہ شکنی کیسے کرسکتے تھے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے محبت کی گرم جوشی کے ساتھ فرمایا:
"اللہ کی پناہ، ایسا نہیں ہوسکتا(المحيا محياكم والممات مماتكم) جینا مرنا تمہارے ساتھ ہے۔"
فتح مکہ کے فوراً بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گرد و نواح کی تسخیر اور شرک کے قدیم مراکز کو منہدم کرانے پر توجہ دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے حضرت خالد بن ولید نے "نخلہ" کے مقام پر واقع عُزیٰ کے بت کدے کو تہہ و بالا کردیا۔

